عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری یوتھ افیئرز خان زمان کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچ طلبااور نوجوانوں کو ہراساں کرنے اور زیر عتاب رکھنے کے نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے۔ لاپتہ افراد کے لواحقین کے سالوں سے جاری احتجاج کے باوجود اس سنگین معاملے میں کوئی پیش رفت دکھانے کی بجائے بلوچ نوجوانوں کے گرد مزید گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاہے کہ تشدد کا کوئی ایک واقعہ بلوچ قوم کے نوجوان بچوں کیخلاف کریک ڈاؤن کیلئے جواز کے طور پر استعمال کرنے کا رویہ تشدد کے واقعات میں مزید اضافے کا باعث بنے گا۔ ہر بلوچ طالبعلم اور نوجوان کو مشکوک شہریوں کی کیٹیگری میں ڈالنے کا رویہ نسل پرستی ہے جس کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں۔
بلوچستان کو طاقت اور غیر سیاسی لوگوں کے سہارے قابو میں رکھنے کی پالیسی تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔ غلبہ اور قبضہ قائم رکھنے کیلئے جبری گمشدگیوں پر انحصار کرنیوالوں کا انجام قذافی کے لیبیا سے مختلف نہیں ہوگا۔ بلوچستان جل رہا ہے، بلوچ نوجوان نسل میں پائے جانیوالے احساس بیگانگی پر سنجیدگی سے غور کرنے والے ہی مسئلے کی حساس نوعیت کو سمجھ سکتے ہیں۔