برطانوی وزیر اعظم جانسن کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانیکی تیاریاں

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کو ممکنہ طور پر عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا ہے۔ کورونا کی وبا کے دور میں لاک ڈاؤن کے باوجود کئی نجی محفلوں کے انعقاد کی وجہ سے وزیر اعظم شدید دباؤ میں ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک چلائی جا سکتی ہے۔ ان کی اپنی ہی ‘کنزرویٹو پارٹی‘ کے ایک اہلکار گراہم بریڈی نے پیر کو بتایا کہ انہیں 54 قانون سازوں کے خط موصول ہوئے ہیں، جن کا مطالبہ ہے کہ جانسن کے خلاف عدم اعتماد پر ووٹنگ کرائی جائے۔ پارٹی کے قوانین کے مطابق عدم اعتماد کی تحریک کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے یہ کافی تعداد ہے۔ نتیجتاً بریڈی نے اعلان کیا کہ ووٹنگ پیر کی شام ہو سکتی ہے اور اس کے کچھ ہی دیر بعد نتائج کا اعلان بھی کیا جا سکتا ہے۔

کورونا کی وبا کے دور میں جس وقت برطانیہ کے بیشتر حصوں میں سخت لاک ڈاؤن نافذ تھا، بورس جانسن نے کئی نجی محفلوں کا انعقاد کیا، جو ان کے گھر پر بھی تھیں اور دفتر میں بھی۔ گو کہ انہوں نے بعد ازاں ان پر معافی مانگی اور یہ بھی کہا کہ انہوں نے جان بوجھ کر لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی نہیں گی مگر کنزرویٹو پارٹی کی ایک داخلی رپورٹ کے مطابق وہ قائدانہ کردار دکھانے میں ناکام رہے۔

‘کنزرویٹو پارٹی‘ کے اس وقت 359 ارکان پارلیمنٹ ہیں۔ ان میں سے اگر پندرہ فیصد تمام بیک بینچ کنزرویٹو قانون سازوں کے پارلیمانی گروپ 1922 کمیٹی کے چیئرمین کو خط لکھیں، تو تحریک چلائی جا سکتی ہے۔ گراہم بریڈی کے مطابق یہ شرط پوری ہو چکی ہے۔

بورس جانسن کی کابینہ کے کئی ممبران نے ان کی حمایت کا وعدہ کیا، بشمول سیکرٹری خارجہ لز ٹروس، جنہوں نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی حمایت کی۔ سینئر وزیر مائیکل گوو نے بھی جانسن کی حمایت کا اظہار کیا۔

تمام کنزرویٹو ممبران پارلیمنٹ یا تو رہبر کے حق میں یا اس کے خلاف ووٹ دے سکتے ہیں۔ جانسن کو جیتنے کے لیے سادہ اکثریت درکار ہو گی۔ جانسن کو عہدے سے ہٹانے کے لیے عدم اعتماد کے کم از کم 180 ووٹ درکار ہوں گے۔

فتح کی صورت میں جانسن عہدے پر رہیں گے اور انہیں ایک سال کے لیے کسی اور رسمی چیلنج سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔ تاہم اگر وہ واضح اکثریت سے جیتنے میں ناکام رہے تو وہ پارٹی لیڈر کے عہدے سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اس صورت میں پارٹی نیا سربراہ چنے گی اور وزیر اعظم بھی وہی بنے گا۔

اگر وہ ووٹنگ میں ناکام ہوتے ہیں، تو جانسن کو استعفیٰ دینا پڑے گا اور نئی قیادت کے چناؤ کے الیکشن میں کھڑے نہیں ہو سکتے۔ اس عمل میں چھ ہفتے لگ سکتے ہیں۔ اس دوران جانسن سے توقع کی جائے گی کہ وہ نگران وزیر اعظم کا کردار ادا کریں۔ ان کا جانشین وزیر اعظم بنے گا۔ عام انتخابات خود بخود شروع نہیں ہوں گے۔

Share This Article
Leave a Comment