شمالی کوریا کے سفارت خانے نے اس ہفتے کے آغاز میں پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں موجود سفارت خانے کی حدود میں چھاپے کے خلاف اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو احتجاج ریکارڈ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سفارت خانے پر پولیس کا چھاپا ویانا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔
اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) کو لکھے گئے ایک خط میں عوامی جمہوریہ کوریا کے سفارت خانے کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت کے ایف 10 کے پولیس اسٹیشن کے سات پولیس اہلکار جن میں ایک خاتون اہلکار بھی شامل تھی، وہ7 مارچ کو اس کے سفارت خانے کی حدود میں غیر قانونی طور پر داخل ہوئے۔
شمالی کوریا کے سفارت خانے کے خط میں کہا گیا ہے کہ مشن کے عملے نے پولیس اہلکاروں کو یاد دہانی بھی کرائی کہ سفارت خانے کی حدود ڈی پی آر کے کا خودمختار علاقہ ہے اور انہیں کہا گیا کہ وہ اس ہماری حدود کی خلاف ورزی کے غلط عمل کو فوری طور پر روک دیں، لیکن پولیس اہلکاروں نے سفارتی عملے کی درخواست کو نظر انداز کر تے ہوئے کچھ اشیاء ضبط کرنے کا کہتے ہوئے سفارت خانے کی حدود میں واقع اسٹور رومز کی تلاشی لی اور سفارتی عملے کو بندوقوں سے ڈرایا۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے سفارت خانے کے دروازے کو بھی توڑا اور تہہ خانے کے ایک کمرے میں گھس گئے۔
خط میں شمالی کوریا کے سفارت خانے نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پولیس کے اس چھاپے کے پیچھے کسی بیرونی طاقت کا ہاتھ ہو گا۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ڈی پی آر کے کا سفارت خانہ اس واقعے پر اپنے شدید افسوس کا اظہار کرتا ہے اور پاکستان کی وزارت خارجہ اور سیکورٹی اداروں سے درخواست کرتا ہے کہ وہ اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف مکمل تحقیقات کریں اور مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔
شالیمار پولیس اسٹیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ چھاپہ اس خفیہ اطلاع کے بعد مارا گیا کہ سفارت خانے میں بڑی مقدار میں شراب موجود ہے۔
واقعے کے حوالے سے ذرائع نے مزید بتایا کہ آئی جی پولیس اسلام آباد نے ایک سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کو واقعے کی انکوائری کرنے اور تین دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔