پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسمعیل خان میں ایک مدرسے کی تین خواتین اساتذہ نے اپنی ہی ایک ساتھی اساتذہ کو توہین رسالت کے مبینہ الزام میں قتل کر دیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ مقتولہ پر چھری سے وار کیے گئے۔
یہ واقعہ انجمن آباد نامی علاقے میں منگل کی صبح ساڑھے آٹھ بجے پیش آیا۔
پولیس کے مطابق قتل کی یہ واردات مدرسے کے دروازے پر پیش آئی۔ اس سلسلے میں جن تین استانیوں کو حراست میں لیا گیا ہے انہوں نے پولیس کے سامنے تسلیم کیا کہ انہوں نے توہین رسالت کے الزام میں اپنے ساتھی خاتون کو قتل کیا ہے۔
پولیس نے اس واقعے میں ملوث ہونے کے شبے میں مدرسے کی مذکورہ تینوں استانیوں کے علاوہ ایک 13 سالہ طالبہ کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ گرفتار شدگان خواتین آپس میں رشتہ دار ہیں۔
مدرسے کا نام جامعہ اسلامیہ فلاح البنات بتایا جا رہا ہے اور قتل کی جانے والی خاتون اس مدرسے میں درس و تدریس کا کام کرتی تھیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق مقتولہ پر پہلے چھریوں سے حملہ کیا گیا، جس دوران وہ زخمی ہو گئیں۔ پھر زخمی حالت میں ان کا گلا کاٹ دیا گیا۔
مدرسے کی انتظامیہ نے تاہم توہین رسالت کے الزام کو مسترد کر دیا ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ یہ واقعہ ذاتی رنجش کا نتیجہ ہے۔ اس واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔