کوئٹہ: ذاکر مجید کی جبری گمشدگی کو 14سال مکمل ہونے پر احتجاجی مظاہرہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ طالب علم رہنما ذاکر مجیدکی پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کو 14سال مکمل ہونے پر کوئٹہ میں پریس کلب کے سامنے ذاکر مجید بلوچ کی والدہ اور دیگر لاپتہ افراد کے لواحقین نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین کی قیادت ماما قدیر بلوچ اور نصراللہ بلوچ نے کی۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اوربینرز اٹھارکھے تھے جس پر 14برس قبل ذاکر مجید بلوچ کو لاپتہ کیا گیا تھا جو تاحال بازیاب نہیں ہوا۔

اسی طرح کفایت اللہ، رشید آصف، انجینئر ظہیر، نصیب اللہ بلوچ، علی اصغر بنگلزئی سمیت سینکڑوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ اپنے آئینی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے جس طرح پنجگور سے لاپتہ معصوم بچے سمیت خاتون ومردکو بازیاب کرایا تھا باقی لاپتہ افراد کی بازیابی کو بھی یقینی بنائیں۔

مقررین نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور پی ڈی ایم کی قیادت نے وعدہ کیا تھا کہ برسراقتدار آتے ہی لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنائیں گے اور اداروں سے اس بارے میں پوچھیں گے لیکن اقتدار ملتے ہی انہوں نے خاموشی اختیار کی ہے، جس سے لاپتہ افراد کے اہلخانہ میں تشویش کی لہر بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اور ہائی کورٹ آف بلوچستان کے چیف جسٹس اپنے آئینی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنائیں تاکہ ان کے اہلخانہ میں پائی جانے والے بے چینی کا خاتمہ ہو۔

Share This Article
Leave a Comment