ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے بلوچستان میں چھ ماہ سے جاری ہڑتال ختم کرکے سرکاری ہسپتالوں میں تمام سروسز بحال کرنے کا اعلان کردیا۔ یہ بات ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ڈاکٹر بہار شاہ نے بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیر صحت احسان شاہ کے ہمراہ سول ہسپتال کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی اس موقع پر سیکرٹری صحت،ڈی سی کوئٹہ اور ایس ایس ی آپریشن بھی موجود تھے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ڈاکٹر بہار شاہ نے کہا کہ 9 فروری کوحکومت سے مذکرات ہوئے وزیر صحت کو تمام معاملات بتائے تھے وزیر صحت نے ہمارے حق میں اسمبلی فلور پر بھی بات کی گئی۔انہوں نے کہا کہ رمضان کے احترام میں تمام سروسز بحال کر رہے ہیں ابھی تک مطالبات پر عملدرآمد کا تاحال نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہواہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف در کی گئیں ایف آئی آر واپس لی جائیں گی۔
ڈاکٹرز کے خلاف جتنی بھی انتقامی کاروائیاں ہوئی ہیں ان کا ازالہ کیا جائے۔ڈاکٹر بہار شاہ نے کہا کہ اگر سیاسی طور پرمحکمہ صحت میں سرپرستی نہیں ہوگی تو سب بہتر ہوگا ڈیوٹی نہ دینے والے ڈاکٹرز کی کبھی سفارش نہیں کی۔صوبائی وزیر صحت سید احسان شاہ نے کہا کہ یہ تمام معاملات میرے آنے سے قبل سے چل رہے تھے ڈاکٹرز کا مسئلہ جام کمال کے دور سے چل رہا تھا پہلی بار جو مذکرات ہوئے ان میں حل نکل آیا تھا۔انہوں نے کہا کہ میرے علم میں لائے بغیر ڈاکٹرز کے خلاف اقدامات کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز کے مذاکرات میں الاؤنس اور دیگر ذاتی مطالبات ینگ ڈاکٹرزنے الاؤنس اور تنخواہوں میں اضافے کے مطالبات واپس لے لیے۔
انہوں نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز نے ہسپتالوں میں سہولیات اور خالی آسامیوں پر بھرتی کی بات کی میں نے ڈاکٹرز سے وعدہ کیا کہ جو بات ہوئی اس پر عمل کی ذمہ داری میری ہے۔ وزیر صحت احسان شاہ نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز اورسینئر ڈاکٹرز کے مثبت رویے پر مشکور ہوں کل سے اگر کوئی ڈاکٹر ہڑتال کے نام پر نہ آیا تو بیڈ ایکٹ کے تحت کاروائی ہوگی، وزیر صحت انہوں نے کہا کہ ہڑتال کے دوران غریب مریضوں نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں، صحت کے شعبے میں 60 ارب خرچ ہوتے ہیں افسوس سہولیات کوئی نہیں ہیں۔صوبائی وزیر صحت سید احسان شاہ نے کہا کہ بلوچستان میں 2 لاکھ 70 ملازمین ہیں ہمارے صوبے میں انڈسٹریز نہیں ہیں مجبوراً لوگوں کو سرکاری نوکریاں دینی پڑتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز کو صوبے کی مالی معاشی صورتحال سے آگاہ کیا پیرا میڈیکس کے ہیلتھ پروفیشنلز الائونس 1500 سے 3 ہزار کردیا ہے۔