افغانستان: بی بی سی کے بعدطالبان نے ڈی ڈبلیو کی نشریات پر بھی پابندی لگا دی

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

افغان طالبان نے غیر ملکی میڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن بڑھا دیا ہے۔ جرمنی کے بین الاقوامی نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کے پشتو اور دری زبانوں کے پروگراموں پر بھی افغانستان میں طالبان کی حکومت نے پابندی لگا دی ہے۔

قبل ازیں کابل میں طالبان کی حکومت نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے پشتو، فارسی اور ازبک نیوز بلیٹنز کے افغانستان میں نشر کیے جانے پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔

جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے (ڈی ڈبلیو) کے ڈائریکٹر جنرل پیٹر لمبورگ کی جانب سے پیر 28 مارچ کر جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ”افغانستان میں آزادی صحافت اور اظہار رائے پر بڑھتی ہوئی پابندیاں بہت پریشان کن ہیں۔“ پیٹر لمبورگ کا کہنا تھا کہ طالبان کی جانب سے ڈی ڈبلیو کے مواد کے نشر کیے جانے کو مجرمانہ ٹھہرانا افغانستان میں ترقی کے مواقع کو روکنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا، ”آزاد میڈیا ترقی کے لیے ضروری ہے۔ ہم ہر وہ کام کریں گے، جس کے ذریعے ہم افغان عوام تک انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے غیر جانبدارانہ معلومات پہنچاتے رہیں۔“

ادھر طالبان حکومت کے نائب ترجمان انعام اللہ سمنگانی نے طالبان انتظامیہ کے اس اقدام کو درست قرار دیا ہے۔ سمنگانی کے مطابق انٹرنیشنل میڈیا کی جانب سے، خاص طور پر ٹی وی پر نشر کردہ مواد پر طالبان کا کوئی کنٹرول نہیں کہ کس رپورٹر نے کیسا لباس پہنا رکھا ہے۔ انعام اللہ سمنگانی کا مزید کہا کہ بعض اوقات غیر ملکی میڈیا کی جانب سے ایسا مواد نشر کیا جاتا ہے، جو افغانستان کے مذہبی اور ثقافتی عقائد اور قومی مفادات کے خلاف ہوتا ہے۔ لہٰذا ٹی وی چینلز پر غیر ملکی میڈیا کے پروگراموں کے نشر کیے جانے کو بند کر دیا گیا ہے۔

افغانستان میں خواتین کے لیے ٹی وی نشریات کے دوران حجاب پہننا ضروری ہے۔ مقامی میڈیا کے لیے طالبان کے زیر انتظام ملک کا نام لیتے ہوئے ‘اسلامی امارت افغانستان‘ کہنا لازمی ہے۔

طالبان نے ان مقامی میڈیا چینلز کو بھی نقصان پہنچایا ہے، جنہوں نے طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خواتین کے مظاہروں کو نشر کیا تھا اور جنہوں نے طالبان کے عام شہریوں پر کریک ڈاؤن کو بھی نشر کیا تھا۔

ڈی ڈبلیو افغان ٹی وی چینلز پر سائنس شو اور ایک سیاسی شو نشر کر رہا تھا۔

بی بی سی ورلڈ سروس میں شعبہ لینگوئجز کے سربراہ طارق کفالہ کا کہنا ہے کہ 60 لاکھ سے زیادہ افغان شہری بی بی سی کی ‘آزادانہ اور غیر جانبدارانہ صحافت‘ سے مستفید ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت اہم بات ہے کہ انہیں اس رسائی سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔

بی بی سی کی ایک نیوز اینکر اور نامہ نگار یلدہ حکیم نے طارق کفالہ کے بیان کو ٹویٹ کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے، ”ہم طالبان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لیں اور فوری طور پر بی سی سی کے ٹی وی پارٹنرز کو اس کے نیوز بلیٹنز نشر کرنے کی دوبارہ اجازت دی جائے۔“

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے افغانستان کے ایک میڈیا ادارے ایم او بی وائی گروپ کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ طالبان حکمرانوں نے اپنی خفیہ ایجنسیوں سے مشاورت کے بعد وائس آف امریکہ کی نشریات کو بھی فی الوقت بند کر دینے کے لیے کہا ہے۔

طالبان نے گزشتہ سال اگست میں افغانستان میں دوبارہ اقتدار سنبھالا تھا۔ انتہائی سخت گیر خیالات کے حامل طالبان نے لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول بھی ابھی تک بند کر رکھے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment