امریکی خاتون اول کی یوکرین آمد،صدرزیلنسکی کی اہلیہ سے ملاقات

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

امریکی خاتون اول جِل بائیڈن نے یوکرین میں اپنی ہم منصب اولینا زیلنسکی سے ملاقات کی ہے۔ جبکہ واشنگٹن نے ماسکو پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔

جِل بائیڈن اور اولینا زیلنسکی نے سرحدی گاؤں اوزہورد میں ملاقات کی۔ 24 فروری کے بعد پہلی بار اولینا زیلنسکی عوامی مقامات پر نظر آئی ہیں۔

ادھر روسی مداخلت کے جواب میں امریکہ نے مزید 2600 روسی اور بیلاروسی افراد پر ویزے کی پابندیاں لگائی ہیں۔ ان میں تین روسی ٹی وی چینلز کے اعلیٰ عہدیدار بھی شامل ہیں۔ جی سیون رہنماؤں نے روسی تیل پر مرحلہ وار پابندی کا عزم ظاہر کیا ہے۔

امریکہ اور یوکرین کی خواتین اول کے درمیان ملاقات ایک سکول میں ہوئی جسے بے گھر افراد کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

اولینا زیلنسکی نے امریکی خاتون اول کے دورے کو ’جرات مندانہ فیصلہ‘ کہا۔

جِل بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ بتانا چاہتی ہیں کہ ’امریکہ کے عوام یوکرین کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘ انھوں نے رواں ماہ تیسری بار کہا کہ اس تباہی کا سبب بننے والی جنگ کو ختم کرنا ہوگا۔

اولینا زیلنسکی نے کہا کہ جِل بائیڈن نے یوکرین کا دورہ کر کے ’جرأت مندانہ فیصلہ‘ کیا جب یہاں جنگ جاری ہے۔

انھوں نے کہا کہ ماؤں کے عالمی دن کے موقع پر وہ یوکرین آئیں۔ ’اس اہم دن پر ہم آپ کی محبت اور حمایت محسوس کر سکتے ہیں۔‘

دونوں خواتین ان درجنوں بچوں کے ساتھ بیٹھیں جنھوں نے اس سکول میں قیام کیا ہوا ہے۔ انھوں نے ٹشو پیپر سے ریچھ بنائے جو کہ صوبے کا نشان ہے۔

نئی امریکی پابندیوں کا اعلان اس وقت کیا گیا جب جی سیون رہنماؤں نے صدر زیلنسکی سے ویڈیو کال پر بات چیت کی۔ ایک بیان میں جی سیون نے کہا کہ روسی صدر پوتن کے اقدامات ’روس اور اس کے لوگوں کی تاریخی قربانیوں کے لیے شرمندگی کا باعث ہیں۔‘

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ مشرقی یوکرین میں ایک سکول پر بمباری میں قریب 60 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ لوہانسک کے گورنر نے بتایا کہ یہاں 90 افراد نے محفوظ پناہ حاصل کر رکھی تھی اور اس عمارت سے 30 لوگوں کو نکال لیا گیا ہے۔

ان کے مطابق سنیچر کو روسی طیارے نے اس عمارت پر بمباری کی۔ روس نے اس کا ردعمل نہیں دیا ہے۔

لوہانسک میں روسی فوجی اور علیحدگی پسند جنگجوؤں نے حکومتی فورسز کو گھیرے میں لیا ہے اور یہاں لڑائی جاری ہے۔ خطے کا اکثر حصہ آٹھ برسوں سے روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسند گروہوں کے قبضے میں رہا ہے۔

گورنر نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ اس دھماکے سے عمارت تباہ ہو کر منہدم ہوگئی اور فائر فائٹرز نے تین گھنٹے لگا کر آگ بجھائی۔

ان کا کہنا ہے کہ قریب پورے گاؤں نے اس سکول کے تہہ خانے میں پناہ لی ہوئی تھی۔ اموات کی کل تعداد ملبہ ہٹانے کے بعد بتائی جائے گی۔

ادھر یوکرین کے علاقے خارخیو میں بھی شدید لڑائی جاری ہے اور یوکرینی افواج یہاں اپنا کنٹرول بحال کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

گذشتہ روز یوکرین کی نائب وزیر اعظم ایرینا ویریشچک کا کہنا تھا کہ تمام معمر افراد، خواتین اور بچوں کا ماریوپل شہر کے آزوفستال سٹیل پلانٹ سے انخلا مکمل کر لیا گیا ہے۔ یوکرینی افواج نے سنیچر کو بتایا کہ انھوں نے ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر خارخیو کے پانچ قصبوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرین کا آپریشن مداخلت کے خلاف کامیاب ثابت ہو رہا ہے اور اس حوالے سے یہ اہم پیشرفت ہے۔

خارخیو میں فروری سے شدید شیلنگ جاری ہے۔ خطے کے گورنر نے سنیچر کو کہا کہ روسی دستے اب بھی شہریوں پر گولیاں چلا رہے ہیں۔ انھوں نے شہریوں سے گھروں سے باہر نہ نکلنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ فضائی حملوں کے سائرنز کو نظر انداز نہ کریں۔

یوکرین کو خدشہ ہے کہ نو مئی سے قبل روسی شیلنگ مزید بڑھ سکتی ہے۔ روس اس دن 1945 میں نازی جرمنی کو شکست دینے کی خوشی میں ‘وکٹری ڈے’ یا یوم فتح مناتا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ آف دی سٹڈی آف وار کی ایک رپورٹ کے مطابق یوکرینی دستے خارخیو کے قریبی مقامات پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر رہے ہیں۔ اس میں کہا گیا کہ یوکرین کی مزاحمت سے روس پر دباؤ بڑھے گا اور اس طرح یہ ‘روسی سرحد کی طرف مزید پیشرفت حاصل ہوسکے گی۔‘

خارخیو میں بچوں کے ایک ڈاکٹر ہبانوف پیولو نے بی بی سی کو بتایا کہ لوگ محفوظ پناہ گاہوں یا شیلٹرز میں چھپے ہوئے ہیں اور ملازمتوں پر نہیں جا رہے۔ ’شہر میں زندگی معمول کے مطابق نہیں۔ خارخیو روسی سرحد سے کافی قریب ہے اور یہ شہر اکثر حملے کی زد میں آتا ہے۔ افسوس ہے کہ جنگ جاری ہے اور ہم بغیر کسی ڈر کے نہیں رہ سکتے۔’

وہ بتاتے ہیں کہ جس ہسپتال میں وہ کام کرتے تھے اسے شیلنگ میں تباہ کر دیا گیا ہے۔

پیولو کا کہنا ہے کہ ہسپتال سے کئی بار شیلز ٹکرائے اور وہاں اب طبی سہولیات فراہم کرنا ممکن نہیں۔ روسی (فوجی) ہر وقت گولیاں چلاتے ہیں۔ میں اب ایک دوسرے ہسپتال میں کام کر رہا ہوں۔’

سنیچر کو شہر کے ایک میوزیم کو اس وقت تباہ کر دیا گیا جب اس کی چھت پر شیلنگ کی گئی۔ مگر یہاں سے قیمتی فن پارے پہلے ہی ہٹا لیے گئے تھے۔

Share This Article
Leave a Comment