بلوچستان میں نوزائیدہ بچہ سمیت 2خواتین کی جبری گمشدگی کی کہانی

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

بلوچستان ہائی کورٹ میں پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کے ہاتھوں 5ایسے افراد کی جبری گمشدگی کے خلاف ایک درخواست زیرِ سماعت ہے جس میں ایک چھ دن کا ایک بچہ بھی شامل ہے۔

ایران سے متصل بلوچستان کے سرحدی ضلع پنجگور سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے افراد میں شیر خوار بچے کے علاوہ دو خواتین اور دو مرد بھی شامل ہیں، تاہم ہائی کورٹ میں اس حوالے سے درخواست کی سماعت کے دوران مرد حضرات میں سے ایک بازیاب ہو چکا ہے۔

ان افراد کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ جب ان کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تو بچہ صرف چھ دن کا تھا اور والدہ کے ہمراہ جبری گمشدگی کے باعث اب تک اس کا نام بھی نہیں رکھا جا سکا۔

ان افراد کے رشتہ داروں اور لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم کا کہنا ہے کہ ان کی جبری گمشدگی میں فرنٹیئر کور ساؤتھ (یف سی)کے اہلکارملوث ہیں۔

تاہم اس سلسلے میں درخواست کی سماعت کے دوران فرنٹیئر کور ساؤتھ اور کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی جانب سے ہائی کورٹ کو بتایا گیا کہ یہ افراد ان کی تحویل میں نہیں ہیں۔

دوسری جانب سرکاری حکام کا سیکورٹی فورسز پر جبری گمشدگیوں کے الزام کو ایک سازش قرار دیتے ہوئے کہنا ہے کہ اس مقصد بلوچستان کے معصوم لوگوں کو اپنی سیکیورٹی پر مامور فورسز کے اہلکاروں کے خلاف گمراہ کرنا ہے۔

واضع رہے کہ جبری گمشدگیوں کے کیسزکے حوالے سے پاکستان کی سپریم کورٹ میں ایسے متعدد شواہدپیش کئے گئے کہ بلوچستان،سندھ، خیبر پختونخوا سمیت پاکستان بھر میں جبری گمشدگیوں کے واقعات میں براہ راست پاکستانی فوج اوراس کے خفیہ ادارے سمیت ایف سی، سی ٹی ڈی اور دیگر سیکورٹی فورسز ملوث ہیں لیکن اعلیٰ عدلیہ سمیت پریس اور ایگزیکٹیو پر مکمل فوج کے کنٹرول کے باعث باقاعدہ طور پر فوج کو جبری گمشدگیوں کاذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکاہے۔

پنجگور سے لاپتہ ہونے والے ان پانچوں افراد کا تعلق ضلع پنجگور کے علاقے گچک سے ہے۔ ان کے ایک قریبی رشتہ دار محمد فضل بلوچ (فرضی نام) نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردوکو بتایا کہ ان میں عبدالرحمان اور ان کے بیٹے عبدالحق کے علاوہ عبدالرحمان کے بھائی کی اہلیہ شاہ بی بی اور بی بی شہزادی اور ان کا شیرخوار بیٹا شامل ہیں۔

محمد فضل کا کہنا تھا کہ شہزادی، شاہ بی بی کی بہو اور ان کے بیٹے مدد بلوچ کی بیوی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ان میں سے عبد الرحمان اوران کے بیٹے عبد الحق کو 26 اپریل 2022 کو اٹھایا گیا جبکہ اگلے روز شاہ بی بی، شہزادی اور ان کے شیرخوار بچے کو لاپتہ کیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ شیرخوار بچے کی پیدائش چھ روز قبل ہوئی تھی اور چھٹے روز اس کا نام رکھا جانا تھا، لیکن والدہ کے ہمراہ جبری گمشدگی کے باعث اس کا ابھی تک نام بھی نہیں رکھا جا سکا ہے۔

محمد فضل کے مطابق عبدالحق گاڑی چلاکر اپنے خاندان کے لیے روزی روٹی کا انتظام کرتا تھا۔

محمد فضل کا کہناہے کہ یہ تمام پانچوں افراد بے قصور ہیں اور ان کو شیرخوار بچے کے والد مدد بلوچ کی وجہ سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مدد بلوچ کے پیش نہ ہونے پر ایف سی کے اہلکاروں نے ان پانچوں کو حراست میں لیا جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایک سال پہلے اگست 2021 کو مدد بلوچ اور ان کے والد ہارون بلوچ کو گرفتار کر کے سیکیورٹی فورسز کے کیمپ لے جایا گیا تھا جہاں ان کو تین ماہ تک پابند سلال رکھا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں کو تین ماہ بعد اس شرط پر رہا کیا گیا تھا کہ ان کی حرکات و سکنات ان کے گھر تک محدود رہیں۔

’شادی بیاہ یا غم کے موقع پر بھی اگر ان کو جانا ہوتا تو بھی ان کو سیکورٹی فورسز کے کیمپ سے جاکر اجازت لینا پڑتا۔‘

محمد فضل نے کہا کہ اس دوران مدد بلوچ کو بہت زیادہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد دوبارہ ماروائے آئین اور قانون طریقے سے اٹھائے جانے کے خوف کے پیش نظر محنت مزدوری کے لیے بیرون ملک چلا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مدد بلوچ کہتے ہیں کہ ان میں مزید تشدد اور ذہنی اذیت سہنے کی سکت نہیں اور اسی کی وجہ سے طلبی کے باوجود وہ واپس نہیں آ رہے ہیں۔‘

محمد فضل کے بقول انھیں یہ اطلاع ملی ہے کہ خواتین اور بچے کو رات گزارنے کے لیے کیمپ کے عقب میں مقامی شخص کے گھر لایا جاتا ہے اور علی الصبع واپس کیمپ منتقل کیا جاتا ہے۔

پاکستان کی سابق انسانی حقوق کے وزیر شیرین مزاری جنہیں گذشتہ روز پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں جبراًلاپتہ کیا گیا تھااور بعد ازاں سخت ردعمل اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے دباؤ کے تحت انہیں رہا کیا گیا توانہوں نے میڈیا کو بتایا کہ جب انہوں نے اپنے دور اقتدار میں جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور اس گھناؤنے عمل میں شامل افراد کو سزادینے کیلئے ایک بل تیار کیا تھاتواسے پاکستان کی سب سے بڑی انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی کے سامنے پیشی کیلئے پیغام ملا تھااور پھر اس بل کو ایوان میں پہنچنے سے پہلے لاپتہ کیا گیا تھا۔

Share This Article
Leave a Comment