انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کرنے والے عالمی ادارے ہیومن رائٹس واچ (ایچ آرڈبلیو)نے کہا ہے کہ پاکستان میں تحریک عدم اعتماد کے جمہوری عمل کا احترام کیا جانا چاہئے، حکومت اور اپوزیشن کو اپنے حامیوں کو تشدد سے دور رکھنا چاہئے۔
ادارے کی ایشیاء کیلئے ایسویسی ایٹ ڈائریٹر پیٹریشیا گوسمین نے بیان میں کہاکہ پاکستان کے جمہوری ادارے ایک نئے خطرے کا سامنا کررہے ہیں۔ 8 مارچ کو اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے وزیراعظم عمران خان کو ہٹانے کے لئے پارلیمان میں عدم اعتماد کی تحریک جمع کرائی ہے۔ جواب میں حکومتی زعما کی طرف سے تشدد کی دھمکیاں دی گئیں اور 2 ارکان پارلیمان کو کچھ دیر کیلئے گرفتار کرلیا۔
انہوں نے کہاکہ یہ صورتحال خطرناک تصادم سے دوچار ہونے کی طرف جارہی ہے۔
دستور پاکستان کے تحت قومی اسمبلی میں اکثریتی ارکان عدم اعتماد کے حق میں رائے دیتے ہیں تو وزیراعظم عہدے پر نہیں رہیں گے، حکومت نے 28 مارچ کو رائے شماری کرانے کا اعلان کیا ہے، 10 مارچ کو دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس پارلیمان کے ارکان کی رہائش گاہوں میں داخل ہوئی اور2 ارکان پارلیمنٹ کو اپوزیشن کے کئی کارکنوں کے ہمراہ گرفتار کرلیا۔
پولیس نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعت جمعیت علمائاسلام (ف) کے رضاکار بلااجازت پارلیمنٹ لاجز میں داخل ہوئے تھے۔ ان تمام افراد کو چند گھنٹوں میں ہی رہا کردیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ چار دن بعد وفاقی وزیر غلام سرور خان نے ”اپوزیشن پر خود کش حملے“ کی دھمکی دی۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی شہبازگل نے کہاکہ ”غداروں“ یعنی وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے خان کے خلاف ووٹ دینے والے ارکان کی تصاویرشہروں میں لگائی جائیں گی تاکہ لوگ انہیں پہچان سکیں۔
وزیراطلاعات فواد چوہدری نے تجویز کیا کہ ووٹ کے دن ”دس لاکھ“ حامی اسلام آباد آئیں گے اور خبردار کیا کہ خان کے خلاف ووٹ دینے کے خواہش مندوں کو ”عوام کے بیچ میں سے گزر کر پارلیمنٹ کی عمارت میں جانا اور واپس آنا پڑے گا۔“ جواب میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے بھی اپنے حامیوں کو اسلام آباد میں جمع کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے ممکنہ طور پر تشدد پر مبنی تصادم کے لئے سٹیج تیار ہوگیا ہے۔
ہیومن رائیٹس واچ کی ایشیاء کے لئے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر نے کہاکہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین پر چلے اور عدم اعتماد کی تحریک پر دھمکیوں یا تشدد کے بغیر ووٹنگ کی اجازت دے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اپنے حامیوں کو بھرپور پیغام دینا چاہئے کہ وہ جمہوری عمل کو سبوتاڑ یا اشتعال یا کسی مجرمانہ اقدامات سے ووٹ کو مجروح نہ کریں۔ پارلیمانی ووٹنگ جمہوریت کا بنیادی اصول ہے اور اسے روکنے کی کوششیں ایک ایسے ادارے کے لئے مزید خطرہ ہیں جو نمائندہ حکومت اور قانون کی بالادستی کے لئے کلیدی ہے۔
ہیومن رائیٹس واچ کا ادارہ دنیا کے 100 ممالک میں انسانی حقوق کے دفاع کے لئے کام کرتا ہے اور دنیا بھر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز بلند کرتا ہے اور ان خلاف ورزیوں کے مرتکب عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لئے جدوجہد کرتا ہے۔ 70 مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے 450 لوگ اس ’این جی او‘ میں کام کرتے ہیں۔ یہ ادارہ دنیا بھر میں ان حکومتوں کے اقدامات کو بھی اجاگر کرتا ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرتی ہیں۔