بلوچستان کے علاقے مستونگ میں پاکستانی سیکورٹی فورسز نے ایک شخص کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے جبکہ سے ایک لاش برآمد ہوگئی ہے۔
ضلع مستونگ کے علاقے کردگاپ میں 28 جون کی رات فورسز نے کردگاپ کے علاقے میں واقعہ عبدالمطلب سرپرہ کے گھر پر چھاپہ مار کرگھر میں توڑ پھوڑ کی گھر میں موجود افراد کو زدوکوب کیا۔
ذرائع کے مطابق گھر پر چھاپہ کے دؤران فورسز ایک نوجوان کو زبردستی اپنے ہمراہ لے گئے تاہم نوجوان کا نام معلوم نہیں ہوسکا ہے۔
یاد رہے گزشتہ سال 24 دسمبر کی رات بھی فورسز نے عبدالمطلب سرپرہ کے گھر پر چھاپہ مارتے ہوئے مذکورہ شخص کے دو بھائیوں کو حراست میں لینے کے بعد بعد اپنے ہمراہ لے گئے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ اس سے قبل حراست بعد لاپتہ ہونے والے افراد بعد میں بازیاب ہوئے تھیں تاہم گزشہ روز لاپتہ ہونے والا نوجوان تاحال منظر عام پر نہیں آسکا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان کی دارلحکومت کوئٹہ کے علاقے جناح روڈ سے ایک نامعلوم شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے۔
بدھ کوکوئٹہ کے علاقے جناح روڈ سے پولیس نے ایک نامعلوم شخص کی نعش قبضے میں لیکر ہسپتال پہنچادی ہے۔
پولیس کے مطابق لاش کی حالت سے لگ رہا ہے کہ وہ نشے کا عادی تھا۔
پولیس نے نعش ضروری کارروائی کی بعد شناخت کیلئے ہسپتال کے مردہ خانے میں رکھ دی۔