اقوام متحدہ کا بلوچستان میں تحفظ حقوق نسواں کیلئے ہیلپ لائن کو موثر بنانیکا ارادہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی اے نے حکومت بلوچستان کے مختلف محکموں کے ساتھ ملکر تحفظ حقوق نسواں کے لئے قائم ویمن ہیلپ لائن کو موثر بنانے سمیت مختلف کثیر الجہتی اقدامات اٹھانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

پیر کو یو این ایف پی اے پاکستان کی پروگرام جائزہ کار محترمہ دلشاد پری اور ایس پی او پروگرام کی سربراہ شازیہ شاہین نے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ حکومت بلوچستان کے چیف آف فارن ایڈ نجیب اللہ بابری، سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر عمر بابر صوبائی خاتون محتسب صابرہ اسلام بلوچستان کمیشن آن اسٹیٹس آف وویمن کی چئیرپرسن فوزیہ شاہین سے ملاقات کی اور بلوچستان میں خواتین کی معاونت کے لئے قائم ہیلپ لائن 1089 کی کاکردگی و فعالیت سے متعلق تبادلہ خیال کیا اور یو این ایف پی اے کے بلوچستان میں جاری منصوبوں سے متعلق آگاہی دی۔

وفد سے بات چیت کرتے ہوئے سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر عمر بابر محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے چیف آف فارن ایڈ نجیب اللہ بابری، خاتون محتسب صابرہ اسلام اور بلوچستان کمیشن آن اسٹیٹس آف وویمن کی چئیرپرسن فوزیہ شاہین نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین کو صنفی بنیادوں پر امتیازی رویوں سے بچا کر یکساں حقوق کی فراہمی کے لئے اقدامات کو موثر بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون کیا جائیگا اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ان کی بہبود کے لئے تجویز کردہ اقدامات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

وفد سے بات چیت کرتے ہوئے بلوچستان کمیشن آن اسٹیٹس آف وویمن کی چئیرپرسن فوزیہ شاہین نے کہا کہ خواتین پر تشدد کے خلاف قانون سازی کے لئے بل کے رولز آف بزنس کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔اس کے تحت مقامی سطح پر 86 پروٹیکشن کمیٹیاں بنائی جائیں گی جو یقینی طور پر صنفی بنیادوں پر تشدد کے خاتمے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

اس کے علاوہ کم عمری کی شادی کی روک تھام کے لئے مسودہ قانون بلوچستان اسمبلی میں پیش کرنے سے قبل اراکین پارلیمنٹ خصوصاً مذہبی جماعتوں کو قائل کرنے کی ضرورت ہے۔

خاتون محتسب صابرہ اسلام نے یو این ایف پی اے کے کام کو سراہتے ہوئے اپنے تعاون کا یقین دلایا۔انہوں نے ہیلپ لائن کے فروغ میں خاتون محتسب سیکرٹریٹ کو شامل کرنے اور انکوائری کمیٹیوں کی تربیت کے لیے یو این ایف پی اے سے تعاون کی درخوست کی۔

انہوں نے کہا کہ خاتون محتسب کے اختیارات کو مستحکم کرنے کے لیے ایکٹ میں ترمیم ضروری ہے۔

Share This Article
Leave a Comment