بلوچستان نیشنل پارٹی ضلع کوئٹہ کے زیر اہتمام سردار منیر احمد چوک برمہ ہوٹل کوئٹہ میں گلزار دوست بلوچ اور ان کے دوستوں کا کوئٹہ پہنچنے پر والہانہ استقبال کیا گیا۔
سول سوسائٹی کے رہنماء گلزار دوست بلوچ یعقوب جوسکی اور ان کے دیگر دوست گزشتہ ایک مہینے سے کیچ کے علاقے سے لیکر لاپتہ افراد کے بازیابی منشیات کے خاتمے کیلئے پیدل لانگ مارچ کے سلسلے میں 27فروری سے نکلے تھے جو آج کوئٹہ پہنچے۔
کوئٹہ پہنچنے پر بی این پی اور بی ایس او کے مرکزی وضلعی اور دیگر کارکنوں اور عہدیداروں نے ان کا شاندار استقبال کیا ان پر پھول نچاور کیے اور ہار پہنائے گئے اور ان کی طویل سیاسی سفر وتاریخی پیدل لانگ مارچ کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔
گلزار دوست، یعقوب جسکی، میر محمد رفیق کھوسہ اور ان کے دیگر دوست آج جب برمہ ہوٹل منیر احمد چوک پہنچے تو اس موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی انسانی حقوق کے سیکرٹری ایم پی اے احمد نواز بلوچ، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین وضلعی صدر بی این پی کوئٹہ غلام نبی مری، انجینئر ملک محمد ساسولی، بی ایس او کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری قادر بالاچ بلوچ، بی این پی کے ضلعی جنرل سیکرٹری میر جمال لانگو، سینئر نائب صدر ملک محی الدین لہڑی، فنانس سیکرٹری میر محمد اکرم بنگلزئی، لیبر سیکرٹری عطاء اللہ کاکڑ، پروفیشنل سیکرٹری میر غلام مصطفی سمالانی سمیت پارٹی کے دیگر عہدیداران کارکنان کثیر تعداد میں موجود تھے۔
یاد رہے کہ 27 فروری کو سول سوسائٹی کے رہنماء گلزار دوست بلوچ اور ان کے ساتھی کیچ سے پیدل لانگ مارچ کے سلسلے میں نکلے جو 22دنوں کا یہ سفر طے کرکے 780 کے قریب کلو میٹر کا فاصلہ طے کرکے ایک تاریخ ساز جدوجہد رقم کیے جو لاپتہ افراد جبری گمشدگیوں اور منشیات کے خاتمے کیلئے شعوری اور فکری نظریاتی جدوجہد کو تقویت دینے کے سلسلے میں تما م تر مصائب مشکلات اور حالات کا مقابلہ کیا بلوچستان میں آج بھی نہتے بلوچوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ جاری وساری ہے جس کے نتیجے میں بلوچستان کے دیرینہ سیاسی مسائل حل ہونے کے بجائے گمبھیر ہوتے جارہے ہیں۔
لانگ مارچ شرکا کا موقف ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ خالصتاً سیاسی ہے۔لاپتہ افراد کو بازیاب کرکے ان کے لواحقین کو انصاف دلایا جائے، ملک کی آئین میں یہ واضح طور پر موجود ہے کہ اگر کسی فرد پر کسی قسم کا کوئی الزام ہو تو عدالتیں موجود ہیں انہیں پیش کرکے فری ٹرائل کا موقع دیا جائے، جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری طور پر ختم کیا جائے، آج بلوچستان میں چھپے چھپے سے منشیات کی سرعام خرید وفروخت کے نتیجے میں نوجوان نسل نہایت ہی تباہی اور پسماندگیوں کے طرف دھکیلے جارہے ہیں، منشیات کے تمام اڈوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔
بی این پی اور بی ایس او کے رہنماؤں نے کہا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی اور منشیات کی خاتمے کیلئے ہمارا روز اول سے اصولی موقف ہے کہ ایسے مسائل سے بلوچستان میں مزید پسماندگیاں اور محکومیت کی طرف دھکیل کر احساس محرومی کو تقویت دیا جائے گی جوکہ کسی بھی شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کیلئے سود مند نہیں ہے۔
بی این پی کے اکابرین نے سپریم کورٹ اور ملک کی دیگر عدالتوں میں بھی لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے آواز بلند کی، 6 نکات میں سب سے پہلے لاپتہ افراد کی بازیابی سرفہرست ہے کیونکہ ہمیں بلوچستان کے مفادات تمام تر چیزوں سے عزیز ہیں۔