ایران کے دارالحکومت تہران میں طاقتور ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک کرنل کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اتوار کو موٹر سائیکل پر سوار دو مسلح افراد نے کرنل صیاد خدائی کو اُن کے گھر کے باہر ایک کار میں پانچ گولیاں ماریں، جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ پولیس نے نامعلوم افراد کی تلاش شروع کر دی ہے۔
ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے کرنل حسن صیاد خدائی کے قتل کو غیر ملکی عناصر سے جوڑتے ہوئے کہا کہ انھیں اس میں کوئی شک نہیں کہ ’اُن کے خون کا بدلہ لازمی لیا جائے گا۔‘
ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے عمان روانہ ہونے سے قبل مہر آباد ہوائی اڈے پر منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں سکیورٹی حکام کو اس قتل کی سنجیدگی سے پیروی اور تفتیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
قدس فورس کے رکن کے قتل کو غیر ملکی ایجنٹوں سے منسوب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ اس جرم میں بلاشبہ عالمی استکبار کا ہاتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ ایران کے سرکاری لٹریچر میں، عالمی استکبار ایک اصطلاح ہے جسے حکومتی اہلکار حریف یا ان کے ہم خیال دشمن بیرونی ممالک کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
ابراہیم رئیسی نے مزید کہا کہ وہ لوگ جو چوک میں حرم اور مقدس کا دفاع کرنے والوں سے ہار گئے، وہ اس طرح اپنی مایوسی ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔
کرنل صیاد خدائی ایلیٹ قدس فورس کے ایک سینیئر رکن تھے۔ یہ فورس پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کی ایک بیرونی شاخ ہے جس کے فرائض میں بیرون ملک کارروائیاں کرنا شامل ہے۔ امریکہ اس ایلیٹ فورس پر دہشت گرد تنظیموں کی حمایت اور پورے مشرق وسطیٰ میں حملوں کا ذمہ دار ہونے کا الزام عائد کرتا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادے نے کہا کہ کرنل صیاد خدائی کو ایران کے دشمنوں نے قتل کیا۔ ترجمان کے مطابق یہ دہشتگرد عالمی طاقت کہلانے والوں سے وابستہ ہیں۔۔ یہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا حوالہ ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ بہت سے دوسرے ممالک جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ دہشتگردی کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ وہ بالکل خاموش ہیں اور اس (قتل) کی حمایت کرتے ہیں۔