تفتان میں انفیکشن کے خاتمے کیلئے تمام افراد کی اسکریننگ کا فیصلہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

مقامی حکام نے تافتان کے علاقے کو انفیکشن سے پاک اور روزانہ کی بنیاد پر کمانے والے تمام مقامی افراد کی کورونا کی اسکریننگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان افراد کو ایران سے بذریعہ تفتان پاکستان میں داخل ہونے والے پاکستانیوں کو سہولیات کی فراہمی میں انتظامیہ کی مدد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

یہ فیصلہ پیر کو تفتان میں ٹاو¿ن کمیٹی ریسٹ ہاو¿س میں منعقدہ اجلاس میں کیا گیا، کورونا وائرس کی روک تھام سے متعلق بلوچستان حکومت کے فوکل پرسن میر عمیر محمد حسنی کی زیر صدارت اجلاس میں منعقد ہوا جس میں مواصلات و تعمیرات کے سیکریٹری نور الامین مینگل، رخشان ڈویژن کے کمشنر ایاز مندوخیل، چاغی کے ڈپٹی کمشنر آغا شیر زمان، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جاوید ڈومکی، تفتان کھے اسسٹنٹ کمشنر محمد وارث، فرنٹیئر کور تفتان رائفلز کے ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل وقار احمد اور دیگر نے شرکت کی۔

اجلاس میں تفتان بارڈر اور کورونا وائرس کے پھیلاو¿ سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا، اس میں قرنطینہ مراکز، صحت کی دیکھ بھال، تحفظ اور صفائی ستھرائی سے متعلق امور کے بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، اجلاس میں تفتان اور گردونواح میں کووڈ۔19 کی مقامی ترسیل کو روکنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

عمیر محمد حسنی نے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت کی کہ وہ تفتان شہر کے تمام رہائشی علاقوں میں اسپرے کرنے کے انتظامات کریں تاکہ ان کو جراثیم سے پاک کیا جاسکے اور ان تمام لوگوں کی اسکریننگ کی جا سکے جو سرحدی شہر میں قرنطینہ مراکز اور باہر کام کر رہے تھے۔

نورالامین مینگل، آغا شیر زمان اور لیفٹیننٹ کرنل احمد نے اجلاس کو ایران سے واپس آنے والے پاکستانی شہریوں کے قرنطینہ مراکز میں داخل ہونے کے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی اور ان کی آئسولیشن کی مدت کی تکمیل کے بعد ان کی علاقوں میں آمدورفت کے بارے میں بتایا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ تفتان میں قید 30 افراد کو جلد ہی ایک پرواز کے ذریعے گلگت بلتستان بھیجا جائے گا۔

ادھر مقامی قبائلی افراد نے عمیر محمد حسنی سے ملاقات کی اور انہیں تفتان بارڈر کی بندش کی وجہ سے ان کی پریشانیوں سے آگاہ کیا۔

عمیر حسنی نے قبائلیوں کو یقین دلایا کہ صوبائی حکومت انہیں تمام ضروری سہولیات فراہم کرے گی، انہوں نے قرنطینہ مراکز کے انتظامات کرنے میں مقامی انتظامیہ کی مدد کرنے پر مقامی لوگوں کی تعریف کی۔

Share This Article
Leave a Comment