دھونس، دھمکی، ترغیب و تقسیم اور دیگر سازشی حربوں کی مربوط اور مسلسل استعمال کے ذریعے بلوچ قومی اتحاد ،یکجہتی اورقوت کو کمزور کرنے کے بعد پاکستان (جسے وجود میں آئے ہوئے محض سات مہینے اور بارہ دن ہوئے تھے) نے بالآخر 27 مارچ 1948 کو ریاست قلات ( بلوچستان ) پر اپنے جبری قبضہ کو مکمل کرلیا تھا پاکستان کے خالق برطانیہ نے برصغیر ہند سے اپنا دو سو سالہ اور بلوچستان پر سو سالہ بوسیدہ نوآبادیاتی قبضہ ختم کرنے سے پہلے ہی خطے میں اپنے استعماری مفادات کی تحفظ کیلئےپاکستان کی شکل میں ایک طفیلی ریاست بنانے کا فیصلہ کرچکا تھا کیونکہ سابق سوویت یونین کے ساتھ سرد جنگ کے تناظر میں برطانیہ کو ہمارے خطہ میں ایک طفیلی ریاست کی اشد ضرورت تھی وہ جغرافیائی، تزویراتی، تجارتی اور معاشی لحاظ سے بلوچستان کی اہمیت سے اچھی طرح واقف تھے وہ جانتے تھے کہ بلوچستان کے بغیر پاکستان خطہ میں ان کے مفادات کی تحفظ کیلئے کوئی موثر کردار ادا نہیں کرسکےگا اسلئے ہندوستان کی برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ نے قیام پاکستان سے بہت پہلے بلوچستان کو اپنے مجوزہ طفیلی ریاست پاکستان میں شامل کرنے کے منصوبے پر عملدرامد شروع کردیاتھا انگریز انتظامیہ نے نہ صرف ڈیرہ جات سے لغاری اور مزاری جیسے بڑے بلوچ قبائل کے سرداروں اور برٹش بلوچستان سے مری، بگٹی اور سنجرانی قبائل کے سرداروں کی طرف سے ان کے علاقوں کو دوبارہ ریاست قلات میں شامل کرنے کی تحریری درخواستوں کو نظرانداز کیا بلکہ عالمی قوانین کو بھی یکسر نظرانداز کرتے ہوئے برٹش بلوچستان میں شامل کوئٹہ، بولان، نوشکی اورنصیر آباد جیسے ریاست قلات سے لیز
Lease
پر حاصل کردہ بلوچ علاقوں کو بھی ریاست قلات کے حوالہ کرنے سے انکار کیا۔انگریز انتظامیہ نے نہ صرف بلوچوں کی قومی و جغرافیائی وحدت کی قومی کوششوں، ان کی فطری حق اور عالمی قوانین کو پامال کیابلکہ تقسیم ہند کے اپنے ہی بنائے ہوئے قانون و قاعدہ اور وعدوں کو بھی توڑ دیا۔تقسیم ہند قانون کے تحت یہ طے ہوا تھا کہ برٹش بلوچستان کی مستقبل کا فیصلہ انگریز انتظامیہ کے نامزد کردہ شاہی جرگہ کے ارکان اورکوئٹہ میونسپلٹی کے اراکین کریں گے ان کی رائے معلوم کرنے کیلئے یکم جولائی 1947 کو ان کا ایک مشترکہ اجلاس منعقد ہونا طے ہواتھامگر نہ کبھی وہ اجلاس ہوا اور نہ کوئٹہ میونسپلٹی اور شاہی جرگہ کے اراکین سے رائے لی گئی تقسیم ہند ایکٹ اور اپنے وعدں کے برعکس انگریز انتظامیہ نے برٹش بلوچستان سے ہند قانون ساز اسمبلی کے رکن سردار محمد خان جوگیزئی کے ایک بیان کو بنیاد بناکر برطانوی بلوچستان کو پاکستان بننے سے پہلے ہی پاکستان میں شامل کرنے کااعلان کیا دراصل سردار محمد خان جوگیزئی نے کوئٹہ آنے والےانگریز انتظامیہ کے نمائندہ کی استقبال کیلئے اکھٹے ہونے والے مسلم لیگی ارکان کے ایک مجمع میں29 جون 1947 اعلان کیاتھا کہ وہ پاکستان کی قانون ساز اسمبلی میں شرکت کرےگا۔
برطانوی صوبہ بلوچستان کو پاکستان بننے سے پہلے پاکستان کا حصہ قرار دینا دراصل انگریز نوآبادیاتی انتظامیہ کی مدد سے بلوچستان پر پاکستانی قبضہ کا پہلا قدم تھا برطانوی صوبہ بلوچستان کے حوالہ سے مسلم لیگ اور انگریز انتظامیہ کے اس غیر قانونی اور غیر منطقی اعلان کو قلات نیشنل پارٹی، خانِ قلات اور بلوچ عوام نے یکسر مسترد کرتے ہوئے برطانوی صوبہ بلوچستان کے تمام بلوچ علاقوں ( مستجار اور غیر مستجار) کو ریاست قلات میں شامل کرنے کا مطالبہ کیاتھا۔04 اگست 1947 کو دہلی میں وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی زیر صدارت ریاست قلات اور آلانڈیا مسلم لیگ کے نمائندوں کی گول میز کانفرنس میں بھی ریاست قلات نے صوبہ برٹش بلوچستان کے تمام علاقوں کی واپسی کا مطالبہ دہرایا تھا جسے مسلم لیگ اور وائسرائے نے بڑی مکاری سے یہ کہہ کر ٹال دیا تھا کہ قیام پاکستان کے بعد باہمی بات چیت کے ذریعے ریاست قلات اور پاکستان اس معاملے کی قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے کر فیصلہ کریں گے مگر پاکستان بننے کے بعد پاکستان کے حکمران اپنے وعدوں اوراس معاہدہ پر عملدرامد سے یکسر مکر گئےتھے اس کے برعکس پاکستان نے ریاست قلات ہی کو پاکستان میں شامل کرنے کیلئے دباؤ ڈالنا شروع کیاتھامگر قلات پارلیمان کے دونوں ایوانوں اور خانِ قلات نے پاکستان کے اس توسیع پسندانہ دباؤ کو مسترد کیا تھا۔
17 مارچ 1948 کو خاران، مکران اور لسبیلہ کو پاکستان میں شامل کرکے پاکستان نے بلوچستان پر قبضے کا دوسرا قدم اٹھایا تھا پاکستان کا یہ غاصبانہ اقدام بلوچ قومی وحدت پر ایک بڑا حملہ اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی تھا قلات کو پاکستان میں شمولیت کیلئے راضی کرنے میں جب پاکستان ناکام ہوا تو اس نے یہ دوسرا جارحانہ قدم اٹھایا تھا پاکستان نے بلوچ سرداروں اور والیان کی آپسی قبائلی رقابت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے "تقسیم کرو اور قبضہ کرو” کی پالیسی اختیار کیا تھا پاکستان کی اس جارحیت کو درپردہ برطانیہ کی آشیر واد اور بالواسطہ مدد حاصل تھا کیونکہ برطانیہ نے قلات کے ساتھ اپنے معاہدوں کے تحت نہ تو ریاست قلات کی جغرافیائی سلامتی کی تحفظ کیلئے کوئی مدد کی اور نہ کامن ویلتھ کی جانب سے ریاست قلات کو اسلحہ فروخت کیاگیا۔ کامن ویلتھ کی جانب سے ریاست قلات کو اسلحہ فروخت کرنے میں تاخیر اور انکار کا واضح مقصد بلوچستان کو پاکستانی جارحیت اور قبضہ گیری کیلئے آسان ہدف بنانا تھا۔
پاکستان نے بلوچستان پر قبضہ جمانے کا حتمی قدم 27 مارچ 1948 کو اٹھایا اس روز پاکستانی بحریہ اور زمینی فوجی دستوں نے جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے مکران اور سراوان کے راستے ریاست قلات کے حدود میں داخل ہوکر بلوچستان پر پاکستانی جبری قبضہ کو مکمل کیا تھااور خاران، مکران اور لسبیلہ کی غیر قانونی الحاق پر احتجاج کیلئے کراچی میں موجود خان قلات کو اسی دن پاکستان نے گرفتار کرکے اس سے الحاق نامہ پر بھی زبردستی دستخط لیاتھاپاکستان کی اس کھلی جارحیت اور جبری قبضہ کے خلاف خان قلات کے چھوٹے بھائی جناب آغا عبد الکریم بلوچ کی قیادت میں لگ بھگ پانچ ہزار افراد پر مشتمل ایک بلوچ لشکر نے 16 مئی 1948 کو مسلح مزاحمت شروع کیاتھا۔
جناب آغا عبدالکریم بلوچ اور اس کے رفقاء نے بلوچستان پر پاکستانی جبری قبضہ کے خلاف قومی آزادی کیلئے جس تحریک مزاحمت کی بنیاد رکھا تھا وہ تحریک مختلف نشیب و فراز سے گذر کر آج بھی جاری ہے پاکستان بلوچ تحریک آزادی کو کمزور کرنے کیلئے ایک جانب بھرپور فوجی قوت کا استعمال کرتا رہا ہے تو دوسری جانب بلوچ قومی قوت کو یکمشت ہونے سے روکنے اور بلوچ قوم کو منقسم رکھنے کیلئے ازکار رفتہ قبائلی نظام کو مصنوعی طریقوں سے آکسیجن دے کر ایک بہت ہی مسخ شدہ صورت میں زندہ رکھا ہوا ہے پاکستانی حکمران اپنے نوآبادیاتی حکمرانی اور معاشی لوٹ و کھسوٹ پر پردہ ڈالنے کیلئے اس مسخ شدہ قبائلی نظام کو بلوچ قوم کے خلاف دو دھاری تلوار کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں وہ ایک جانب بلوچ قوم کی معاشی بدحالی و پسماندگی کیلئے میڈیا میں قبائلی نظام اور سرداروں کو ذمہدار ٹھہرا کر اپنے نوآبادیاتی حکمرانی اور معاشی لوٹ کھسوٹ پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور دوسری جانب قبائلی نظام کی اس مسخ صورت کو بلوچ قومی شیرازہ بندی کے سامنے بطور ایک موثر رکاوٹ کے استعمال بھی کرتے رہے ہیں۔
اب اگر کوئی مجھ سے یہ پوچھتاہے کہ بلوچستان پر پاکستانی جبری قبضہ کے ٹھیک بہتر (72) برس بعد آج 27 مارچ 2020 کو بلوچ قومی تحریک آزادی کس مقام پر اور کس حالت میں ہے؟ تو میرا جواب یہ ہے کہ زیردستی میں اتنا طویل عرصہ گزارنے کے بعد آج بھی بلوچ قوم میں نہ صرف آزادی کی تڑپ، مزاحمت اور قربانی دینے کا جذبہ زندہ و تواناہے بلکہ ماضی کے مقابلے میں موجودہ تحریک آزادی میں قومی رنگ زیادہ گہرا بھی ہے موجودہ تحریک آزادی کی قیادت تنظیمی ادارے کررہے ہیں اور یہ تحریک نسبتاً جدید خطوط پر استوار ہے پاکستانی ریاست کی جانب سے بھرپور آکسیجن دیئے جانے کے باوجود قبائلیت سماجی ارتقاء کے ہاتھوں مزید کمزور اور قدرے غیر موثر ہوکے رہ گیا ہے اب بلوچ قومی تحریک آزادی کا مقابلہ کرنے کیلئے ریاست پاکستان قبائلیت سے زیادہ پرائیویٹ لشکروں اور ڈیتھ اسکواڈز کی صورت میں سماج دشمن عناصر کو منظم و مسلح کرنے اور مذہبی انتہاپسندی کو استعمال کرنے پر انحصار کرتا ہوا نظر آتا ہے قبائلیت کمزور اور تحریک آزادی کی جدید خطوط پر استوار ہونے کے باعث موجودہ تحریک آزادی نامساعد حالات اور کوئی واضح بین الاقوامی مدد نہ ہونے کے باوجود گزشتہ دو دہائیوں سے اپنا تسلسل برقرار رکھاہوا ہے۔
تحریک آزادی کی تسلسل کو قومی آزادی کی حصول تک جاری رکھنے، اسے مزید موثر و توانا بنانے کا ایک تقاضہ یہ ہے کہ تحریک آزادی سے وابستہ تنظیموں کی قیادت تنظیمی اداروں کے استحکام، اداروں کی بالادستی، تنظیمی اداروں کی جمعی کارکردگی کو مربوط اور بہتر بنانے کے عمل کو اولیت دیںنے کی پالیسی کو جاری رکھیں کیونکہ یہی وہ عنصر ہے جو تحریک آزادی میں موجودہ تسلسل کا اصل سبب بھی ہے اور اسے ماضی کے مزاحمتی تحاریک سے مختلف و ممتاز بنایا ہے قومی آزادی کیلئے سرگرم مختلف ہمخیال تنظیموں کے درمیان مشترکہ قومی دشمن کےخلاف اتحاد و اشتراک عمل کی جو پالیسی اپنایا گیا ہے اس حکمت عملی کو بھی جاری رکھنے اور مزید مضبوط بنانے کو ترجیح دینا ہوگا کیونکہ آپس میں بیجا مسابقت و مخالفت اور ایک دوسرے کی ٹانگ کھیچنے کا عمل بلوچ قومی قوت کو کمزور کردےگا جبکہ اتحاد و اشتراک عمل سے بلوچ قومی قوت زیادہ سے زیادہ مضبوط و موثر ہوگا دشمن کی طرف سے بلوچ قوم کے خلاف فوجی طاقت کا بےدریغ استعمال، ظلم و بربریت بلوچ تحریک آزادی کو اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتا جتنا نقصان پہچنے کا احتمال اندرونی بیجا اختلافات اور اداروں کی کمزوری سے ہے اب تک بلوچ تحریک میں تنظیموں کے اندر یا مختلف تنظیموں کے درمیان وقتاً فوقتاً جو اختلافات منظر عام پر آتے رہے ہیں ان کی اصل سبب تنظیمی اداروں کی کمزوری، شخصی بالادستی، بیجا ضد، اناپرستی اور کینہ پروری کو قرار دیا جاتا رہا ہے گوکہ ضد، اناپرستی اور کینہ پروری عمومی منفی انسانی رویئے اور نفسیاتی کیفیات ہیں جو بلا امتیاز ملت و مذہب، قوم و قبیلہ، رنگ و نسل، جنس و زبان، ملک و علاقہ ہرجگہ انسانی رویوں میں پائے جاتے ہیں عمومی طور پر غیر ترقی یافتہ و پسماندہ معاشروں میں ان منفی رویوں، رجحانات اور نفسیاتی کیفیات کا اظہار نسبتاً بد تر صورت میں پایا جاتا ہے جبکہ ترقی یافتہ معاشروں میں ،جہاں علم و شعور کی سطح بلند ہے، ان منفی سماجی رویوں و نفسیاتی کیفیات کی شدت کم ہوتی ہے۔
بلوچ سماج و سیاست میں عموماً سرداروں اور اشرافیہ کو ضد، انا پرستی و کینہ پروری اور ان منفی رویوں کے نتیجے میں ہونے والے قومی نقصانات کیلئے ذمہدار ٹھہرا کر ملامت کرنے کی روایت عام ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اب سے پہلے بلوچ سماج و سیاست میں سرداروں کا اثر و رسوخ زیادہ رہا ہے اسلئے بلوچ تحریک کو پہنچنے والے نقصانات کیلئے بھی انہی سرداروں کو ذمہدار ٹھہرایا جاتا رہا ہے بلوچ معاشرہ چونکہ قومی محکومی اور نوآبادیاتی حکمرانی کے شکنجوں میں بُری طرح جکڑا ہوا غیر ترقی یافتہ اور پسماندہ ہے اسلئے کم شعور اور کم تعلیم یافتہ اشرافیہ میں بیجا ضد، جھوٹی اناپرستی اور کینہ پروری کوئی حیرت کی بات نہیں مگر اس کا یہ مطلب بھی نہین ہے کہ عام بلوچ، تعلیم یافتہ، کم یا نیم تعلیم یافتہ سیاسی کارکن و کیڈر ان منفی رویوں اور خصلتوں سے مستثنیٰ و مبرا ہیں حقیقت یہ ہے کہ عام بلوچ بھی اسی معاشرے مین رہتے ہیں اسلیئے وہ بھی شعوری یا لاشعوری طور پر ان منفی رجحانات، رویوں اور خصلتوں سے متاثر ہوسکتے ہیں اسلئے ایسے منفی رویوں کی ہر جگہ اور ہرسطح پر نشاندہی، حوصلہ شکنی اور تدارک کرکے ہی تنظیموں کی وحدت، یکجہتی، اندرونی استحکام، ادارہ جاتی بالادستی اور فعال کارکردگی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے قومی تحریک آزادی کی تسلسل کو برقرار رکھنے اور قومی آزادی کی عظیم مقصد کو حاصل کرنے کیلئے تنظیمی اداروں کا استحکام اور بالادستی تحریک آزادی کا ایک اہم عصری تقاضہ ہے اور حوصلہ افزاء بات یہ ہے کہ بلوچ قومی آزادی کیلئے سرگرم تنظیموں کو ان تقاضوں کا ادراک ہے۔