جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ اور اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان نے آج نیوز کے پروگرام ’فیصلہ آپ کا‘ میں بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’انھوں نے تو شاید عمران خان کو ایک اثاثے کے طور پر ابھی زندہ رکھنا ہے تاکہ کل کو پھر کسی جمہوری حکومت کے خلاف اسے ایک مہرے کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آج جب اس کی حکومت ہے، ادارے بااختیار ہیں نواز شریف کو نکال سکتے ہیں، یوسف رضا گیلانی کو نکال سکتے ہیں تو اس کے لیے وہ کیوں اس سردمہری کا مظاہرہ کر رہے ہیں، تاکہ کل کو پھر اس کو ایک اثاثے کے طور پر محفوظ رکھا جائے؟ اور کل پھر کسی جمہوری حکومت کے خلاف استعمال کیا جائے؟‘
میزبان عاصمہ شیرازی کے سوال کے جواب میں انھوں نے فوج کے نیوٹرل ہونے کے دعوے کے حوالے سے کہا کہ ’نیوٹریلیٹی مشکوک ہے، نیوٹریلیٹی کوئی چیز نہیں ہوا کرتی، ہاں نیوٹریلٹی کا ہم احترام کریں گے، آئندہ بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جو گند اس ملک پر مسلط ہوا ہے، اور اس میں جو ان کا کردار ہے پہلے اپنے اس کردار کو دھو لیں اس کو صاف کر لیں شفاف نظام ملک میں آئے۔‘
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’حکومت کے لیے اور ریاست کے لیے فوج آخری قوت ہے، جب حکومت کو ضرورت پڑے تو بلائیں انھیں اگر کوئی اور راستہ نہ ہو۔‘
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’اب بھی اداروں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اس سازش میں شریک ہیں جو کچھ ہوا ہے۔‘
انھوں نے آج نیوز پر عاصمہ شیرازی کے پروگرام فیصلہ آپ کا میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آئی ایس پی آر کہتا ہے کہ ’ہم غیر جانبدار ہیں، اس قسم کے اقدام سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔
’آج ساری دنیا کہہ رہی ہے کہ جو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس میں ہوا ہے یہ بار بار اس کا حوالہ دے رہا ہے، کہاں ہیں جرنیل جو اپنی پوزیشن واضح کریں، کیوں آپ اس موقع پر خاموش بیٹھے ہوئے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ہم ادارے کو ادارے کے طور پر دیکھتے ہیں، افراد بگڑتے ہیں، افراد کا کوئی اعتبار نہیں۔ اب بھی اداروں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اس سازش میں شریک ہیں جو کچھ ہوا ہے۔‘
ان کا اس دعوے سے متعلق مزید کہنا تھا کہ ’میں تو بڑی بات جب کرتا ہوں، سزا بھی بھگتوں گا، پرواہ نہیں ہے اس کی، لیکن ایسے شخص موجود ہیں، اور ہمیں نہ مجبور کیا جائے کہ ہم پھر اس کا نام لیں اور کہیں کہ آپ نے اداروں میں فلاں آدمی کا نام کیوں لیا۔‘
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’کیوں آئی ایس آئی کے چیف کو بریفنگ کے لیے عدالت نہیں بلایا جا رہا ہے، یہ ساری چیزیں واضح ہونی چاہییں۔
’یہ نہیں ہے کہ ہم احترام میں خاموش رہیں، ورنہ معاملہ دفن ہو جائے گا جمہوریت دفن ہو جائے گی۔‘
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’ہم کھل کر بولیں گے، کوئی کہے کہ فوج کے بارے میں بات نہ کریں لیکن ملک کے لیے کروں گا۔ فوج کو فوری طور پر اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔ جو شناختی کارڈ ان کے پاس ہے وہی میرے پاس ہے، ہم سب برابر کے شہری ہیں۔‘