بھارت: دہلی میں مسلمانوں کے املاک مسمار کردیئے گئے

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بھارت کے دارلحکومت دہلی میں میونسپل کارپوریشن نے نوٹس کے بغیر جہانگیر پوری کی جامع مسجد کے دروازوں سمیت بہت سی املاک کو مسمار کر دیا۔

سپریم کورٹ نے اس کارروائی کو روکنے کے احکامات جاری کیے تھے، تاہم اس کے باوجود توڑ پھوڑ کی کارروائی جاری رہی۔

بھارتی دارالحکومت دہلی میں بدھ کی صبح اچانک مسلم اکثریتی علاقے جہانگیر پوری میں پولیس فورسز کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) نے توڑ پھوڑ کی کارروائی شروع کر دی اور آنا فانا مقامی جامع مسجد کی دیوار اور دروازوں سمیت آس پاس کی بہت سی دکانوں کو بھی مسمار کر دیا۔

چند روز قبل اسی علاقے میں مسلم مخالف فسادات ہوئے تھے، جس میں جھڑپوں کے دوران متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد ہی حکمران جماعت بی جے پی کے رہنما نے اس علاقے میں کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایم سی ڈی سے کہا تھا کہ وہ فسادات میں ملوث افراد کی املاک کو تباہ کر دے۔

دہلی میونسپل کارپوریشن نے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کاروائی غیر قانونی تجاوزات کے خلاف شروع کی گئی تھی اور کسی کے حکم پر ایسا نہیں کیا جا رہا ہے۔ تاہم مقامی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس سلسلے میں پہلے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا اور صبح توڑ پھوڑ شروع ہونے کے بعد انہیں اس کا علم ہوا۔

جہانگیر پوری میں ہندوؤں کی بھی آبادی ہے، تاہم توڑ پھوڑ جامع مسجد کے علاقے میں کی گئی اور اس کی زد میں بیشتر مسلمانوں کی املاک آئی ہیں۔ کارروائی شروع ہوتے ہی مسلم تنظیموں نے سپریم کورٹ سے کارروائی روکنے کے لیے رجوع کیا۔

عدالت نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے فوری طور پر اسے روکنے کا حکم دیا، تاہم حکام کے مطابق انہیں کوئی نوٹس نہیں ملا ہے اور انہوں نے توڑ پھوڑ کا یہ سلسلہ جاری رکھا۔ چند گھنٹے بعد جب عدالت کا حکم جہانگیر پوری میں کارروائی کرنے والے حکام تک پہنچایا گیا تب عمارتیں ڈھانے کا عمل روک دیا گیا۔

سپریم کورٹ سے رجوع کرنے والی تنظیم جمعیت علماء ہند کے ایک ترجمان نےمیڈیا کو بتایا کہ ”افسوس کی بات تو یہ ہے کہ عدالتی احکامات پر عمل نہیں ہو رہا، اور اس بہانے سے املاک ڈھانے کا عمل جاری ہے کہ انہیں ہدایات کا انتظار ہے۔“

Share This Article
Leave a Comment