کراچی: پریس کلب سامنے آمنہ بلوچ اور ندا کرمانی سمیت 4خواتین گرفتارولاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کے صوبہ سندھ کے مرکزی شہرکراچی میں کراچی میں پریس کلب کے باہر بلوچ لاپتہ افراد کی جبری گمشدگی کے خلاف احتجاج کرنے پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کی آرگنائزر آمنہ بلوچ اور انسانی حقوق کی کارکن پروفیسر ندا کرمانی سمیت چار بلوچ خواتین اور دو سیاسی کارکنوں کو سندھ پولیس نے گرفتار کرلیا۔

اس سلسلے میں وائس فار مسنگ پرسنز کی رہنما سمی دین بلوچ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں دفعہ 144نافذ ہونے کے بعد ہم نے اپنا احتجاج موخر کر دیا تھا ہم نے احتجاج کی کال دی تھی اور بہت سے ساتھیوں تک پیغامات پہنچائے کہ احتجاج موخر ہو گیا ہے مگر دور دراز سے آنے والے لاپتہ افراد کے لواحقین کو پیغام نہیں پہنچ پایا،لاپتہ شبیر بلوچ کے اہلخانہ سمیت احتجاج پر آئے ہوئے دیگر ساتھیوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ ہمارے حالیہ دنوں میں ہونے والی گمشدگیوں پرکراچی پریس کلب کے سامنے ہونیوالے احتجاج،ہمیں رات کو پتہ چلا ہم نے اپنے دوستوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی کہ آج ہمارامظاہرہ نہیں ہو سکتا۔

اس کے باوجود بلوچستان کے دور دراز علاقے وندر سے صرف دو لڑکیاں تھیں جو یہاں کھڑی تھیں جن کی عمریں 18سال اور ایک کی 20سال ہے ان کو پولیس کی گاڑی میں بٹھا کر لے گئے ہیں، جب ہمیں پتہ چلا اور ہم یہاں آئے تو ہمارے لڑکوں اور لڑکیوں کو گھسیٹ کر لے گئے ہیں، بڑی مضاحمت کے بعد ہم اپنے کچھ لڑکوں کو چھڑا پائے لیکن اس کے باوجود ہمیں کہا جارہا ہے کہ آپ کو تھانے آنا ہو گا پھر ہم آپ کے لڑکوں کو چھوڑ دیں گے، جس طرح پہلے ہمیں دھوکے میں رکھا گیا تھا جب ہمارے لوگوں کو اٹھا کر لے گئے اور کہا گیا کہ آدھے گھنٹے میں چھوڑ دیا جائیگا، لیکن اس کے بعد نہیں چھوڑا گیا ہمارے لوگوں کی یہاں قانون کی خلاف ورزی ثابت کر کے دکھائے ہم مانیں گے۔ہمارے لوگ پر امن طریقے سے یہاں احتجاج کر نے آئے تھے اور یہاں مظاہرے کو ختم کرنے کیلئے،ہم آپ سے اپیل کرتے ہیں کہ تمام میڈیا مل کر ہمارے لوگوں کی بازیابی کیلئے جد و جہد کریں۔

Share This Article
Leave a Comment