بنگلہ دیش: جماعت اسلامی کا ایک اور سابق رکن اسمبلی کو سزائے موت

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بنگلہ دیش کی عدالت نے 1971 میں ہونے والی جنگ سے متعلق جرائم کے حوالے سے جماعت اسلامی کے سابق رکن اسمبلی عبدالخالق مندول سمیت دو سیاسی رہنماؤں کو سزائے موت سنادی۔

ترک خبر ایجنسی اناطولو کی رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی کے رہنما عبدالخالق مندول سابق رکن اسمبلی اور اس وقت جماعت اسلامی کے ضلعی سربراہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی کے رہنما کے ساتھ ایک اور سیاسی رہنما خان رکن الزمان کو بھی سزا سنائی گئی ہے تاہم وہ مفرور ہیں۔

انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کے تین رکنی بینچ نے مذکورہ فیصلہ سنادیا، اس ٹریبونل کی تشکیل 2009 میں ہوئی تھی۔

جماعت اسلامی کے رہنما کے وکیل مطیع الرحمٰن کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔

اس سے قبل عبدالخالق مندول کو 2015 میں گرفتار کیا گیا تھا، بعد ازاں ان پر جرائم عائد کیے گئے تھے۔

ان کے خلاف 2018 میں ٹرائل کا آغاز ہوا تو 4 ملزمان نامزد تھے لیکن ان میں سے 2 افراد ضعیف العمری اور خرابی صحت کے باعث انتقال کر گئے۔

خیال رہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت کی جانب سے قائم کیے گئے انٹرنیشنل کرائم ٹریبونل کے ذریعے جماعت اسلامی کے متعدد رہنماؤں سمیت درجنوں افراد کو پھانسی دی جاچکی ہے۔

خصوصی ٹریبونل نے نومبر 2017 میں جماعت اسلامی کے 6 رہنماؤں کو سزائے موت سنائی تھی۔

ان رہنماؤں کو 1971 میں پاکستانی فوج کی جنگی جرائم میں معاونت اور بنگالی مرد عورت، بچوں کے قتل عام اور ریپ جیسے گھناؤنے عمل کے خلاف جرائم ثابت ہونے پر سزا سنائی گئی تھی۔

سزائے موت پانے والوں میں ابو صالح محمد عبدالعزیز میاں، روح الامین عرف منجو، ابومسلم محمد علی، عبداللطیف، نجم الہدیٰ اور عبد الرحیم میاں شامل تھے، جن میں سے عبداللطیف اس وقت جیل میں موجود تھے جبکہ دیگر مفرور تھے۔

ان پر ذیلی ضلع گائے بندھا صدر کے گاؤں موجامالی میں ہندو شہری کو لوٹنے اور قتل کرنے، چھترا لیگ کے رہنما کے قتل اور ضلع کے قصبے سندر گنج کی 5 یونینز کے 13 چیئرمین اور اراکین کو قتل کرنے کا الزام تھا۔

یاد رہے کہ جماعت اسلامی کے سپریم لیڈر کو 2016 میں پھانسی دی گئی تھی، ان رہنماؤں کو دی گئی تھی۔

Share This Article
Leave a Comment