نیشنل پارٹی اور مجلس فکر و دانش نے ریکوڈک معاہدے کو مسترد کردیا

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

نیشنل پارٹی کے مرکزی کابینہ کا اجلاس مرکزی صدر وسابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک کی صدارت میں کوئٹہ میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال اور بلوچستان کے مسائل کو زیر بحث لایا گیا۔

اجلاس نے ریکوڈک کاپر اینڈ گولڈ معاہدہ کو بلوچستان کے عوام کے قومی وسائل پر قبضہ قرار دیکر عوام دشمن معاہدے کو مکمل طور پر مسترد کردیا۔

مرکزی کابینہ نے ریکوڈک معاہدے کو ترقی کے نام پر عوام کے ساتھ فراڈ قرار دیا اور موقف اختیار کیاکہ بلوچستان حکومت کو قومی وسائل کو اونے پونے داموں فروخت کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی۔ بلوچستان کے عوام اور نیشنل پارٹی ریکوڈک کاپر اینڈ گولڈ پروجیکٹ معاہدے کو مکمل مسترد کرتے ہیں۔

نیشنل پارٹی کی مرکزی کابینہ نے موقف اختیار کیاکہ بلوچستان حکومت نے عجلت میں اجلاس بلاکر ریکوڈک معاہدے کی توثیق کی ہے جس میں کابینہ کے اراکین کی اکثریت بھی موجود نہیں تھی جس سے بلوچستان حکومت کی بددیانتی ثابت ہوتی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت اخلاقی طور پر عدم اعتماد کی تحریک کے بعد اپنا مینڈیٹ کھوچکی ہے۔

بیان میں کہا گیاکہ ریکوڈک کے حوالے سے خفیہ معاہدہ کسی صورت قبول نہیں جس معاہدے کے بارے میں بلوچستان کے عوام کو آگاہی نہیں ایسے معاہدے کو کسی بھی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ ملک میں اس وقت سیاسی بحران ہے، مرکزی حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد آچکی ہے۔ وفاقی حکومت اپنی اکثریت کھوچکی ہے لہٰذا ایسی حکومتوں کو قومی وسائل کے حوالے سے فیصلے کا اختیار نہیں جبکہ بلوچستان کی کابینہ کا اجلاس بھی مشکوک ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ایسے معاہدوں کی جس میں عوامی و قومی مفادات کی پاسداری نہیں کی گئی ہو اس کا مستقبل گزشتہ ریکوڈک معاہدے سے بہتر نہیں ہوگا ایسے کسی بھی معاہدے کو بلوچستان کے عوام ہر گز قبول نہیں کریں گے۔

بررک گولڈ کو معاہدے پر نظرثانی کرنا ہوگی بصورت دیگر اس معاہدے کا انجام بھی گزشتہ معاہدے سے بدتر ہوسکتا ہے۔

اسی طرح سینئر سیاست دان و مجلس فکر و دانش کے سربراہ عبدالمتین اخونزادہ نے ریکوڈک ڈیل کی منظوری کوآئندہ نسلوں کے حق پر ڈاکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی بدقسمتی دیکھنے کے قابل ہے کہ ریکوڈک منصوبے جیسے قابل فخر اور باعث مال و زر کے دولت رکھنے کے باوجود صوبہ میں مصنوعی قیادتوں کے باعث معاشرتی ترقی و خوشحالی اور امن و سکون کے دن دور دور تک نظر نہیں آتے ہیں۔

بلوچستان کابینہ کا ہفتہ 19 مارچ 2022ء کے روزعجلت میں ریکوڈک ڈیل کی منظوری آئندہ نسلوں کے حق پر ڈاکہ و اپنے اقتدار کو بچانے کاحربہ و ریاست کے طاقتور ادارے کی خوشنودی، اس کے مفادات کا تحفظ ہے۔ اس سے پہلے صوبائی اسمبلی میں نام نہاد اپوزیشن جماعتوں کی مرضی و منشاء سے بزنجو حکومت نے ڈمی بریفنگ دی تھی۔

عبدالمتین اخونزادہ نے کہا کہ پہلے بھی حکمرانوں نے غیر ملکی کمپنیوں سے معاہدہ کرکے بلوچستان کو گروی رکھ دیا، جس میں قوم پرست، سردار اور نواب کے ساتھ ساتھ نیم مذہبی جماعت کے رہنماء برابر شریک رہے ہیں، اب ان سنگین نوعیت کے ناقابلِ عمل اعادہ، ناقابل معافی جرائم قابل مذمت ہیں۔ اس طرح کے اقدامات بلوچستان کے عوام اور وسائل کے ساتھ غداری و وقتی فوائد کے حصول کا ذریعہ و بدنیتی پر مبنی مسودہ آئین و قانون کے و سپریم کورٹ کے فیصلوں کے منافی ہیں۔

عبدالمتین اخونزادہ نے کہا کہ سابق ممبر قومی اسمبلی مولانا عبدالحق بلوچ مرحوم کی روح تڑ پے گی کہ آج پھر امریکی کمپنی بررک گولڈ سے معاہدہ کیا گیا ہے، پہلے ہی بلوچستان کو گزشتہ تیس سال سے سراب کے پیچھے لگایا ہے نہ کچھ نکالتا ہے نہ عوام کو فائدہ بس صرف کاغذوں میں وسائل کو ہتھیانا مقصد ہے تاکہ پاکستان خود یا کوئی اور کمپنی یہ کام نہ کرسکے۔

عبدالمتین اخونزادہ نے کہا کہ صوبے کے اہل سیاسی و سماجی شخصیات اور قیادتوں کو آگے بڑھ کر اس اہم ترین مقدمے کے لئے نئے پیراڈایم میں ترقیاتی اپروچ اور منصفانہ سماجی و معاشی شعور کے ساتھ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ورنہ ترقیاتی منصوبوں اور تعمیری ماحول کی تشکیل و تعمیر نو کے لئے بلوچستان کے پاس کچھ نہیں بچے گا اور آئندہ نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

Share This Article
Leave a Comment