بلوچستان کے شورش زدہ ضلع آواران میں ریاستی فورسز اور ا س کے لے پالک ڈیتھ اسکواڈکی ظلم وزیادتیاں عروج پر ہیں۔
گزشتہ دو رات قبل جھاؤ لنجار میں ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے تین مسلح افرادنے شادی کی ایک تقریب پر داوا بول کر فائرنگ کی۔ جس سے شادی والے گھر میں خوف وہراس پھیل گیا۔
مقامی میڈیا ”زرمبش“ نے اپنے ذرائع کے حوالے سے خبر نشر کی ہے کہ نواب ولد بشیر نامی ایک شخص کی شادی کی تقریب پر ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے تین مسلح افراد نے داوا بول کر شدیدفائرنگ کی اور چلے گئے۔
فائرنگ سے کسی قسم کی کوئی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی لیکن بلاوجوازفائرنگ سے شادی والے والے گھر میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
واضع رہے کہ ریاستی ڈیتھ اسکواڈ سیکورٹی فورسزکی ایما پر اس طرح گھناؤنے حرکات کرتے ہیں تاکہ لوگوں میں خو ف و ہراس کا ماحول بنا رہے۔
فائرنگ سے خوف زدہ گھر والوں کا کہنا ہے ان کا کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے اور نہ ہی اس شادی پر کسی کا کوئی اعتراض سامنے آیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی کہ بلاوجہ ہم پر فائرنگ کیوں کی گئی؟
علاقہ جھاؤ لنجارکے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اس کے اطراف میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کی متعدد چیک پوسٹیں قائم ہیں۔
علاقہ مکینوں کے مطابق اس سے دومہینے قبل رشید آباد کے علاقے میں قادری نامی ایک شخص کے گھر پر فائرنگ کا واقعہ سامنے آیا تھا۔ جس پر علاقہ مکینوں نے اان کی نقش ِپا کی کھوج کی تو پتہ چلا وہ آرمی کیمپ میں چلے گئے۔
واقعہ کے بعد علاقہ مکینوں نے پولیس کو اطلاع دی اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا لیکن ذرائع بتاتے ہیں کہ سیکورٹی فورسز نے پولیس کو وارن کیا کہ وہ نہ ایف آئی آر درج کرینگے اور نہ ہی ان کے لوگوں کا نام پبلک کرینگے۔جس پرلوگوں نے سیکورٹی فورسز کیخلاف احتجاج کیا۔