شمالی کوریا کا پاکستان میں موجود سفارتخانے پر پولیس چھاپے کیخلاف احتجاج

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

شمالی کوریا کے سفارت خانے نے اس ہفتے کے آغاز میں پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں موجود سفارت خانے کی حدود میں چھاپے کے خلاف اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو احتجاج ریکارڈ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سفارت خانے پر پولیس کا چھاپا ویانا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔

اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) کو لکھے گئے ایک خط میں عوامی جمہوریہ کوریا کے سفارت خانے کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت کے ایف 10 کے پولیس اسٹیشن کے سات پولیس اہلکار جن میں ایک خاتون اہلکار بھی شامل تھی، وہ7 مارچ کو اس کے سفارت خانے کی حدود میں غیر قانونی طور پر داخل ہوئے۔

شمالی کوریا کے سفارت خانے کے خط میں کہا گیا ہے کہ مشن کے عملے نے پولیس اہلکاروں کو یاد دہانی بھی کرائی کہ سفارت خانے کی حدود ڈی پی آر کے کا خودمختار علاقہ ہے اور انہیں کہا گیا کہ وہ اس ہماری حدود کی خلاف ورزی کے غلط عمل کو فوری طور پر روک دیں، لیکن پولیس اہلکاروں نے سفارتی عملے کی درخواست کو نظر انداز کر تے ہوئے کچھ اشیاء ضبط کرنے کا کہتے ہوئے سفارت خانے کی حدود میں واقع اسٹور رومز کی تلاشی لی اور سفارتی عملے کو بندوقوں سے ڈرایا۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے سفارت خانے کے دروازے کو بھی توڑا اور تہہ خانے کے ایک کمرے میں گھس گئے۔

خط میں شمالی کوریا کے سفارت خانے نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پولیس کے اس چھاپے کے پیچھے کسی بیرونی طاقت کا ہاتھ ہو گا۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ڈی پی آر کے کا سفارت خانہ اس واقعے پر اپنے شدید افسوس کا اظہار کرتا ہے اور پاکستان کی وزارت خارجہ اور سیکورٹی اداروں سے درخواست کرتا ہے کہ وہ اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف مکمل تحقیقات کریں اور مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔

شالیمار پولیس اسٹیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ چھاپہ اس خفیہ اطلاع کے بعد مارا گیا کہ سفارت خانے میں بڑی مقدار میں شراب موجود ہے۔

واقعے کے حوالے سے ذرائع نے مزید بتایا کہ آئی جی پولیس اسلام آباد نے ایک سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کو واقعے کی انکوائری کرنے اور تین دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment