بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ کے ہزارہ ٹاؤن میں پانی کا بحران کیخلاف خواتین اور بچوں نے مغربی بائی پاس روڈ ٹریفک کیلئے بند کردیا۔
ایم پی اے قادر نائل کی یقین دہانی کرنے کے باوجود اب تک پانی کا مسئلہ حل نہیں ہوا ہے۔
مظاہرین نے بلوچستان حکومت سے سرکاری ٹیوب ویلوں کو بحال اور واسا کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں معروف وکیل اور انسانی حقوق کارکن جلیلہ حیدر نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ہزارہ ٹاون کے لوگ پانی کے بوند بوند کو ترس رہیں ہے۔ آئے روز ہزارہ مائیں سڑکوں پر احتجاج پر نظر آتی ہیں مگر نہ قوم پرستوں کو اور نہ ہی مذہبی گروہوں کو شرم آتی ہے جو ہر وقت ان پر سیاست کرتے ہیں۔
جلیلہ حیدر لکھتی ہیں کہ مقتدرحلقوں کوہزارہ عورت کے روزمرہ کی اذیتیں،محرومیاں نظر نہیں آتی۔ ایک نام نہاد ایم پی ہے جو قبرستان کے زمین پر قبضہ کر کے پانی کا ٹینکر بنا کر بیٹھ گیا یے کہ اگر کوئی سوال کریں کہ قبرستان کی زمین پر ناجائز قبضہ کیوں ہے تو وہ کہتے ہیں کہ آپ ہمیں لوگوں کو پانی فراہم کرنے نہیں دیتے۔ بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم 2021 میں قبرستان کے زمین پر کسی اور چیز کی تعمیر نہیں ہوسکتی۔
جلیلہ حیدر نے لکھاکہ سالہا سال قبضہ مافیا لوگوں کو کھبی پانی کے نام پر، کھبی قبر کے نام پر بلیک میل کر رہے ہیں مگر ریاست کی طرف سے کوئی شنوائی نہیں۔ ہزارہ خواتین ان نام نہاد قوم پرستوں اور مولویوں سے ہزار درجے بہتر ہیں جو اپنے حقیقی مسائل کے لئے آواز اٹھاتے ہیں اور امن و محبت بھائی چارہ جیسے ڈھکوسلہ نعروں، ہم سب سے پر امن قوم، صفائی پسند قوم کے دھوکہ دہی میں آکر اپنے حقیقی مسائل سے دست بردار نہیں ہوتے۔
انہوں نے لکھا کہ پانی انسانی حق ہے اور اسکو کوئی قوت محروم نہیں کرسکتا۔ حکومت سے گزارش ہے کہ ہزارہ ٹاون کے باسیوں کو پانی فراہم کیا جائے اور مافیاز کے خلاف کاروائی کریں۔ دن کے آخر میں آپ سب کو مر جانا ہے اسلئے مرنے سے پہلے لوگوں کے لئے کچھ کر کے مریں۔