بنگلہ دیش: شپنگ ڈپو میں دھماکے سے سینکڑوں کنٹینر جل کر راکھ، 49 افراد ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بنگلہ دیش کے جنوب میں ایک دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 49 افراد ہلاک جبکہ تین سو سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ شپنگ کنٹینر ڈپو میں پیش آنے والے اس حادثے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

بنگلہ دیش کے جنوبی بندرگاہی شہر چٹاگانگ سے چالیس کلومیٹر کی دوری پر واقع سیتاکنڈا میں ایک شپنگ کنٹینر ڈپو میں دھماکے اور آتش زدگی کے سبب اب تک 49 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اتوار کی سہ پہر تک آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا، جس سبب ہلاک شدگان کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔

اتوار کی سہ پہر تک موصولہ رپورٹوں کے مطابق چونتیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ زخمیوں کی تعداد تین سو سے زائد ہے۔ محکمہ صحت کے حکام نے بتایا ہے کہ اتوار کی سہ پہر تک آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا، جس سبب ہلاک شدگان کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔

جس ڈپو میں آگ بھڑکی، وہ جنوبی بندرگاہی شہر چٹاگانگ سے چالیس کلومیٹر کی دوری پر سیتاکنڈا میں واقع ہے۔ آگ ہفتے چار جون کی رات مقامی وقت کے مطابق قریب ساڑھے آٹھ بجے سے لگی ہوئی ہے۔ آگ کے نتیجے میں ایک بڑا دھماکہ بھی ہوا جبکہ درجنوں کنٹینر تباہ ہو گئے۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ ڈپو کے آس پاس کے علاقوں میں کئی مکانات و دفاتر کے شیشے ٹوٹ گئے۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ آگ کیوں لگی۔ آگ بجھانے والے عملے نے البتہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ممکنہ طور پر ‘ہائیڈروجن پرآکسائیڈ‘ کے ایک کنٹینر سے آگ شروع ہوئی اور تیزی سے پھیلتی گئی۔ محکمے کے ایک اہلکار نیوٹن داس نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو اتوار کی سہ پہر بتایا کہ کئی کنٹینر اب بھی پھٹ رہے ہیں جن میں ‘ہائڈروجن پرآکسائڈ‘ اور سلفر ہے۔ اس کے مطابق جس مقام پر آگ لگی ہوئی ہے، کیمیائی مادوں کی وجہ سے اب وہاں کی آب و ہوا زہریلی گیسوں سے بھرپور ہے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز نے چٹاگانگ کے سرجن محمد الیاس حسین سے بھی بات کی، جنہوں نے بتایا کہ زخمیوں میں سے چند کی حالت نازک ہے اور اسی سبب ہلاک شدگان کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔ ان کے بقول ہلاک ہونے والوں میں پولیس اہلکار اور آگ بجھانے والے عملے کے ارکان بھی شامل ہیں۔

سرجن محمد الیاس حسین نے مزید بتایا کہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے شہر کے تمام ڈاکٹروں کو طلب کر لیا گیا ہے جبکہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس خون کی عطیات کے لیے پیغامات اور مدد کی اپیلوں سے بھری ہوئی ہیں۔ چٹاگانگ میڈیکل کالج اور ہسپتال میں سینکڑوں لوگ اپنے چاہنے والوں کی تلاش میں جمع ہیں۔

گزشتہ چند برسوں سے بنگلہ دیش کی کوشش ہے کہ دنیا بھر میں گارمنٹس کا سب سے بڑا ایکسپورٹر بنا جائے۔ لیکن انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق وہاں صنعتی میدان میں بنیادی ڈھانچہ اور حفاظتی اقدامات اب بھی بین الاقوامی معیارات کے مطابق نہیں۔

Share This Article
Leave a Comment