پاکستانی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار بی این ایم کے رہنما ڈاکٹردین محمد بلوچ کی صاحبزادی سمی دین بلوچ نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے سلسلہ وار ٹویٹ میں لکھا ہے کہ آج میرے بابا ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی جبری گمشدگی کو تیرہ سال مکمل ہوگئے ہیں۔ جنھیں خضدار کے علاقے اورناچ سے رات کو بطور ڈاکٹر ڈیوٹی کے دوران مسلح اہلکار تشدد کرکے گھسٹتے ہوئے اپنے ساتھ لے کر گئے تھے۔ ہمیں نہیں پتا کہ بابانے تیرہ سال اذیت گاہ میں کیسے گزارے ہیں، ان پرکیا گزری ہے؟۔
بلکہ ایک بیوی سے اس کا شوہر، ایک ماں سے اس کا بیٹا، بھائیوں سے ایک بھائی کو چھینا گیا ہے۔ اور ان جرائم پر ان انسانی حقوق کی بدترین اقسام میں سے ایک جبری گمشدگی پر کھبی نہ کھبی اس ریاست کو جوابدہ ہونا پڑے گا اور ہم اس درد تکلیف کوکھبی نہیں بھول سکتے، اس بھیانک خواب کو جو آج ہماری رگوں تک اترچکی ہے۔
ہماری زندگیوں کی ویرانی، ہمارا بچپن، ہمارے خواب، سب اذیت گاہ میں اذیت ناک دن گزار چکے ہیں۔ نہیں چاہتی کوئی اور سمی مہلب بنے، کسی بیٹی سے اسکا بچپن اور والدکی شفقت چھینی جائے، خواہ اس کا تعلق پنجابی خاندان سے ہو پشتون، مہاجر یا سندھی ہو یا پھر بلوچ۔ ریاست کو اب یہ غیرانسانی غیراخلاقی عمل کو روکنا ہوگا۔