وندرمیں جان لیوابیماری پھوٹ پڑنے سے متعدد مویشی ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے علاقے سونمیانی وندر کے پہاڑی علاقے پھئی میں گائے اور بکریوں میں جان لیوا نامعلوم بیماری پھوٹ پڑنے سے متعدد مویشیاں ہلاک ہوگئیں۔

علاقائی لوگوں نے خدشے کا ظہار کرتے ہوئے کہا کہ جانوروں کی اس جان لیوا بیماری کی بروقت تدراک نہیں کی گئی تو وبائی شکل اختیار کرسکتی ہے۔

مقامی افراد کے مطابق تحصیل سونمیانی وندر اور اس سے متصل اوتھل کے پہاڑی علاقوں پھئی اور قرب و جوار میں گائے اور بکریوں میں پھیلنے والی جان لیوا بیماری جس میں ایک دن بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد 2سے 3دنوں کے اندر گائے اور بکریاں موت کا شکار ہو جاتی ہیں۔

ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے مال مویشی پالنے والے لوگوں کے مطابق کہ جان لیوا نامعلوم بیماری میں مبتلا ہونے والے گائے اور بکریوں کے منہ سے پانی جھاگ کی طرح نکلنا شروع ہوجاتا ہے اور وہ کھانا پینا بند کر دیتی ہے اور پھر 2سے 3دنوں کے اندر موت کی شکار ہو جاتیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران 6سے 7قیمتی گائے اور درجن کے قریب بکریاں اس جان لیوا نامعلوم بیماری کی شکار ہوکر مرگئیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وندر میں حیوانات کا ہسپتال نہ ہونے کی وجہ ہم غریب گائے بکریاں پال کر گزر بسر کرنے والوں کو اپنے حلال جانوروں کو بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد مہنگی مہنگی حیوانات کی ادویات جانوروں کی پرائیویٹ کلینکوں اور میڈیکل اسٹوروں سے خریداری کی مالی طاقت نہ ہونے کی وجہ سے ہماری زندگی بھر کی محنت کی ثمر اس جان لیوا نامعلوم بیماری میں مبتلا ہونے کے 2سے 3دنوں کے اندر موت کی شکار ہو جاتیں ہیں جس سے ہمیں باری نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں بلوچستان کے وزیر لائیواسٹاک سیکرٹری لائیو اسٹاک بلوچستان ڈسٹرکٹ افسر لسبیلہ لائیواسٹاک سے پرزور اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحصیل سونمیانی وندر اور اس سے متصل اوتھل کے پہاڑی علاقوں پھئی و دیگر میں حلال جانوروں میں پائی جانے والی جان لیوا نامعلوم مرض کو وبائی شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی اس پر قابو پانے کیلیے حیوانات کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم اس خوفناک جان لیوا نامعلوم بیماری کو کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے اور ایسے فرض شناس ڈاکٹرز کی ٹیم روانہ کی جائے جو ضلعی ہیڈ کوارٹر سے لائی گئی ویکسین اور دیگر ادویات موجود جانوروں کو لگانے اور پلانے کے بعد بچنے والی ادویات اور ویکسین کو واپس لے جاکر مارکیٹ میں فروخت کرنے کی بجائے متاثرہ مال مویشی پالنے والے لوگوں میں تقسیم کریں تاکہ ان کے جانے کے بعد دوبارہ متاثر ہونے والے حلال جانوروں کے مالکان ان جانوروں کو پلا اور لگا سکیں۔

مال مویشی پالنے والوں نے بتایا کہ اس جان لیوا نامعلوم بیماری میں مبتلا ایک بکری کو جب حلال کیا گیا تو اس کا جگر بری طرح سے متاثر ہوگیا تھا اور اس پر چھالے نکل آئے تھے اور ان سے پانی نکل رہا تھا۔

انہوں اس موقع پر ڈپٹی کمشنر لسبیلہ سے بھی پرزور اپیل کی ہے کہ وہ ہم غریبوں کی اپیل پر فوری طور پر احکامات صادر کرتے ہوئے محکمہ لائیواسٹاک لسبیلہ کے سربراہ کو حیوانات کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بمعہ ضروری ادویات کے روانہ کریں تاکہ ہم مزید مالی نقصانات سے محفوظ رہے سکیں۔

Share This Article
Leave a Comment