ہمیں مجبوراً ایران سے زائرین کو لینا پڑا، جام کمال

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ جام کمال کا کہنا ہے تفتان میں پانچ ہزار زائرین کے لیے انتظامات کرنا بہت مشکل تھا، انتظامات کیسے کیے گئے، یہ ہم ہی جانتے ہیں۔

جام کمال نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ایران میں کورونا کی وبا پھیلنے کے بعد وہاں کی حکومت ہمارے زائرین کو اپنے پاس نہیں رکھ سکی لیکن ہم نے ایران سے آنے والے زائرین میں کوئی فرق نہیں کیا کہ ان کا تعلق کہاں سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ زائرین کے سرحد پر آنے کے باعث ہمیں زائرین کو لینا پڑا، تفتان میں پانچ ہزار زائرین کو رکھنے کے لیے انتظامات کیسے کیے، وہ ہم ہی جانتے ہیں، وہاں موجود انتظامیہ اور ڈاکٹروں نے 100 گنا زیادہ کام کیا ہے۔

کٹھ پتلی وزیراعلیٰ نے کہا کہ تفتان کے حوالے سے بہت سی باتیں کی گئیں، مجھے اس حوالے سے سیاست دانوں، اینکر پرسنز اور تجزیہ کاروں پر افسوس ہے، ان لوگوں نے وہاں کے عوام، ڈاکٹروں اور انتظامیہ کا مذاق بنایا کہ لوگ 500 مہمان سنبھال نہیں سکتے، یہ تو وقت بتائے گا کہ کس نے کتنا کام کیا۔

جام کمال کا کہنا تھا کہ بہت سارے لوگوں نے ہمارا حوصلہ بڑھایا اور ہماری رہنمائی کی، گزارش ہے کہ قوم کی حوصلہ شکنی کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کریں، بہت سارے لوگ بہت اچھا کام کر رہے ہیں اور یہی قوم کے اصل ہیروز ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ وائرس بہت ساری تبدیلیاں لا چکا ہے، ہمیں اپنے کردار اور اپنی سوچ میں بھی بہت ساری تبدیلیاں لانا ہوں گی۔

واضح رہے کہ تفتان کے پاکستان ہاو¿س اور کسٹم ہاو¿س میں قائم قرنطینہ مراکز میں ہزاروں افراد کو 14 روز کے لیے رکھا گیا تھا اور یہ قرنطینہ مراکز خیموں کی بستی پر مشتمل تھا۔

تفتان میں قائم خیمہ بستی میں سہولیات کے فقدان کی نشاندہی بھی کی گئی تھی۔

زائرین کی اکثریت میں مہلک وائرس کی تصدیق کے بعد تفتان میں قرنطینہ کے نام پر قائم خیمہ بستی آباد کرنے پر سوالات اٹھائے گئے تھے جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، اس کے بعد ملک میں پھیلنے والی وباءکا مرکز بھی تفتان کو قرار دیا گیا تھا۔

Share This Article
Leave a Comment