پاکستان صبر کا امتحان نہ لے،ہم بھی جواب دیں گے، افغان طالبان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستانی فوج کے افغانستان میں فضائی حملوں کے بعد طالبان نے سخت ردّعمل ظاہر کیا ہے جب کہ ان حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 47 ہو گئی ہے۔

ہفتے کو ہونے والے فضائی حملوں کے بعد پیر کو طالبان کی جانب سے پاکستان کے خلاف سخت بیانات سامنے آئے ہیں۔

طالبان عہدے داروں نے پاکستان کو سخت الفاظ میں تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کا مقابلہ بھی کرسکتے ہیں۔

پیر کو طالبان کے نائب آرمی چیف حاجی مالی خان نے صوبہ خوست کا دورہ کیا اور فضائی حملوں سے متاثرہ علاقے کا جائزہ لیا۔ ان کے ہمراہ کئی اعلیٰ عہدے دار بھی موجود تھے۔

اس موقع پر حاجی مالی خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم بزدل نہیں۔ امریکہ کے پاس بھی ایسی ہی فضائی قوت تھی لیکن طالبان نے انہیں شکست سے دوچار کیا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ طالبان جنگجو اپنی قیادت کے احکامات کا انتظار کر رہے ہیں۔

دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی برطانوی نشریاتی ادارے ‘بی بی سی’ سے بات کرتے ہوئے پاکستان کو آئندہ ایسے اقدامات سے باز رہنے کے لیے خبردار کیا ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ”اگر ہم امریکہ سے جنگ لڑ سکتے ہیں تو پاکستان کے خلاف بھی کھڑے ہو سکتے ہیں۔”

انہوں نے پاکستان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ افغان سرزمین پر حملے کر کے طالبان کے صبر کا امتحان نہ لے، ورنہ طالبان بھی جواب دیں گے۔

واضح رہے کہ ہفتے کو طالبان حکومت نیکہا تھاکہ اس کے لڑاکا طیاروں نے سرحدی صوبوں کنڑ اور خوست میں بم باری کی ہے۔

طالبان حکومت نے افغانستان میں تعینات پاکستانی سفیر کو بھی وزارتِ خارجہ میں طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔

افغانستان میں فضائی حملوں سے متعلق پاکستان کی فوج کا تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

اتوار کو پاکستان کے دفترِ خارجہ نے افغانستان سے متعلق ایک بیان جاری کیا تھا مگر اس میں بھی فضائی حملوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

مقامی حکام کے مطابق پاکستانی فوج کے افغان صوبوں خوست اور کنڑ میں کیے گئے فضائی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 47 ہو گئی ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment