پاکستان میں پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں 30اور7روپے مزید اضافہ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستان میں پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں 30اور7روپے مزید اضافہ کردیا گیا ہے۔

حکومت پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا ہے جس کے بعد پیٹرول ملکی تاریخ میں پہلی بار 200 روپے فی لیٹر سے تجاوز کرگیا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا۔

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمت میں 30 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ایک لیٹر پیٹرول 209 روپے 86 پیسے کا ہوگیا ہے۔

مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بھی تیس روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، ڈیزل کی نئی قیمت 204 روپے 15پیسے ہوگی، لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت بڑھا کر 178 روپے فی لیٹر کردی گئی ہے، مٹی کے تیل کی قیمت بڑھا کر 181 روپے 94 پیسے کردی گئی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ مئی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات بارہ بجے سے ہوگا۔

مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ چین نیا قرضہ جاری کریگا، بلکہ شرح سود بھی کم کریگا، پچیس مارچ کو چین نے2.3 ارب ڈالر کا قرض واپس لے لیا تھا، چین نیکافی شرائط عائد کر دی تھیں اور شرح سود بڑھا دی تھی، وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے چین جانے پر معاملات طے ہوئے اور وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ چین کیموقع پر معاملات فائنل ہوئے، یہ قرض 1.5 فیصد کی شرح سود پر حاصل کیا جائیگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم 10فیصد اخراجات کم کردیں تو چار ارب روپیکی بچت ہوگی، یہاں صرف ایک دن میں چار ارب روپیکی سبسڈی دی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان غیر ذمہ دارانہ باتیں کر رہے ہیں، سابق وزیراعظم کو ملک کے ٹوٹ جانے کی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔

اسی طرح بجلی کی قیمت میں بھی 7 روپے 91 پیسے فی یونٹ اضافہ کردیا گیا ہے۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کے بنیادی ٹیرف پر7 روپے 91 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی۔

نیپرا کے مطابق اضافے سے قبل نیپرا کا تعین کردہ اوسط ٹیرف 16.91 روپے تھا، بجلی کا نیشنل اوسط ٹیرف 24.82 روپے فی یونٹ تعین کیا ہے، بجلی کا ٹیرف بڑھنیکی بنیادی وجہ روپیکی قدر میں کمی ہے، ٹیرف بڑھانیکی وجہ کپیسٹی لاگت اور عالمی مارکیٹ میں ایندھن کی قیمت بڑھنا ہے۔

نیپرا کا کہنا ہے کہ توانائی کی خریداری کی قیمت 1152 ارب روپے متوقع ہے،کپیسٹی لاگت بشمول این ٹی ڈی سی اور ایچ وی ڈی سی 1366 ارب روپے تخمینہ ہے۔

نیپرا کے مطابق مالی سال 23-2022 کے لیے نیشنل اوسط ٹیرف 24.82 روپیفی یونٹ تعین کیا ہے، ڈسکوز کے ریونیو کا تخمینہ تقریباً 2805 ارب روپے متوقع ہے، ڈسکوز کے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن لاسز 13.46 سیکم کرکے 11.70 فیصد کردیے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment