خاران و پنجگور سے فورسز ہاتھوں 5افراد جبری طور پر لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے علاقے خاران اور پنجگور سے پاکستانی سیکورٹی فورسز اورریاستی ڈیتھ اسکواڈنے 5افراد کو جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مقبوضہ بلوچستان کے علاقے خاران شہر سے سی ٹی ڈی اور ایف سی نے مختلف اوقات اور مقامات سے 4 افراد کو ماورائے عدالت حراست میں لے کر لاپتہ کردیا ہے۔

لاپتہ افراد کی شناخت موٹر سائیکل ساز امتیاز ولد عبد الحمید، اختر ولد محمد افضل، رضوان آحمد ولد عبد الباسط، اور مطیع اللہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق قابض ایف سی اور سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے 21 مارچ کو رات گئے فوجی جارحیت کرتے ہوئے خاران شہر میں لیویز تھانہ کے قریب واقع ایک گھر پر چھاپہ مارا جہاں سے انہوں نے امتیاز ولد عبد الحمید نامی نوجوان کو اغواء کرلیا۔ اس دوران فورسز نے گھر سے موبائل فونز اور کمپیوٹر بھی ساتھ لے گئے۔

بعد ازاں کُلان ایریا میں فوجی جارحیت سے دو افراد رضوان آحمد ولد عبد الباسط اور مطیع اللہ کو اغواء کرلیا۔ جبکہ آج بروز 23 مارچ کو فورسز نے وڈھ ایریا میں مزدوری کے دوران اختر ولد افضل کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کرنے کے کچھ گھنٹوں بعد رہا کر دیا۔

علاوہ ازیں ذرائع کے مطابق ان چھاپوں کے دوران گزشتہ ہفتے قابض فورسز کے ہاتھوں اغواء ہونے والے نوجوان شاہ فہد کے گھر میں سی ٹی ڈی اور ایف سی اہلکاروں نے ایک مرتبہ پھر سے چھاپہ مارا ہے،۔

علاقائی ذرائع کے مطابق گزشتہ دنوں ایف سی اور سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے شاہ فہد ولد پٹواری محمود خان کے گھر پر چھاپہ مار کر شاہ فہد کو لاپتہ کرنے کے علاوہ گھر میں لوٹ مار کرتے ہوئے نقدی، زیورات اور موبائل فونز سمیت دیگر قیمتی اشیاء بھی اپنے ساتھ لے گئے ہے۔

واضح رہے کہ خاران میں قابض ایف سی کے ہمراہ سی ٹی ڈی کے اہلکار تمام چھاپوں، ماورائے عدالت گرفتاریوں اور گھروں چادر و چار دیواری کی پامالی سمیت لوٹ مار میں برائے راست شریک ہے۔

ایک خاص ذرائع کے مطابق خاران میں سی ٹی ڈی کے تعینات افسران بلخصوص اشتیاق پنجگوری اور عبداللہ سیاپاد ان ماورائے عدالت اور اغواء نما گرفتاریوں میں برائے راست ملوث ہیں۔

اسی طرح ضلع پنجگور کے علاقے چتکان غریب آباد سے مسلح افراد نے ایک شخص کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔

جس کی شناخت غنی ولد لشکری کے نام سے ہوگئی ہے۔

علاقائی ذرائع مسلح افراد کا تعلق ریاستی ڈیتھ اسکواڈ سے جوڑ رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ہفتے کی رات تین بجے انہوں نے غنی لشکری کے گھر پر چھاپہ مارکر خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنا یا اور گھر کے قیمتی اشیا لوٹنے کے بعد غنی کو اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے جو تاحال لاپتہ ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment