بدھ کو 100طالبان قیدیوں کو رہا کیا جائیگا ، ترجمان طالبان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

افغان حکومت رواں ہفتے اعتماد بحال کرنے کے لیے چند طالبان قیدیوں کو رہا کرے گی تاکہ امریکا اور طالبان کے درمیان 2 دہائیوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے امن معاہدے کو کامیاب بنایا جاسکے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق 3 رکنی طالبان کی ٹیم نے کورونا وائرس کی وجہ سے ملک گیر لاک ڈاون کے باوجود کابل پہنچ کر افغان حکام سے ملاقات کیا اور قیدیوں کے تبادلے کا آغاز کیا۔

امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے امن مرحلے میں آگے بڑھنے کے لیے ایک ہفتے قبل قطر میں طالبان اور افغان حکام سے ملاقات کے بعد ہونے والی اس پیش رفت کو ’اچھی خبر‘ قرار دیا۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ بدھ کے روز کم از کم 100 طالبان قیدیوں کو رہا کیا جائے گا جو افغان حکومت اور طالبان کے درمیان 6 ہزار قیدیوں کے تبادلے کا پہلا قدم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایک سو قیدیوں کو پہلے مرحلے میں رہا کیا جائے گا اور پھر دونوں جانب سے دیکھا جائے گا کہ ایک روز میں سو قیدیوں کو چھوڑا جانا ٹھیک رہے گا یا نہیں‘۔

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ رہائی کی تکنیکیوں اور اور ان قیدیوں کے میڈیکل چیک اپ سے متعلق بات چیت جاری ہے جبکہ کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاﺅن نے چیلنج میں اضافہ کردیا ہے۔

طالبان ٹرانپسپورٹ کے انتظامات کر رہے ہیں تاکہ اس بات کی یقین دہانی کرائی جاسکے کہ افغان جیل سے رہائی پانے والے بزرگ اور بیمار افراد کا ان کے اہلخانہ ہی استقبال کریں۔

ملک نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ترجمان جاوید فیصل نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ قیدیوں کے تبادلے پر دونوں جانب سے ’آمنے سامنے بحث‘ کی جارہی ہے۔

ان مذاکرات پر این ایس سی کا کہنا تھا کہ ’دونوں جانب سے آمنے سامنے افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی فورس کے اہلکاروں سمیت طالبان قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں‘۔

2001 میں امریکا کی مداخلت سے ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ طالبان کو حکومت سے براہ راست ملاقات کے لیے کابل مدعو کیا گیا۔

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ’تکنیکی ٹیم‘ کابل میں قیدیوں کے تبادلے پر کام کرنے کے لیے ہے اور اضافی مذاکرات کے لیے نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ان قیدیوں ہی کو رہا کیا جانا چاہیے جن کے نام فہرست میں ہیںِ، اس ہی لیے ہماری تکنیکی ٹیم وہاں گئی ہے، یہ مذاکرات نہیں اور وہاں کوئی سیاست نہیں ہوگی‘۔

Share This Article
Leave a Comment