غازی یونیوسٹی کے طلباطالبات کیساتھ غیر اخلاقی و غیر علمی رویہ شرمناک ہے،بلوچ وومن فورم

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ وومن فورم(بی ڈبلیو ایف) کے ترجمان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ غازی کے طلباؤ طالبات کے ساتھ غیر اخلاقی اور غیر علمی رویہ قابل مذمت ہے، طلبہ کے ادبی سرکل پر دھاوا بولنا،انہیں ہراساں کرنے کے ساتھ انکی وڈیوز بنانا شرمناک عمل ہے جو کسی بھی تعلیمی ادارے کے انتظامیہ کو زیب نہیں دیتا کیونکہ درسگاہیں تو ملکی ترقی میں شہریوں کی پرورش کے عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں مگر غازی یونیورسٹی کا رویہ بظاہر انتقامی کاروائی لگتا ہے کیونکہ طلبائکو نہ صرف ہراساں کیا گیا بلکہ انہیں بنا کسی جرم کے جامعہ سے نکالنا اور غریب اسٹوڈنٹس کو تیس ہزار جرمانہ کرنا جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں قابل مذمت ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اسٹڈی سرکلز تعلیم اور علمی شعور کا حصہ ہوتے ہیں جو دنیا بھر کب طلبہ تنظیمیں مختلف طریقے سے منعقد کرتی ہیں جس کا بنیادی مقصد طلبہ میں تعلیم کا رجحان پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں خود اعتمادی پیدا کرنا ہوتا ہے۔ یاد رہے اظہار رائے جمہوری عمل کا حصہ ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کے ساتھ ناروا سلوک عرصہ دراز سے ہوتا آرہا ہے، ملک بھر میں بلوچ اسٹوڈنٹس کو زدوکوب کیا جارہا ہے۔ جامعہ اْتھل کے گرلز ہاسٹل میں اسٹوڈنٹس کو مختلف حربوں سے ہراساں کیا جاتا ہے نہ صرف آنے جانے میں بلکہ طلبائکے والدین اور رشتہ داروں کو اپنے بچوں سے ملنے میں مشکالات کا سامنا ہوتا ہے۔ مزید ستم ظریفی طلبائکے کھانے پینے میں بھی روک ٹوک ہے۔ انہی مشکلات کا سامنا جامعہ بلوچستان کے طلبائکو بھی درپیش ہے۔ اسٹوڈنٹس کے مطابق گرلز ہاسٹل کی انتظامیہ کا رویہ بداخلاقانہ اور غیر اخلاقی ہے، آنے جانے پر انتظامیہ گالی گلوچ سے بھی بعض نہیں آتے، اسٹوڈنٹس اگر شکایات کریں تو انہیں مزید ہراساں کیا جاتا ہے اور جامعہ سے نکالنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ یہ عمل نہ صرف مایوس کن ہے بلکہ یہ کسی بھی شہری کے حقوق اور شخصی آزادی سلب کرنے کے مترادف ہے۔

ترجمان نے مزید کہا جامعات جابرانہ رویوں کے بجائے اسٹوڈنٹس کے لیے تعلیمی اور شعوری راہ ہموار کریں اْن میں تحقیق اور تخلیقی جذبے کو پیدا کریں تاکہ یہی نوجوان ملک اور معاشرتی ترقی میں اپنا بہتر کردار ادا کرسکیں۔ بلوچ وومن فورم ملکی اعلی عدالتوں سے اپیل کرتی ہے کہ جامعہ غازی کے طلباؤ طلبات کو انصاف دیں اور ان کے تعلیمی سلسلے کو دوبارہ بحال کرے۔

Share This Article
Leave a Comment