نوروز تہوارکا تصور اسلام میں نہیں،سرکاری طور پرنہیں مناتے، طالبان

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ طالبان حکومت افغان عوام کو نوروز کا تہوار منانے سے نہیں روکے گی لیکن طالبان حکومت سرکاری طور پر بھی نوروز نہیں منائے گی۔

انھوں نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم کوئی ایسی تقریب نہیں مناتے جس کا تصور اسلام میں نہیں ہے۔‘

صوبہ بلخ کے دارالحکومت مزارِ شریف کے کچھ رہائشیوں نے گذشتہ برسوں کی طرح اس بار بھی نوروز کو سرکاری طور پر منانے کا مطالبہ کیا ہے۔ مزار شریف میں ہر سال اپریل کے پہلے دن نوروز کی تقریبات کے لیے پورے افغانستان سے ہزاروں افراد کی میزبانی کی جاتی ہے۔

بعض روایات میں بلخ کو قدیم جشنِ نوروز کی جائے پیدائش کہا گیا ہے۔

پچھلی دو دہائیوں میں، بلخ میں نوروز کی تقریبات ہر سال زیادہ جوش و خروش کے ساتھ منائی گئیں اور نوروز کے لیے سرکاری تعطیل رہی ہے۔

موسم بہار کے آغاز میں بلخ سرسبز ہو جاتا ہے اور لوگ شہر کے چاروں طرف سرخ پھولوں سے بھرے میدانوں میں جاتے ہیں اور موسم بہار کے آغاز کا جشن مناتے ہیں۔

طالبان نے سال کے پہلے دن کی خوشیاں منانے پر باضابطہ طور پر پابندی نہیں لگائی ہے لیکن طالبان کی وزارتِ امر بالمعروف و النہی عن المنکر کے کچھ عہدیداروں کی جانب سے بیانات دیے گئے ہیں جن میں نوروز کو ‘غیر اسلامی’ قرار دیا گیا ہے۔

اس جشن کے انعقاد میں دو دن باقی ہیں اور ابھی نوروز کی تقریبات کے انعقاد کے لیے کوئی تیاریاں نہیں کی گئیں۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مزار شریف کی انتظامیہ اور عوام شہر کی صفائی ستھرائی میں مصروف ہیں لیکن ابھی تک کسی کو یہ معلوم نہیں ہے کہ گذشتہ سالوں کی طرح نوروز پیر کو منایا جائے گا یا نہیں۔

گذشتہ دو سالوں میں کورونا کے پھیلاؤ کے باعث نوروز کی تقریبات میں لوگوں کی بڑی تعداد کو شرکت کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

انڈیانا یونیورسٹی میں اینتھروپولوجی کے پروفیسر نظیف شہرانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘افغانستان میں نوروز منایا جائے گا چاہے طالبان چاہیں یا نہ چاہیں۔’

مزار شریف میں نوروز کی تقریبات کا آغاز نیلی مسجد یعنی ‘روضہ حضرت علی’ کے صحن میں ہزاروں افراد کے درمیان پرچم لہرا کر کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ملک بھر اور یہاں تک کہ دنیا بھر میں افغان باشندے تقریبات کا آغاز کر دیتے ہیں۔

جھنڈا لہرانے کی تقریب دراصل بلخ اور افغانستان میں نوروز کی تقریبات کا باضابطہ آغاز تصور کیا جاتا ہے۔

ریڈ ٹیولپ فیسٹیول افغانستان میں نوروز کا اہم تہوار ہے۔ نوروز کے بعد کے دنوں میں یعنی مئی کے آغاز تک جب بلخ، فاریاب اور افغانستان کے کچھ شمالی علاقوں کے سبز میدان اور پہاڑیاں سرخ رنگ کے ٹیولپ پھولوں سے بھر جاتی ہیں تو موسم سرما کے بعد موسم بہار کی تازگی جشن منانے والوں کو میدانی علاقوں اور وادیوں کے قلب میں لے آتی ہے۔

ریڈ روز فیسٹیول میں بزکشی جیسے روائتی اور تفریحی مقابلے مزار شریف اور دیگر شمالی صوبوں اور کابل میں منعقد کیے جائیں گے۔ اس ریس میں، ہنر مند گھڑ سواروں کی دو ٹیمیں آپس میں مقابلہ کرتی ہیں تاکہ ایک دنبے کو ایک مخصوص جگہ تک پہلے پہنچا سکیں۔

افغانستان میں مختلف خاندان طویل عرصے سے سات خشک میوہ جات اپنے نوروز کے لیے سجائے گئے میز پر رکھتے ہیں اور مہمانوں کی تواضع کرتے ہیں۔ ان میں کشمش، ایلمز، پستہ، ہیزلنٹس، پرونز، اخروٹ یا بادام شامل ہیں۔ ہفت میوہ دراصل سات قسم کے خشک میوہ جات کے سلاد جیسا ہوتا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment