مقبوضہ بلوچستان کے کٹھ پتلی سینئر وزیر ظہور بلیدی سے قلمدان واپس لے کر انہیں کابینہ سے بھی فارغ کردیا گیاہے۔
محکمہ نظم ونسق کی جانب سے جاری نوٹی فیکشن کے مطابق ظہور بلیدی سے سینئر وزیر کا قلمدان واپس لے لیا گیا ہے۔
ظہور بلیدی کو کچھ روز قبل وزیر منصوبہ بندی کے عہدے سے بھی ہٹایا گیا تھاجبکہ وہ سابق وزیر خزانہ بھی رہے تھے۔
کہا جارہا ہے کہ ظہور بلیدی اپوزیشن کو 30 ارب کے فنڈز دیے جانے پر وزیراعلیٰ بلوچستان سے ناراض تھے۔
بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جب جام کمال کو وزارت اعلیٰ کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا تو گمان یہی تھا ظہور بلیدی کو وزرت اعلیٰ کی منصب دی جایا جائے گا لیکن جب قدوس بزنجو کو اس منصب سے نوازا گیا تو ظہور بلیدی اور قدوس بزنجو کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔