جبری گمشدگیوں پر ریاست کو ایک دن جوابدہ ہونا پڑیگا، سمی دین بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستانی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار بی این ایم کے رہنما ڈاکٹردین محمد بلوچ کی صاحبزادی سمی دین بلوچ نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے سلسلہ وار ٹویٹ میں لکھا ہے کہ آج میرے بابا ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی جبری گمشدگی کو تیرہ سال مکمل ہوگئے ہیں۔ جنھیں خضدار کے علاقے اورناچ سے رات کو بطور ڈاکٹر ڈیوٹی کے دوران مسلح اہلکار تشدد کرکے گھسٹتے ہوئے اپنے ساتھ لے کر گئے تھے۔ ہمیں نہیں پتا کہ بابانے تیرہ سال اذیت گاہ میں کیسے گزارے ہیں، ان پرکیا گزری ہے؟۔

https://twitter.com/SammiBaluch/status/1541674817992200194

بلکہ ایک بیوی سے اس کا شوہر، ایک ماں سے اس کا بیٹا، بھائیوں سے ایک بھائی کو چھینا گیا ہے۔ اور ان جرائم پر ان انسانی حقوق کی بدترین اقسام میں سے ایک جبری گمشدگی پر کھبی نہ کھبی اس ریاست کو جوابدہ ہونا پڑے گا اور ہم اس درد تکلیف کوکھبی نہیں بھول سکتے، اس بھیانک خواب کو جو آج ہماری رگوں تک اترچکی ہے۔

ہماری زندگیوں کی ویرانی، ہمارا بچپن، ہمارے خواب، سب اذیت گاہ میں اذیت ناک دن گزار چکے ہیں۔ نہیں چاہتی کوئی اور سمی مہلب بنے، کسی بیٹی سے اسکا بچپن اور والدکی شفقت چھینی جائے، خواہ اس کا تعلق پنجابی خاندان سے ہو پشتون، مہاجر یا سندھی ہو یا پھر بلوچ۔ ریاست کو اب یہ غیرانسانی غیراخلاقی عمل کو روکنا ہوگا۔

Share This Article
Leave a Comment