امریکا کایوکرین میں روسی ناکہ بندی میں پھنسے 20 ملین اناج مارکیٹ میں لانیکا منصوبہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

امریکی صدر جو بائیڈن نے منگل کے روز بحیرہ اسود کی بندرگاہوں کی روسی ناکہ بندی میں پھنسے ہوئے اناج کی برآمد میں سہولت فراہم کرنے کے لیے یوکرین کی سرحدوں پر سائلو تعمیر کرنے کے مغربی منصوبے کا انکشاف کیا۔

بائیڈن نے روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کوامریکہ میں خوراک کی بلند قیمتوں کا ذمہ دار ٹھہرایا اور متنبہ کیا کہ عالمی منڈیوں میں یوکرائنی گندم کو مزید پہنچانے میں مدد کے لیے نئے انفراسٹرکچر کے منصوبے میں ”وقت لگ رہا ہے۔”

بائیڈن نے کہا کہ وہ امریکہ کے یورپی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ یوکرین میں بند 20 ملین ٹن اناج کو مارکیٹ میں لایا جا سکے تاکہ خوراک کی قیمتوں میں کمی لائی جا سکے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ایجنسی فرانس پریس کے مطابق بائیڈن امریکی شہر فلاڈیلفیا میں ٹریڈ یونین کے کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔

یوکرین نے کہا ہے کہ اس نے پولینڈ اور رومانیہ کے ذریعے اناج کی برآمد اور خوراک کے عالمی بحران سے بچنے کے لیے دو راستے قائم کیے ہیں، جبکہ رکاوٹوں نے سپلائی چین کو سست کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نائب وزیر خارجہ ڈیمیٹرو سینک نے کہا کہ عالمی خوراک کی سلامتی خطرے میں ہے کیونکہ روس کے یوکرین پر حملے نے کیف کے بحیرہ اسود سے اناج کی برآمدات روک دی ہیں، جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر قلت اور قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔

خیال رہے کہ یوکرین اناج برآمد کرنے والا دنیا کا چوتھا سب سے بڑا ملک ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین کے زیر قبضہ علاقے میں تقریباً 30 ملین ٹن اناج ذخیرہ ہے جسے وہ سڑک، دریا اور ریل کے ذریعے برآمد کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment