جبری قبضے کے خلاف جہد مسلسل …. محمد یوسف بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

توسیع پسندانہ عزائم دنیا کو خانوں میں بھانٹنے کی وجہ بنی جہاں ایک محکومیت و مظلومیت تو دوسری جانب استحصالی گروہ یا عرف عام میں سامراجیت ۔اس سامراجی عزم نے دنیا میں اپنے قائم کردہ اثرات سے محکوم اقوام کی تعمیر و ترقی کی تمام راہیں مسدود کردی اور بعض اوقات تو ایسے اقوام کا ذکر بھی سامنے آتا ہے جو آج فقط تاریخ میں زندہ ہے اور اس ظلم و بربریت یا استحصال کا شکار دیگر اقوام میں اس کے اثرات معاشرتی اقدار سے بیگانگی کی صورت میں ہم دیکھ سکتے ہیں جب کہ بعض اقوام ایسے بھی ہیں جو اس ظلم کے خلاف روز اول سے جدوجہد کررہے ہیں ان میں ہم معاشرتی قدروں کو ہم بہتر طور پہ دیکھ سکتے ہیں ، بلوچ قوم دنیا کے انہی اقوام میں سے ہے جو ہر اس قبضہ گیر کے خلاف جدوجہد کرتا رہا ہے جنہوں نے ان کی سرزمین ہڑپنے کی کوشش کی۔

ظالم و مظلوم کا قصہ اس وقت شروع ہوا جب انسان نے معاشرتی زندگی میں قدم رکھا، رفتہ رفتہ سماج اور سماجی ضروریات بڑھنے لگے جس نے ہر سماج کو طاقت کی جانب اکسایا لہذا دنیا میں عسکری سوچ پروان چڑھتا گیا اس موقع پہ جو کمزور تھے وہ یا تو اطاعت قبول کرلیے یا صفحہ ہستی سے مٹ گئے ۔ سماج پروان چڑھتا گیا انسانی ضروریات میں روز افزوں اضافہ ہوتا گیا ، انسانی آبادی اور طاقت کی رسہ کشی نے دنیا میں ایک اور دور کو جنم دیا جس میں انسان عام سماجی زندگی سے نکل کر ریاستی زندگی میں داخل ہوا اور یوں ظلم و بربریت میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ یہ دور جاکے صنعتی دور یا اس سے کچھ عرصہ قبل ایک اور دور میں بدل جاتا ہے جسے عمومی طور پر نوآبادیاتی دور کہا جاتا ہے ۔ اس دور میں انسانوں کا جس طرح لہوبہایا گیا اس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ اس دور کے شاطر کھلاڑی مغربی ممالک تھے جنہوں نے غالباً پوری دنیا میں اپنے نوآبادیات قائم کرلیے جہاں ان ممالک میں انہوں نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا۔ اس استحصال میں ایک جانب محکوموں کو لہوبہایا گیا تو دوسری جانب ان کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ سے سامراج اپنے محل تعمیر کرنے لگے۔

دنیا میں نوآبادیاتی نظام تو بظاہر ختم ہوچکی ہے جبکہ بعض ایک خطے جن میں بلوچستان بھی شامل ہے آج بھی نوآبادیاتی شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔بلوچستان جو تاریخ کے ہردور میں حملہ آوروں کے نشانے پے رہا ہے وہ چاہے ایرانی ہوں، عرب ہوں، افغان، مغل اور انگریز ان قوتوں نے اپنے ادوار میں اس خطے اور اس میں بسنے والوں کا استحصال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جب دنیا کی بڑی طاقتوں کی آپسی رسہ کشی کی وجہ سے مغرب کی طاقت کمزور ہوگئی تو برطانیہ کو بھی یہاں سے کوچ کرنا پڑا۔ اس دور میں بلوچستان کی آزادی کا باقائدہ اعلان بھی ہوا جس میں اولذکر انگریزوں کی صلاح بھی شامل تھی ایک اور بات کہ انگریزوں نے جس طرح ہندوستانی خطے پہ حکمرانی کی یہاں انہوں نے باقائدہ قبضہ نہیں کیا بلکہ مختلف معاہدات کی توسط سے انہوں بلوچ حاکموں کے ساتھ مصالحت کی پالیسی اپنی تھی ، البتہ اس دور میں جب انگریزوں نے اس خطے میں اپنے قدم جمائیں تو انہوں نے بلوچ سماج کو منقسم کرنے کی حددرجہ کوشش کی یہی دراصل ان کا سب سے آزمودہ ہتھیار تھا ۔ اور اسی ہتھیار کو پاکستان نے بلوچوں کے خلاف بھی استعمال کیا جہاں بلوچستان پہ قبضہ کرنے سے قبل ان سے مکران، خاران اور بیلہ کے حاکموں سے سازباز کی لیکن اس کے باوجود بھی اس نے سب سے پہلے ساحل مکران پہ قبضہ کرلیا ۔جو اس امر کی جانب اشارہ ہے کہ بلوچ قابض کے ارادوں کے خلاف عسکری میدان کا رخ کرینگے۔

بلوچ سر زمین کی تعزیرواتی اور جیوپولیٹیکل اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس خطے میں خزائن سے کوئی منکر ہے ۔ماضی میں تو اس خطے کی جیوپولیٹیکل اہمیت ہی تھی جو حملہ آوروں کو ہندوستان، سینتڑل ایشیائ، اورخلیجی ممالک تک رسائی کا بہترین ذریعہ تھا لیکن موجودہ دور میں اس کے معدنی وسائل نے اس خطے کی اہمیت کو مزید وقعت دی ہے اسی لیے آج کا قابض پاکستان اس خطے میں ظلم و بربریت کا ایک عظیم طوفان کھڑا کرچکا ہے ۔

ستائیس مارچ 1948ءبلوچ قومی تاریخ میں ایک سیاہ دن ہے جہاں پاکستانی عسکری اداروں نے یلغار کرکے بلوچستان کو اپنا مقبوضہ بنالیا ۔ اس قبضے کے خلاف بلوچ روز اول سے جدوجہد کررہے ہیں وہ چاہے آغا عبدالکریم خان کی جدوجہد ہو، بابونوروز خان ہو، بابوشیرو مری و نواب خیربخش مری کی تاریخ ساز جدوجہد یا موجودہ جدوجہد الغرض ہر دور میں بلوچوں نے اس ظلم کے خلاف مزاحمت کی ہے ۔ اور موجودہ بلوچ مزاحمت جو اکیسوی صدی کے اوائل میں شروع ہوتا ہے ماضی کے دیگر تحاریک سے زیادہ شدت اس میں پائی جاتی ہے جو ایک جانب بیس سال سے زیادہ طویل ہے تو دوسری جانب اس تحریک میں ہم جماعتی سیاست کو بھی شدت کے ساتھ دیکھ سکتے ہیں اس کے علاوہ موجود تحریک میں بلوچ خواتین نے بھی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ، جنہیں دیکھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ تحریک جدت کا روپ دھار چکا ہے۔موجودہ جدوجہد جو کہ سفارتی ، سیاسی اور عسکری یعنی ہر محاذ پہ محکم صورت میں رونماءہوچکا ہے اور آئے روز کی قربانیوں اور ریاستی جبر کے باجود تحریک کی شدت کم نہیں ہورہی اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بلوچ تحریک آج اس نہج پہ پہنچ کا ہے کہ وہ 27مارچ 1948ءمیں ہونے والے قبضے کے خلاف اس وقت تک لڑتے رہینگے جب تک انہیں ان کی منزل نہیں ملتی۔

٭٭٭

Share This Article
Leave a Comment