بلوچستان میں ایران ذریعے پاکستان مخالف گروپس منظم ہورہے ہیں، وزارت داخلہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستان کے وزارت داخلہ نے انکشاف کیا ہے بلوچستان میں ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان کے ذریعے پاکستان مخالف گروپس دوبارہ منظم ہورہے ہیں۔

یہ انکشاف قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران پیپلز پارٹی کی ایم این اے ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ اسلم سومرو کے سوال پر جمع کرائے گئے تحریری جواب میں ہوا۔

انہوں نے پوچھا تھا کہ کیا یہ سچ ہے کہ ’پاکستان مخالف تنظیمیں ایرانی صوبہ سیستان بلوچستان کے ذریعے بلوچستان میں دوبارہ منظم ہو رہی ہیں اور اگر یہ سچ ہے تو اس پر ایکشن پلان کے ساتھ اس کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

سوال کے جواب میں وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ ’جی ہاں بلوچستان میں سیستان کے ذریعے پاکستان مخالف گروپس منظم ہورہے ہیں‘۔

وزیر داخلہ شیخ رشید احمد سے منسوب جواب میں حکومت کی جانب سے اس رجحان کو کم کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا۔

قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے جواب کے مطابق نیشنل انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی (این آئی سی سی) کو مؤثر اور بروقت جوابی اقدامات کے لیے تمام وفاقی اور صوبائی انٹیلی جنس گرڈز کو مربوط کرنے کے لیے ادارہ جاتی شکل دے دی گئی ہے۔

جواب میں مزید کہا گیا کہ سرحد کے مؤثر انتظامات اور مغربی سرحد پر باڑ لگانے سے بھی اس سلسلے کو روکا جائے گا۔

وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان مخالف تنظیموں کے خاتمے کے لیے مسلسل انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جارہے ہیں جبکہ انسداد دہشت گردی کی صلاحیتوں کو بھی بڑھایا جارہا ہے۔

جواب میں ناراض بلوچ قبائلیوں سے مفاہمت سے متعلق حالیہ حکومتی اقدامات کی یاد دہانی بھی کروائی گئی۔

مذکورہ اقدامات میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں انتہا پسندی کو ختم کرنے کے لیے خصوصی سماجی و اقتصادی ترقیاتی پیکجز اور نوجوانوں کو تعمیراتی سرگرمیوں میں مشغول کرنے کے ساتھ ساتھ ’احساس پروگرام‘ کے ذریعے معاشرے کے پسماندہ طبقے کے مسائل کا حل شامل ہے۔

Share This Article
Leave a Comment