بلوچ وطن کی دفاع اور آزادی کی جنگ میں 35 سرمچار شہید |سنگر ماہانہ رپورٹ و تجزیہ

0
611

ماہ فروری میں 75سے زائد فوجی آپریشنز میں 88 افرادلاپتہ ، 60افرادقتل،220 گھرلوٹ مارونذر آتش،

سنگر کا دستاویزی رپورٹ چیف ایڈیٹر دوستین بلوچ کے قلم سے

فروری2022ء کی رو سے عالمی اور علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو اس ضمن میں یوکرائن اور روس ایک ایسے نہج پہ پہنچ چکے ہیں جس سے ایسا لگ رہا ہے کہ دنیا ایک بڑی جنگ میں دھکیلا جارہا ہے۔ روس کی یوکرائن پہ حالیہ یلغار نے عالمی سیاست کو ایک نیا رخ دے دیا جس کی وجہ سے ایک جانب امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کی جانب سے روس پہ مالی پابندیاں لگائی جارہی ہیں تو دوسری جانب امریکہ سمیت بعض یورپی ممالک نے یوکرائن کو عسکری سازوسامان کی ترسیل کو بھی حتمی شکل دی ہیں جس سے دفاعی پوزیشن سنبھالے یوکرائن روسی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی پوزیشن میں آجائے گا اور اگر یوں ہوا تو ممکن ہے کہ یورپ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آجائے کیوں دوسری جانب روس بھی خاموش بیٹھنے والا نہیں اس ضمن میں اس کی یہی کوشش ہوگی کہ وہ ایشیائی ممالک جن میں چین سرفہرست ہے اس کے بعد پاکستان جیسے ناسور کو اپنے ساتھ ملائے اور اگر یوں ہوا تو دنیا ایک مرتبہ پھر بڑی جنگ کی لپیٹ میں آجائے گا۔
مشرق وسطیٰ اور افغان خطہ جنگ کی وجہ سے زبوحالی کا شکار ہیں جہاں ان کی بحالی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے اور دوسری جانب یہ نئی جنگ دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرے گی جس سے افغان خطہ اور مشرق وسطیٰ مزید عدم توجہی کا شکار ہوسکتے ہیں اور اگر یوں ہوا تو اس بحران میں مزید شدت آئے گی جس کے اثرات پورے خطے پہ پڑیں گے۔
عالمی سیاست کی اس رسہ کشی کو چھوڑ کر آتے ہیں پاکستان کی جانب، تو یہاں وہی پرانی پالیسیاں جوں کے توں رواں ہیں۔آئے روز فوجی جارحیت، بلوچ فرزندوں کی جبری گمشدگیاں، مسخ شدہ لاشوں کا ملنا وغیرہ۔یعنی کہہ سکتے ہیں قابض پاکستان کی نوآبادیاتی پالیسیوں میں آئے روز شدت ہی آرہی ہے۔جس کا نشانہ نہ صرف بلوچ بلکہ خطے میں بسنے والے دیگر محکوم اقوام بھی بن رہے ہیں۔ معاشی طور پہ خستہ حال پاکستان شاید زیادہ دیر اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکے اسی لیے آج کل وہ مغرب سے مایوس ہوکر روس اور چائنا کا لے پالک بننے کی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن روس کی حالیہ جنگ جس میں اسے بڑی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے تو ایسے میں وہ پاکستان جیسے ملک کو سہارا دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا اس کے علاوہ بھارت کے عنصر کو دیکھ کر بھی یہ یقین ہوتا ہے کہ روس بھارت کے مقابلے میں پاکستان کو ترجیح نہیں دے گا۔ لہذا حالیہ عالمی سیاست میں پاکستان تنہائی کا شکار ہورہا ہے جو یہاں بسنے والے محکوم اقوام کے لیے نیک شگون ہے۔
ان حالات سے فائدہ اٹھا کر محکوم اقوام کو یک مشت ہونا پڑے گا اور اگر وہ تمام ایک ہی پیج پہ آگئے تو پاکستان بے ساکیوں کے سہارے بھی اپنا وجود سنبھالنے سے قاصر ہوگا۔ اس ضمن میں بلوچوں کی جدوجہد تو شدت کے ساتھ جاری ہے لہذا دیگر اقوام کو بھی بلوچوں کے نقش قدم پر چل کر آگے بڑھنا ہوگا اسی میں ان کی بقاء اور پاکستان کا زوال ہے۔
ان حالات سے فائدہ اُٹھا کر بلوچ آزادی پسند لیڈران اور تنظیموں کو اپنی خارجہ پالیسیوں پر نظر ثانی کر کے جامع پالیسی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ حالات کے رخ کو اپنی جانب موڑ سکیں اور دنیا کو قابض پاکستان کی دہشت گردانہ پالسیوں سے آگاہ کرنے کے ساتھ اس خطے میں بلوچ ریاست کی ضرورت سے آگاہ کریں جس سے اس خطے میں نہ صرف طاقت کا توازن برابر ہو سکے گا بلکہ امن و شانتی متوقع ہو سکتی ہے۔
ماہ فروری 2022ء کا اگر بلوچستان کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو گزشتہ مہینوں کی طرح ظلم وجبر کی داستان لیے اختتام پذیر ہوا۔ جہاں قابض پاکستان کے عسکری اداروں کی بربریت کی وجہ سے مسخ شدہ لاشوں کا ملنا، بلوچ فرزندوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنا، گھروں کو مسمار کرنا، مال مویشیوں کی لوٹ مار وغیرہ جیسے واقعات کا سلسلہ جاری رہا۔ دوسری جانب بلوچ آزادی پسند تنظیموں نے ریاست کو اپنے کامیاب حملوں کے سبب حواس باختہ کردیاہے۔ اس مہینے کے اوائل میں بلوچ لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ نے دوکامیاب حملوں میں 195فوجیوں کو ان کے انجام تک پہنچایا۔ مجید بریگیڈ کے فدائین نے 2فروری کو بیک وقت نوشکی اور پنجگور میں ایف کے ہیڈکوارٹرز پہ نہ صرف دھاوا بول دیا بلکہ لمحوں میں انہیں تسخیر بھی کیا جس کے بعد نوشکی میں بلوچ فدائین جن کی تعداد نو تھی انہوں نے بیس گھنٹوں سے زائد قابض کے آرمی کو نچایا، اس دوران سو سے زائد پاکستان آرمی کے اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ پنجگور ایف ہیڈکوارٹر 72گھنٹوں تک بلوچ سرمچاروں کے قبضے میں رہا جس میں 95فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے جب کہ فدائین نے چار ہیلی کاپٹر جن میں ایک نوشکی اور تین پنجگور میں، مار گرایا ان کے علاوہ ایک ڈرون طیارہ بھی فدائین نے مار گرایا۔ ان حملوں کے بعد ریاست حواس باختہ ہوگیا اور اس کے اہلکاروں نے عام بلوچوں کو نہ صرف شہید کیا بلکہ بہت سارے بلوچ جبری طور پر لاپتہ بھی کیے گئے جن میں سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور بلوچ سکالرز شامل ہیں۔اس سے قبل معرکہ سبدان نے دشمن کو جھنجوڈ دیا تھا۔
ایسے علاقوں میں جو ریاستی ساکھ کے لیے موت و زیست کا مسئلہ بن چکا ہے ایسے کامیاب حملے ریاست پہ مہلک وار ثابت ہوا۔ جس سے دنیا کے سامنے اس کے عسکری اہلکاروں کی اہلیت سامنے آگئی جن کے آہنی قلعوں کو ہزاروں فوجی اہلکاروں کی موجودگی اور جدید اسلحہ سے لیس ہونے کے باجود چند جانثار تسخیر کرتے ہیں۔یہ یقیناً بلوچ تحریک کی شدت کو دنیا کے سامنے آشکار کرنے کے لیے اہم واقعات تھے لہذا اب دنیا کو بلوچ تحریک کی مدد کے لیے سامنے آنا چاہیے اور انہیں اس بات کو تسلیم کرلینا چاہیے کہ بلوچ اس خطے میں کسی بھی حریف کا مقابلہ کرنے کی سکت رکھتی ہے۔
ان بڑے حملوں کے علاوہ بلوچستان کے دیگر علاقوں بالخصوص آواران، مکران، اور بولان میں پاکستانی عسکری اداروں کے اہلکار بلوچ سرمچاروں کے نشانے پہ رہیں۔
فروری کے ماہ بی ایل اے کے16 فدائین نے وطن کی دفاع میں جام شہادت نوش کی، بی ایل ایف کے سرمچار سکینڈ لیفٹینٹ سمیر بلوچ نے بالگتر میں دشمن کے ساتھ طویل جنگ میں جام شہادت نوش کی،بی این اے کے ہدایت اللہ سمیت تنظیم کے ریجنل کمانڈر اور بلوچی زبان کے نوجوان شاعر نورسلام نور عرف استال ولد باھڑ بلوچ سکنہ دشتُک زامران، زبیر اکرم عرف اسدجان ولد اکرم بلوچ سکنہ ھوت آباد زامران بازار، کمبر بلوچ عرف مہروان ولد طارق سکنہ کلاہو، صغیر بلوچ عرف طارق ولد نوربخش سکنہ بیسیمہ رسول جان عرف چراگ ولد علی جان سکنہ سرنکن، حافظ پراز عرف مُلا درویش ولد عبدالغنی سکنہ سرنکن نے جام شہادت نوش کیا۔
ضلع کیچ کے علاقے ہوشاپ میں میں پاکستانی فوج کے ڈرون حملے میں بی این اے کے دس سرمچار شہید ہوئے، کیچ ہوشاپ کے پہاڑی سلسلے ساتک کور میں تنظیم کے گوریلا کیمپ پر قابض پاکستانی ڈرون نے تین میزائل فائر کیے جو کیمیکل مواد سے لوڈ تھے جنہوں نے ایک بڑے رقبے پر تباہی مچائی دی، مذکورہ جگہ پر کھجور کے باغات اور دیگر پودے مکمل جلس گئے تھے۔
شہید ہونے والے بلوچ فرزند کمانڈر ماسٹر آصف عرف مکیش جان ولد محمد رضا سکنہ شاپک ہوشاپ، سراج ظہیر عرف ظہیر صاحب ولد رشید بلوچ سکنہ شاپک ڈانڈل، جنگی خان بلوچ عرف عیسیٰ ولد ماسٹر حصا سکنہ شاپک، کماش ملنگ عرف ماما ولد یعقوب سکنہ شاپک، کمال جان عرف گُلاب ولد محمد سعید سکنہ اومری کہن شاپک، دِل جان عرف نزیر ولد میران سکنہ سنگ آباد تجابان، عارف جان عرف میرخان ولد فقیر سکنہ تربت آپسر، مُنیر جان عرف جمعہ خان ولد در محم سکنہ ھوشاب دمب،ب عرف سراج ولد عید محمد، دولت عرف چراگ ولد یوسف سکنہ ھوشاب دمب۔
مقبوضہ بلوچستان میں فروری کے مہینے میں ریاستی دہشتگردیاں،فوجی جارحیت اپنے عروج پر رہا۔قابض پاکستانی فوج نے فروری کے مہینے میں مقبوضہ بلوچستان میں 75 سے زائد فوجی کارروائیاں کیں، پاکستان کی اس کے جارحیت کے دوران دستیاب اعداد و شمار کے مطابق88 بلوچ فرزندوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔اسی ماہ 60 نعشیں برآمد ہوئیں، جس میں 33 بلوچ سرمچار وطن کے دفاع اور آزادی کی جنگ میں شہید ہوئے۔پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے6 افراد بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔4 افراد جو ریاستی فورسز کے زیر حراست تھے انکو قتل کر کے لاشیں پھینک دی گئیں۔6 افراد کو لاوارث قرار دے کر دشت کے قبرستان میں دفنا دیا گیا۔ 5 لاشوں کی شناخت نہ ہو سکی جن میں ایک تربت سے ملنے والا لاش بھی شامل ہے جو ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکا تھا۔6 افراد کے قتل کے محرکات سامنے نہیں آ سکے۔ پاکستانی فوجی جارحیت کے دوران اس کے عسکری اداروں کے اہلکاروں نے 150 سے زائد گھروں میں لوٹ مار کی اور 70 سے زائد گھروں کو نذر آتش کیا گیا۔اس دوران بالخصوص بمبور کے علاقے میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ سے300 سے زائد مویشیاں مارے گھر اورپاکستانی فورسز سو سے زائد مویشیاں اپنے ساتھ لے گئے۔

ماہ فروری کی تفصیلی رپورٹ

یکم فروری
۔۔۔۔۔ بلوچستان کے ضلع آواران کے علاقے مشکے کے پانچ آبادیوں کو پاکستانی فو ج کی جانب سے جبری انخلا کیخلاف علاقہ مکینوں نے ڈی سی آواران کے سامنے احتجاج ریکارڈ کرایا۔علاقہ مکینوں کے مطابق مشکے کے علاقے تنک میں آباد پانچ قصبوں زاہد آباد، ملنگ گوٹ، یاسین گوٹ، مراد گوٹ اورتنکہوٹل بازار کے تمام افراد کو فوج نے کیمپ بلاکردھمکی دی ہے کہ وہ اپنے گھر بار اور کھیت کلیان چھوڑ کر کسی طرح بھی یہاں سے چلے جائیں کیونکہ ہم تنک ندی پرایک ڈیم بنارہے ہیں جس کی وجہ سے تمام آبادیاں زیر آب آجائیں گی۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ان تمام آبادیوں کے کھیت پر فوج نے قبضہ کرلیا ہے اورکڑی فصلیں بھی اپنے تحویل میں لئے ہیں۔
۔۔۔۔۔ پاکستانی فورسز نے گذشتہ شب رات گئے ضلع کیچ کے علاقے مند میں چھاپے مارکر تین افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے۔لاپتہ ہونے والوں میں دو کی شناخت اسماعیل آفتاب سکنہ گیاب اور سعید اللہ سکنہ مند سورو کے ناموں سے ہے تاہم ایک کی شناخت تاحال نہیں ہوسکا ہے۔

2 فروری
۔۔۔۔۔ بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقوں دشت اور تمپ کے پہاڑی علاقے مزن بند میں فوجی جارحیت،علاقائی ذرائع کے مطابق تمپ کے پہاڑی علاقے مزن بند میں گذشتہ ایک ہفتے سے پاکستانی فوج کی نقل و عمل جاری ہے۔
۔۔۔۔۔ بلوچستان کے ضلع آواران کی تحصیل جھاؤ میں پاکستانی فوج کے رویے اور وحشت کیخلاف لوکل بس مالکان کا احتجاج گزشتہ ایک ہفتے سے جاری ہے۔
جھاؤ کے شمالی علاقوں میں اشیائے خوردونوش کی سپلائی معطل ہے جس سے علاقہ مکین خوراک اور ادویات کی شدید قلت سے پریشان ہیں۔لوکل بس اور ٹرک مالکان کی جانب سے طویل احتجاج سے لوگوں کو سفری مشکلات کابھی سامناہے۔ٹرانسپورٹرز کے مطابق سیکورٹی کے نام پر فورسز کی بلاوجہ مسافرگاڈیوں میں لوگوں کی تذلیل اورٹرک گاڑیوں میں سامانوں کی اتار چڑاؤ اور چیکنگ سے لوگ بیزار ہیں لیکن انتظامیہ نے مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔
۔۔۔۔۔ بلوچستان کے ضلع کیچ کے تحصیل تمپ کے سرحدی علاقے عبدوئی میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا – بدھ کے روز عبدوئی بارڈر میں کراسنگ پوائنٹ پر تیل بردار گاڑیوں کی ڈرائیو اور لیویز فورس کے درمیان ہاتھا پائی کے دوران گولی لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا جسکی شناخت عبید اللہ ولد درمحمد سکنہ تلمب مند کے کے نام سے ہوئی ہے۔

3 فروری
۔۔۔۔۔ پنجگور کے چتکان سے دو افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جس میں ایک کی شناخت اختشام ولد غلام سرور کے نام سے ہوئی ہے جو تسپ کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔پولیس کہنا ہے کہ اختشام کی لاش گچک منڈی سے برآمد ہوئی ہے جبکہ دوسرا لاش پرانا تھانہ ایریا سے برآمد ہوئی ہے۔
خیال رہے کہ پنجگور میں آج صبح سے فوج نے اعلانیہ کرفیو نافذ کرکے لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی عائد کردی ہے جبکہ شہریوں کے ساتھ ساتھ لیویز اور پولیس کو گشت کرنے اور باہر نکلنے پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔علاقائی ذرائع کے مطابق کرفیو کے دوران فورسز نے چتکان بازار سے 7 افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔مذکورہ لاشوں کے حوالے سے علاقائی ذرائع بتاتے کہ ہیں یہ وہی افراد ہیں جنہیں آج صبح فورسزنے لاپتہ کیا تھا۔جن میں دو کو قتل کرکے لاشیں پھینکی گئیں جبکہ باقی پانچ تا حال لاپتہ ہیں۔

4 فروری
۔۔۔۔۔ متحدہ عرب امارت حکام نے وہاں رہائش پذیر بلوچستان کے علاقے خضدار کے رہائشی عبدالحفیظ زہری کو پاکستان منتقل کردیا ہے۔حفیظ زہری کی پاکستان منتقلی کے دستاویز انکے لواحقین نے متحدہ عرب امارات کے امیگریشن سے لیٹر کی صورت میں حاصل کرلی ہے۔ امیگریشن دستاویز کے مطابق عبدالحفیظ ولد حاجی رمضان زہری سکنہ خضدار کو دو روز قبل یعنی 2 فروری کو دبئی ائرپورٹ سے کراچی کے ایئرپورٹ پر لایا گیا ہے۔یاد رہے عبدالحفیظ زہری کو گذشتہ ماہ 26 اور 27 جنوری کی رات متحدہ عرب امارات کے انٹر نیشنل سٹی سے حراست بعد لاپتہ کردیا گیا تھا جس کے بعد سے وہ اماراتی حکام کے تحویل میں تھا جس کے اغواء کی رپورٹ وہاں کے پولیس تھانے میں درج کرائی گئی تھی۔

5 فروری
۔۔۔۔۔بلوچستان کے ضلع نوشکی سے پاکستانی فورسز نے دو افراد کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا ہے۔دونوں افراد کو نوشکی کلی جمالدینی سے حراست میں لیا گیا دونوں نوجوانوں کی شناخت عاصم اور وحید کے ناموں سے ہوئی ہے۔
۔۔۔۔۔ پاکستانی فورسز نے چار افراد کو حراست بعد جبری گمشدگی کا شکار بنایا،جبکہ ایک لاش برآمد ہوئی
پاکستانی فورسز نے سبی سے تین افراد اور ڈیرہ مراد جمالی سے ایک شخص کو حراست بعد لاپتہ کر دیا ہے۔ دو دن قبل پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے سبی سے حیات ولد زنگی،اتور گورگیج، حاشم ڈومکی کو حراست بعد لاپتہ کر دیا تھا، مچھ میں ایک لاش ملی جسکی شناخت نہ ہو سکی ہے۔
جبکہ آج صبح ڈیرہ مراد جمالی کے نزدیک پاکستانی فورسز نے محمد خان ولد نبی بخش بگٹی کو حراست بعد لاپتہ کر دہا ہے۔
۔۔۔۔۔بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت سے سماجی و فلاحی تنظیم ”احساس“کے 2 سماجی کارکن پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ ہوگئے۔ذرائع کے مطابق لاپتہ ہونے والے کارکنان ندیم حسرت اور احساس دسترخوان کے کک مصطفیٰ کو پاکستانی فورسز اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے گرفتار کرکے لاپتہ کردیاہے۔
۔۔۔۔۔بلوچستان کے ضلع نوشکی سے پاکستانی فورسز نے دو افراد کو حراست میں لینے کے بعد جبری طور پرلاپتہ کردیا ہے۔دونوں افراد کو نوشکی کلی جمالدینی سے حراست میں لیا گیا۔لاپتہ کئے گئے دونوں نوجوانوں کی شناخت عاصم اور وحید کے ناموں سے ہوئی ہے۔
۔۔۔۔۔کراچی کے علاقے رئیس گوٹھ سے بلوچستان کے ضلع پنجگور کے علاقے کوہ بن کے رہائشی معراج ولد عصا کو سیکورٹی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا ہے۔خاندانی ذرائع کے مطابق رات گئے چار بجے رئیس گوٹھ میں رینجرز اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے گھر پر چھاپہ مارکر مذکورہ نوجوانوں کو شدید تشدد کا نشانہ بناکر حراست میں لے کر لاپتہ کردیا گیا۔
۔۔۔۔۔چار فروری کو پنجگور کے علاقے بالگتر لوپ میں سرمچار معمول کی گشت پر تھے کہ انکا سامنا پاکستانی فوج اور مقامی ڈیتھ اسکواڈ سے ہوا۔ دو گھنٹے کی طویل جھڑپ میں بی ایل ایف کے سرمچار سیکنڈ لیفٹینٹ سمیر عرف نصیب ولد جان محمد سکنہ شاپک ڈنڈال نے بہادری سے دشمن فورسز کا مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کی اور اپنے ساتھیوں کو محفوظ راستہ دیا۔ اس جھڑپ میں دشمن فوج کے متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ اس دوران الطاف ولد جاڑو کو پاکستانی فوج نے اس سے ایک دن پہلے تجابان میں حراست بعد قتل کر کے انکو سرمچار ظاہر کیا تھا۔

6 فروری
۔۔۔۔۔ پا کستا نی فورسز نے چتکان میں فائرنگ کر کے ندیم ابدال نامی شخص کو قتل کر دیا ہے،قتل ہونے والا شخص ندیم ابدال کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا مقامی افراد کے مطابق مذکورہ ذہنی معزور شخص کو گذشتہ روز فورسز نے فائرنگ کرکے قتل کیا۔
۔۔۔۔۔کوئٹہ میں پاکستانی فورسز و خفیہ اداروں نے ایک گھرپرچھاپہ مارکرایک نوجوان کو حراست میں لیکرجبری طور پرلاپتہ کردیا ہے۔ گذشتہ شب پاکستانی سیکورٹی فورسز و خفیہ اداروں نے بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں مینگل اسٹریٹ پر واقع حاجی نثار احمد سرپرہ کے گھر پر چھاپہ مار کر گھر میں موجود افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ فورسز نے چھاپے کے دران گھر سے ہارون ولید ولد حاجی نثار احمدنامی نوجوان کو حراست میں لیکر اپنے ہمراہ لے گئے ہیں جبکہ فورسز نے گھر میں تھوڑ پھوڑ بھی کی ہے۔علاقائی ذرائع نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ واقعہ رات گئے پیش آیا جبکہ فورسز و خفیہ اداروں کے تشدد سے گھر میں موجود افراد زخمی ہوئے ہیں۔
گھنٹوں کی لڑائی میں مجموعی طور پر دشمن کے دو مختلف کیمپوں پر قبضہ کیا، اس دوران دشمن کے 3 افسران سمیت 195 سے زائد فوجی اہلکار ہلاک کیئے گئے۔
فدائی میرین جمالدینی عرف زگرین سکنہ نوشکی، یونٹ کمانڈر فدائی بادِل بلوچ ولد ابراھیم عرف ریاست سکنہ ہوشاب، عزیز زہری عرف بارگ ولد عارف سکنہ خضدار، انیل بلوچ عرف بالاچ ولد عیسیٰ سکنہ دشت تربت، مراد آجو عرف بابا ولد آدم سکنہ بالگتر پنجگور، یاسر نور عرف سیف ولد حاجی نوربخش سکنہ الندور بلیدہ، ابرھیم بلوچ عرف کبیر ولد رسول بخش سکنہ گچک، دیدگ بہار عرف روف ولد گنگزار سکنہ شاپک تربت، بلال بلوچ عرف واحد ولد دلمراد سکنہ کیچ تجابان شامل تھے۔
فدائی جمال بلوچ عرف چاچا ولد رحمت اللہ سکنہ تربت، یونٹ کمانڈر حامد رحیم عرف زبیر ولد رحیم بخش سکنہ چتکان پنجگور کی قیادت میں فدائین سمیع سمیر عرف شعیب ولد استاد الٰہی بخش سکنہ پنجگور گرامکان، الیاس بلوچ عرف قادر ولد اسلم سکنہ گرامکان پنجگور، اسد واھگ عرف سبزو ولد صادق سکنہ کیلکور، ناصر امام عرف حمل ولد امام سکنہ پروم، ضمیر بلوچ عرف فراز ولد محمد حسن سکنہ ڈنڈار ہوشاب۔

7 فروری
۔۔۔۔۔بلوچستان کے ضلع پنجگور کے علاقے عیسیٰ میں آج بروزپیرعلی الصبح پاکستانی فورسز و خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے کاروباری اور سماجی شخصیت ملک میران کے ایک گھر پرچھاپہ مارکراسے گرفتار کرکے جبری طور لاپتہ کردیا ہے۔علاقائی ذرائع بتاتے ہیں کہ چھاپے کے دوران مقامی ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے کارکنان بھی فورسز اور خفیہ اداروں کے ساتھ تھے۔
۔۔۔۔۔بلوچستان کے ضلع پنجگور میں پاکستانی فورسز نے مزید 3افراد کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیاہے۔جن کی شناخت سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اکیل خلیل،بالاچ ولدماسٹر عبدالطیف اورشبیرولدحاجی عبدالکریم کے ناموں سے ہوگئی۔
علاقائی ذرائع کے مطابق فورسز اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے گذشتہ شب رات گئے ان افراد کے گھروں پر چھاپے مارکر انہیں حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کیاہے۔علاقائی ذرائع بتاتے ہیں کہ لاپتہ کئے گئے تینوں افرادکا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔
۔۔۔۔۔کوھاڈ میں مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو قتل کردیا جسکی شناخت چاکر ولد داد محمد کے نام سے ہوئی ہے۔تاہم قتل کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہوسکے ناہی انتظامیہ کا موقف اس حوالے تاحال سامنے آیا ہے۔

فروری8

۔۔۔۔۔پاکستانی سیکورٹی ادارے ایف سی اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے رات گئے کوئٹہ کے علاقے فیض آباد میں واقعہ حاجی نوراللہ سرپرہ نامی شخص کے گھر پر چھاپہ مارا۔فورسز نے تلاشی کے دوران دو نوجوانوں کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔لاپتہ کئے گئے افراد کی شناخت فرہاد سرپرہ ولد حاجی نوراللہ سرپرہ اور ثاقب زیب سرپرہ ولد حاجی نثار سرپرہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔فورسز نے حاجی نوراللہ سرپرہ گھر پر تلاشی کے دوران گھر میں موجود افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
خیال رہے گذشتہ رات ہی فورسز نے حاجی نثارکے گھر پر چھاپہ مارتے ہوئے اسکے ایک اور بیٹے اور ثاقب زیب کے بھائی ہارون ولید سرپرہ کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا تھا۔تینوں نوجوانوں کا بنیادی تعلق مستونگ کے علاقے گردگاپ سے ہیں۔
۔۔۔۔۔فورسز نے پنجگور کے علاقے وشبود سے دو بھائیوں اکرم اور احمد کو گذشتہ رات حراست میں لے کر اپنے ہمراہ لے گئے جبکہ گذشتہ رات پنجگور سے حراست بعد لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد سات ہوگئی۔اس سے قبل فورسز نے پنجگور کے مختلف علاقوں سے پانچ افراد کو لاپتہ کردیا تھا جن میں ملک میران، بالاچ، عقیل، اور شبیر کے ناموں سے ہوئی ہے۔
۔۔۔۔۔ بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے ڈنڈار میں گذشتہ روزفدائی شہید فرازکے تدفین کے بعدعلاقے میں سیکورٹی سخت کردی گئی ہے۔ذرائع بتاتے ہیں کہ آج بروزمنگل علی الصبح پاکستانی فوج نے آبادی پر اپنی جارحیت کا آغاز کیا ہے۔لوگوں کا کہناہے کہ شہری و پہاڑی علاقوں میں فوجی جارحیت جاری ہے جہاں لوگوں کو گھروں میں محصورکرکے نکلنے نہیں دیا جارہا ہے۔

9 فروری
۔۔۔۔۔ بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی سے ایک نوجوان لڑکا پراسرار طور پر لاپتہ ہوگیا ہے۔اہلخانہ نے سٹی پولیس تھانہ میں لڑکے کے لاپتہ ہونے کا اطلاعی رپورٹ دیدی ہے۔ڈ یرہ مراد جمالی ڈومکی محلہ ڈیرہ مراد جمالی کے رہائشی دین محمد جمالی نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ میرا 16 سالہ بیٹا امجد علی جمالی کل صبح جیلانی مارکیٹ دکان پر کام کے لیے گھر سے نکلا جوکہ راستے سے ہی پراسرارطور پر لاپتہ ہوگیا ہے۔
۔۔۔۔۔بلوچستان کے علاقے نوشکی، تربت اور سوئی سے پاکستانی فورسز نے مزید 3افرادکو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔فورسز نے 6 فروری کو رات گئے سوئی میں ایک گھر کو گھیرے میں لیکر گھر کی تلاشی لی اور محمد ہاشم نامی ایک شخص کو حراست میں لینے کے بعد اپنے ہمراہ لے گئے۔محمد ہاشم کے لواحقین نے انکی جبری گمشدگی کے واقع کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ فورسز کے 6 کے قریب گاڑیوں پر مشتمل اہلکاروں نے محمد ہاشم کو حراست میں لیکر اپنے ہمراہ لے گئے۔لواحقین کے مطابق محمد ہاشم پاکستان فوج کے سابق اہلکار رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔گذشتہ روز فورسز نے تربت کے علاقے گوکدان سے نعیم نامی شخص کو حراست بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہے۔
۔۔۔۔۔نوشکی سے آج بروز بدھ صبح فورسز نے پہلے سے جبری گمشدگی کے شکار مصطفی سرپرہ کے بھائی صادق ولد عزیز سرپرہ کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا ہے۔
۔۔۔۔۔بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے زعمران عبدوی میں ایران بارڈرپر واقع پاکستانی فوج کی چیک پوسٹ پر تعینات ایک اہلکار ڈیوٹی چھوڑ کر فرار ہوگیا۔ زعمران عبدوی میں چیک پوسٹ سے فرار ہونے والے اہلکار کی شناخت سعداللہ کے نام سے ہوگئی۔ دو روز پہلے کیچ کی تحصیل دشت سے بھی پانچ اہلکار فرار ہوئے تھے۔ گذشتہ اتوار کو تربت میں صوبیدار نقیب اللہ نامی ایک اہلکارنے خودکشی کی تھی۔حالیہ دنوں ضلع کیچ کے علاقے دشت،ضلع پنجگور اور ضلع نوشکی میں پاکستانی فورسز پر بلوچ آزادی پسندتنظیموں کے حملوں اور سینکڑوں اہلکاروں کی ہلاکت کے بعدبلوچستان بھرمیں فوجی اہلکاروں کے ڈیوٹی سے انکار کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
۔۔۔۔۔بلوچستان کے علاقے پنجگور سے ایک اور نوجوان کوفورسز نے جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔گذشتہ شب بوقت دو بجے پنجگور کے علاقے مرغوڈن بونستان میں پاکستانی فورسز نے حاجی مقبول احمد نامی شخص کے گھر پر چھاپہ مارکر ان کے بیٹے یحییٰ رئیس کو اٹھاکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔فیملی ذرائع کے مطابق فورسز نے گھر میں توڑ پھوڑ کی اورخواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔فیملی کے مطابق فورسز کے ساتھ ایک نقاب پوش شخص بھی تھا جو فورسز کو گائیڈ کر رہا تھااور انہوں نے یحییٰ کوشناخت کیا جس کے بعد فورسز انہیں اٹھاکر اپنے ساتھ لے گئے۔
۔۔۔۔۔ بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے ڈنڈار میں گذشتہ روزسے پاکستانی فوج کی جاری فوجی جارحیت میں مزید شدت لائی گئی ہے۔علاقائی ذرائع کے مطابق فورسز نے دنڈار کے علاقے بند ملک کے درجنوں علاقہ مکینوں جن میں خواتین، بچے اور مردشامل ہیں کو حراست میں لیکر جبری طور پر اپنے کیمپ منتقل کردیا ہے۔
جبری طورپر کیمپ منتقل کئے جانے والے چند افراد کی شناخت یاسین ولد میاہ لال بخش، صمد، پٹھان ولد کہدہ اللہ بخش، امان ولد کہدہ اللہ بخش، شیرجان ولد کہدہ اللہ بخش،صمد ولد سخی داد، مول جان ولد دربیش،کریمداد ولد محمد عمرکے ناموں سے ہوگئی ہے جبکہ دیگر درجنوں خواتین و بچوں کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
۔۔۔۔۔بلوچستان کے ضلع نوشکی، پنجگور،خضدار اور تربت سے پاکستانی فورسز نے 8 افراد کو حراست میں لے کرجبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔
ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت سے پاکستانی فورسز نے طالب علم رہنما اور بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری جنرل کے بھائی اور پنجگور سے دو، نوشکی سے چار افراد کو حراست میں لے کر لاپتہ کیا گیا ہے۔لاپتہ ہونے والوں کی شناخت بلوچی فنکار اور بی ایس او کے سیکریٹری جنرل ماما عظیم بلوچ کے بڑے بھائی نذیر رحمت عرف عزیز بلوچ، رجب ولد حاجی دلمراد، باسط ولد حسن،وحید،عاصم،فرید ولد محمد اسلم اور سمیع ولد عبدالغفار کے ناموں سے ہوئی ہے۔
نذیر رحمت کو فورسز نے گذشتہ روز تربت سے جبکہ رجب اور باسط پنجگور سے، وحید،سمیع، فرید اور عاصم کو نوشکی سے حراست میں لیا گیا۔ خضدار سے فورسز نے قائد اعظم یونیورسٹی میں زیر تعلیم ایم فل فائنل ائیر کے طالب حفیظ بلوچ کو فورسز نے خضدار سے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا ہے۔

10 فروری
۔۔۔۔۔کوہلو کا ایک رہائشی نوجوان کراچی سے فورسز ہاتھون جبری طور پر لاپتہ ہوگئے۔لاپتہ ہونے والے نواجون کی شناخت چارگل ولد نہال شاہیجہ مری کے نام سے ہوئی ہے۔ذرائع کے مطابق مذکورہ نوجوان کو فورسز نے نو فروری کو صبح نو بجے کے قریب کراچی کے علاقے گلشن معمار سے حراست میں لیا۔نوجوان کوہلو کا رہائشی ہے جو اس وقت کراچی میں اپنے کسی نجی کام کے سلسلے میں گیا ہوا تھا جو جبری گمشدگی کا شکار ہوگیا۔

11 فروری
۔۔۔۔۔بلوچستان کے علاقے نوشکی،خاران شور اور گرد و نواح میں پاکستانی فورسز کی بھاری تعداد گن شپ ہیلی کواپٹروں اور ڈرون طیاروں کے ساتھ زمینی و فضائی گشت کررہے ہیں۔مقامی ذرائع بتاتے ہیں کہ آج بروزجمعہ علی الصبح ڈرون طیارے فضا میں گشت کر رہے ہیں اور فورسز کی بڑی تعداد بھی مذکورہ علاقوں میں موجود ہے۔ ڈرون طیاروں اور فورسز کی بڑی تعداد میں نقل حرکت سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
۔۔۔۔۔بلوچستان کے ضلع پنجگور سے فورسز نے ایک اور نوجوان فنکار اور سماجی کارکن کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے۔
لاپتہ ہونے والے نوجوان کی شناخت مسرور عمر کے نام سے ہوئی ہے جو پنجگور گرمکان کا رہائشی ہے۔سول سوسائٹی پنجگور کے مطابق مسرور عمر ایک خوش اخلاق،خوش آواز فنکاراور سماجی کارکن ہیں۔

12 فروری
۔۔۔۔۔ بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے ہوشاپ میں قتل ہونے والے الطاف کے والد اور خالہ نے تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا 21 سالہ بیٹا بے گناہ تھا اور وہ ہوشاپ میں گھر کے لیے راشن لینے گئے تھے کہ انہیں پاکستانی فوج کی حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈز کے کارندوں نے اغواء کیا اور پھر انہیں قتل کرکے سرمچار ظاہر کیا گیا۔مقتول الطاف کے خالہ نے بتایا کہ انھیں علاقے میں شہید کی لاش لانے کے لیے کسی نے اپنی گاڑی نہیں دی اور وہ پیدل تربت کی طرف نکل پڑے۔انھوں نے کہاکہ اس سے قبل بھی ان کے گھر پر ڈیتھ اسکواڈز نے حملہ کیا تھا اور ان کی موٹرسائیکلیں اپنے ساتھ لے گئے تھے۔
۔۔۔۔۔چار روز قبل خضدار سے لاپتہ ہونے والے قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ فزکس میں ایم فل کرنے والے طالب علم حفیظ بلوچ کو خضدار سے لاپتہ کرنے کے خلاف کتاب چوک سے احتجاجی ریلی نکالی گئی ریلی میں طلباء طالبات سول سوسائٹی اور عوام کی بڑی تعداد میں شامل تھی ریلی مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی گورنمنٹ گرلز کالج خضدار کے سامنے قومی شاہراہ پر پہنچ گئی جہاں انہوں نے قومی شاہراہ پر دھرنا دیا جس کے باعث خضدار سے کراچی جانے والی ٹریفک معطل ہو گئی۔
۔۔۔۔۔بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے منگچر میں جمعہ کے روز پاکستانی فورسز نے مختلف آبادیوں میں آپریشن کے دوران 5افراد کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا۔
منگچر خلق مجید شہید میں فورسز کے اہلکاروں نے آپریشن کے دوران گھر گھر تلاشی لیتے ہوئے لوگوں کو ہراساں کیا۔لاپتہ کیے گئے 5 افراد میں ایک شخص کی شناخت وطن ٹیچر ایسوسی ایشن قلات کے ضلعی صدر ماسٹر کفایت اللہ لانگو کے نام سے ہوئی ہے۔علاقائی ذرائع کے مطابق جمعہ کے علی الصبح فورسز کے اہلکار گھر گھر میں تلاشی لے رہے ہیں جبکہ دیگر لاپتہ چار افراد کی شناخت کے بارے میں معلومات حاصل نہ ہوسکے۔
۔۔۔۔۔پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے تین مزدوروں کو اغواء کرکے لاپتہ کیا گیا ہے۔لاپتہ ہونے والوں کی شناخت جمال خان بلخانی، محمد نواز بلخانی اور فاروق خان کے ناموں سے ہوئی ہے۔مذکورہ افراد رادا شام کوہ سلیمان کے رہائشی ہیں جو لاہور میں مزدوری کررہے تھے کہ انہیں فورسز نے سات فروری کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا ہے۔
۔۔۔۔۔گذشتہ شب سیکورٹی فورسزاور خفیہ اداروں نے سبی کے علاقے لہڑی کے قریب چھاپا مار کرشاندار ڈومکی ولد دلاور ڈومکی نامی ایک شخص کوحراست میں لیکرجبری طور پر لاپتہ کردیا۔جبکہ چھاپے کے دوران فورسز گھر میں جو موجود قیمتی ساز و سامان بھی لوٹ کر اپنے ساتھ لے گئے۔
۔۔۔۔۔ ڈیرہ مراد جمالی کے نزدیک ربی سے سیکورٹی فورسز اور خفیہ اداروں نے 3 افراد کوحراست میں لیکرجبری طور پر لاپتہ کیا ہے۔جن میں 2 کی شناخت بختیار والد حمزہ، صاحب والد حمزہ کے نام سے ہوگئی جبکہ تیسرے کی تاحال شناخت نہ ہو سکی۔
۔۔۔۔۔6فروری کو سیکورٹی فورسز و خفیہ اداروں نے ڈھاڈر سے دو افراد کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کیا ہے جن کی شناخت محمد حسین اور عبدالحمید کے ناموں سے ہوگئی۔لاپتہ محمد حسین اور عبدالحمید خاندانی کی ذرائع کے مطابق اسی خاندان سے تعلق رکھنے والے عبدالستار ولد زہروخان کو ایک سال قبل فورسز نے لاپتہ کیا تھا جسے میڈیا پر رپورٹ نہیں کیا گیا۔

13 فروری
۔۔۔۔۔تنظیمی ساتھی ہدایت اللہ دشمن سے دو بدو لڑائی میں شہید ہوگئے، بی این اے
۔۔۔۔۔کوئٹہ میں گذشتہ شب پاکستانی سیکورٹی فورسز نے فیض آباد میں واقع حاجی نور اللہ سرپرہ نامی شخص کے گھر پر چھاپہ مارااور ان کے بیٹے دسویں جماعت کے طالب علم سعود سرپرہ اور گیارہویں جماعت کے طالب علم سدیس ولد حاجی نثار سرپرہ کو حراست میں لیکر لاپتہ کر دیاہے۔
۔۔۔۔۔خضدار کے تحصیل گریشہ کے یونین کونسل کودگ سے کل رات سیکورٹی فورسز اور خفیہ اداروں اہلکاروں نے کودگ کے معروف کاروبای شخصیت نورمحمد کے گھر پر چھاپہ مارکارروائی کرتے ہوئے موصوف کے جوانسال فرزندنذیر احمد کو کافی تشدد کے بعد آنکھوں میں سیاہ پٹی باندھ کر اپنے ساتھ لے گئے۔فیملی ذرائع کے مطابق نذیر احمد کی جبری گمشدگی کے دوران ان کے ماں اور بہنوں کی مداخلت پر فورسز اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔
۔۔۔۔۔بلوچستان کے صنعتی شہر حب ڈیم سے کراچی کو پانی سپلائی کرنے والی کراچی منگھو پیرمیں واقع حب کینال سے زنجیروں سے بندھالاش برآمد ہوگئی ہے جبکہ اسی طرح ڈام میں بھی ایک شخص کی لاش برآمد ہوگئی ہے۔سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ویسٹ کراچی سہائی عزیز کے مطابق رات گئے کراچی کے منگھو پیر کے علاقے میں حب ڈیم سے کراچی کو پانی سپلائی کرنے والی حب کینال سے جوان العمر شخص کی ایک لاش ملی، جسے زنجیروں سے باندھا گیا تھا، لاش بلوچستان سے تیرتے ہوئے کراچی کی حدود میں پہنچی۔ لاش کی شناخت نہیں ہو سکی۔
۔۔۔۔۔کوئٹہ کے وسطی علاقے کے ٹیکسی اسٹینڈ کے قریب ایک لاش برآمد ہوئی۔لاش کی شناخت تا حال نہ ہوسکی۔
۔۔۔۔۔بلوچستان کے ضلع آوارا ن کے علاقے تیر تیج سے گذشتہ شب پاکستانی فوج کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے دو سگے بھائیوں میں ایک ٹارچرسیل میں شدید تشدد کے باعث جابحق جبکہ دوسرے کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔علاقائی ذرائع کے مطابق پرسوں رات تیرتیج میں فورسز نے ایک گھر پر چھاپہ مار کر محمدعلی ولد دینار اورعبدالواحد ولد دینار نامی دوسگے بھائیوں کو حراست میں لیکر کیمپ منتقل کردیا تھا۔اورآ ج دونوں بھائیوں میں سے محمدعلی کو قتل کرکے لاش دفنادی گئی ہے جبکہ چھوٹے بھائی کی حالت تشویشناک ہے۔
علاقائی ذرائع بتاتے ہیں کہ دونوں بھائیوں کو ٹارچر سیل میں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیاتھا جس کی وجہ سے محمد علی شہید ہوگئے جبکہ اس کے چھوٹے بھائی عبدلواحد شدید زخمی ہیں اور اس کی حالت تشویشناک ہے۔ذرائع بتاتے ہیں کہ فورسز نے محمد علی کی لاش کو خاندان کو دینے کے بجائے ٹریکٹر کے ذریعے گڑھا کھود کر اس میں دفنا دیا ہے۔ فورسز کے تشدد سے قتل ہونے والے محمد علی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سال 2013 میں سرکاری حمایت یافتہ ریاستی ڈیتھ اسکواڈکے علاقائی کارندہ میر قیصرمیروانی نے اس کے دو چچازاد بھائی نصیرولد بائیان اور عمر جان ولد بائیان کو جبری طور پر لاپتہ کیا تھااور جنوری 2014میں خضدار کے علاقے توتک سے برآمد ہونے والے اجتماعی قبروں سے لاپتہ نصیر ولد بائیان کی لاش شناخت کی گئی تھی جبکہ اس کابھائی عمرجان تاحال لاپتہ ہیں۔
۔۔۔۔۔بلوچستان کے ضلع آواران کی تحصیل جھاؤ سے پاکستانی سیکورٹی فورسز نے 2 افراد کو حراست میں لیکرجبری طور پرلاپتہ کردیا ہے۔جن کی شناخت گمی ولد واجو اور بشیراحمد ولد دین محمد کے نام ہوگئی ہے۔ لاپتہ کئے گئے دونوں افراد سورگر کے رہائشی ہیں جوگزشتہ کئی سالوں سے فوجی جارحیت کی وجہ سے اپنے آبائی علاقے سے نقل مکانی کرکے جھاؤ میں آباد ہوگئے تھے۔
۔۔۔۔۔کراچی ملیر سے فورسز وخفیہ اداروں نے ایک نوجوان کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کیا ہے۔جس کی شناخت محمد نور کے نام سے ہوگئی ہے۔ خاندانی ذرائع کے مطابق محمد نور کو فورسز نے کراچی سے حراست میں لیکر اپنے ہمراہ لے گئے ہیں جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔لاپتہ محمد نور کیچ زامران کے رہائشی ہیں۔

14 فروری

۔۔۔۔۔ ضلع آواران کے علاقے جھاؤ میں پاکستانی فورسز کی جارحیت سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے۔جبکہ فورسز کے ہاتھوں ایک شخص جبری طور پر لاپتہ ہوگیا ہے۔ ضلع آواران کی تحصیل جھاؤ کے علاقے کوہڑو میں آج بروز پیراعلی الصبح سیکورٹی فورسز نے پورے گاؤں کا محاصرہ کرکے راشد ولد لعل محمد نامی ایک شخص کو حراست میں لیکرجبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔
۔۔۔۔۔بلوچستان کے ضلع آواران کے علاقے تیرتیج میں گذشتہ دنوں 12 فروری کو پاکستانی فوج کے تشدد سے جان بحق ہونے والے ’محمد علی ولد دینار‘ کے حراستی قتل اور لاش کی عدم حوالگی کے خلاف آج بروزپیر کے روز تیرتج کے مکینوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ شہید کی لاش لواحقین کے حوالے کی جائے۔
۔۔۔۔۔کریم بلوچ ولد قادر بخش سکنہ مل نوشکی کو قاضی آباد نوشکی سے کرائے کے مکان سے گذشتہ رات فورسز اور سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے اغواء کرکے لاپتہ کردیا ہے۔

16 فروری
۔۔۔۔۔بلوچستان کے ضلع پنجگور سے تعلق رکھنے والا نوجوان سندھ کے علاقے حیدرآباد سے جبری لاپتہ کردیا گیا۔
سندھ حیدرآباد سے فورسز نے ایک گھر پر چھاپہ مارتے ہوئے سہیل بلوچ نامی نوجوان کو حراست میں لینے کے بعد اپنے ہمراہ لے گئے، سہیل بلوچ سندھ کے علاقے حیدرآباد کا رہائشی ہیں جبکہ انکا بنیادی تعلق پنجگور سے ہے۔
۔۔۔۔۔ضلع کیچ کے علاقے تمپ رودبن شاہ آپ اور کلبر میں آج صبح سے سیکورٹی فورسز کی زمینی اور فضائی جارحیت جاری ہے۔ علاقائی ذرائع کے مطابق گن شپ ہیلی کواپٹرز مختلف مقامات پر شیلنگ کررہے ہیں پہاڑی سلسلوں سے چھوٹے اور بڑے قسم ہتھیاروں کی آوازیں آرہی ہیں۔ فوجی جارحیت سے کسی قسم اغوا نما گرفتاری یا جانی نقصان کی خبریں موصول نہیں ہوئی ہیں لیکن تمپ اور کلبر کے علاقوں میں فورسز نے کرفیو نافذ کیا ہے جہاں علاقہ مکین گھروں میں محصور ہیں۔ہر قسم کے آمد ورفت پر مکمل پابندی ہے۔
۔۔۔۔۔بولان و ہرنائی کے علاقے شاہرگ،سنجاول، یخو و دیگر جگہوں میں فوجی جارحیت جاری ہے۔وہاں سبی کے علاقے سانگان اور گردنواح میں بھی اطلاعات ہیں کہ فوج بڑی تعدادمیں پیش قدمی کررہی ہے۔
۔۔۔۔۔طالب علم حفیظ بلوچ کی جبری گمشدگی کیخلاف طلبا نے پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں احتجاجی کیمپ قائم کرلیا۔
۔۔۔۔۔بلوچستان کے ضلع کیچ میں مند کے علاقے ہوزہی سے گذشتہ شب تین بجے پاکستان کے سیکورٹی فورسز نے 2 نوجوانوں کو گھر سے حراست کے بعد جبری طورلاپتہ کردیا ہے۔ لاپتہ کئے گئے دونوں نوجوانوں کی شناخت یاسر ولد ناصر اور واجو ولد مزار کے نام سیہوگئی ہے جو مند کے رہائشی بتائے جاتے ہیں۔
۔۔۔ کوئٹہ میں ایک عمارت کی ٹینکی سے ایک شخص کی لاش بر آمد ہوئی ہے۔جس کی شناخت نہ ہوسکی۔پو لیس کے مطابق بدھ کو کوئٹہ کے علا قے عملدار روڈ سعید احمد سٹریٹ کے قریب بلڈنگ کی ٹینکی سے نامعلوم شخص کی لاش ملی ہے۔
۔۔۔۔۔ ضلع خضدار کے علاقے باغبانہ باجوئی کے رہائشی محمد حسن باجوئی،انکی اہلیہ اور خاندان کے دیگر افراد نے خضدار پریس کلب میں میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں اور میرا پورا خاندان نہایت متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ہمارا ذریعہ معاش صرف شعبہ ذراعت پر منحصر ہے۔محنت مزدوری سے اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔میرا ایک فرزند عبدالحفیظ بچپن سے ذہین اور ہونہار طالب علم رہا ہے جس نے میٹرک اورایف ایس سی پوزیشن لے کر پاس کیا اسکے شوق کو دیکھ کر ہم والدین نے اسے اعلی تعلیم دلانے کا فیصلہ کیا۔
۔۔۔۔۔ جعفرآباد کے علاقے اوستہ محمد میں مسلح افراد کی فائرنگ سے دو افرادہلاک جبکہ تین شدید زخمی ہوگئے۔پولیس کے مطابق اوستہ محمد سٹی پولیس تھانہ کی حدود السیف مل میں مسلح افراد کی اندھا دھند فائر نگ سے مل اونر رحمت اللہ جتک اور جمعدار نوریز مستوئی ہلاک جبکہ تین افراد زخمی ہوگئے۔
۔۔۔۔۔جمعرات کو ماشکیل کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں غلام مصطفی مشوانی موقع پر ہلاک جبکہ اس کا ساتھی معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔رائع بتاتے ہیں کہ مقتول ماشکیل میں محنت مزدوری کرتا تھا جسے نامعلوم افراد نے نشانہ بنایا۔
۔۔۔۔۔کوئٹہ میڈیکل طلبا کی اسٹریچرز پر احتجاجی ریلی،پولیس کی تشدد،بلوچستان کے مختلف میڈیکل کالجز کے طلبا نے بھوک ہڑتا لی طلبا ء کو اسٹریچرز پر لٹا کر احتجا جی ریلی نکا لی تا ہم پو لیس نے انہیں ریڈ زون جا نے سے روک دیا۔جمعرات کے روز مختلف میڈیکل طلبا ء کی جا نب سے اپنے مطا لبا ت کے لئے لگا ئے گئے بھوک ہڑتا لی کیمپ سے ریلی نکا لی گئی۔

18 فروری
۔۔۔۔۔کوئٹہ دشت قبرستان میں 6 لاوارث میتوں کی تدفین کردی گئی،ایدھی حکام کاکہنا ہے کہ دشت قبرستان میں 6لاوارث میتوں کی تدفین کردی گئی ہے۔واضع رہے کہ بلوچستان میں متعدد ایسی لاشیں برآمد ہوتی ہیں جو مسخ ہوتی ہیں اور ان کی شناخت نہیں ہوتی لیکن انہیں ڈی این اے ٹیسٹ جیسی شناخت کے مراحل سے گزارے بغیر لاوارث قرار دیکر دفنا دیا جاتا ہے جن پر شبہ ہوتا ہے کہ وہ لاپتہ افراد کی لاشیں ہیں۔

19 فروری
۔۔۔۔۔بلوچستان کے ضلع آواران کی تحصیل جھاؤ کے پہاڑی سلسلے سورگر میں گزشتہ چار دنوں سے پاکستان آرمی کی فوجی بربریت جاری ہے۔ گردو نواح کے علاقہ مکینوں کے مطابق جھاؤ کے تحصیل کورک کی تمام علاقوں کو فورسز نے مکمل سیل کیا ہے۔ آرمی کیمپ کوٹو بگاڑی زیلگ، کوہڑو اور ڈولیجی کے فوجی کیمپوں سے سینکڑوں کی تعداد میں فوجی نفری اس وقت سورگر کے پہاڑی علاقوں میں کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
۔۔۔۔۔بلوچستان کے علاقے مستونگ کے شیران آب میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ ہفتہ کو شیران آب کے علاقے خوشنخیر میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے نصیب اللہ ولد گامڑ خان نا می شخص ہلاک ہو گیا۔
۔۔۔۔۔ تنظیم کے ریجنل کمانڈر نور سلام نور 5 ساتھیوں سمیت دشمن سے جھڑپ میں شہید ہوگئے، بی این اے
تنظیم کے ریجنل کمانڈر اور بلوچی زبان کے نوجوان شاعر نورسلام نور عرف استال ولد باھڑ بلوچ سکنہ دشتُک زامران، زبیر اکرم عرف اسدجان ولد اکرم بلوچ سکنہ ھوت آباد زامران بازار، کمبر بلوچ عرف مہروان ولد طارق سکنہ کلاہو، صغیر بلوچ عرف طارق ولد نوربخش سکنہ بیسیمہ رسول جان عرف چراگ ولد علی جان سکنہ سرنکن، حافظ پراز عرف مُلا درویش ولد عبدالغنی سکنہ سرنکن نے جام شہادت نوش کیا۔
۔۔۔۔۔بلوچستان کے ضلع کیچ سے پاکستانی فورسز نے ایک شخص کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا ہے۔لاپتہ ہونے والے شخص کی شناخت نبیل ولد لیاقت سکنہ گومازی کے نام سے ہوئی ہے۔ مذکورہ شخص کو فورسز نے گذشتہ شب رات گئے گھر پر چھاپہ مارکر حراست میں لیا ہے فورسز نے گھروں میں موجود خواتین و بچوں کو بھی شدید تشدد کا نشانہ بناکر گھروں سے قیمتی سامان کا صفایا کردیا ہے۔

20 فروری
۔۔۔۔۔بلوچستان کے ضلع کوہلو اور ڈیرہ بگٹی کے درمیانی علاقے بمبور میں پاکستانی فورسز نے زمینی اور فضائی فوج کشی کا آغاز کردیا ہے۔فوجی جارحیت بمبور کے گردنواح اور پہاڑی علاقوں میں کی جارہی ہے جبکہ مختلف مقامات پر گن شپ ہیلی کاپٹروں کے شیلنگ کی۔
۔۔۔۔۔ڈھاڈر سے فورسز گاڑیوں کے قافلے اور ہیلی کاپٹروں کو پیش قدمی کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔ بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت ٹیچنگ اسپتال کے مردہ خانہ میں کئی ہفتوں سے ناقابل شناخت ایک انسانی ڈھانچے کی باقیات رکھی گئی ہیں۔اسپتال ذرائع کے مطابق چہرہ اور پورا جسم مکمل مسخ ہے، جس کا تاحال کوئی وارث نہیں ملاہے۔خیال رہے کہ ایسی لاشیں اکثر پہاڑی علاقوں سے ملتی ہیں۔ یہ زیادہ تر گلی سڑی اور تشدد کا شکار ہوتی ہیں اور ان کی شناخت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔بلوچ قوم پرست حلقے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ان مسخ شدہ لاشوں کا ذمہ دار پاکستانی خفیہ اداروں اور سیکورٹی فورسز کو قرار دیتے ہیں۔

21 فروری
۔۔۔۔۔ بلوچستان کے ضلع پنجگور کے تحصیل پروم کے علاقے گیشتی سے گذشتہ روزپاکستانی فورسزاور مقامی ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے 2نوجوانوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کردی گئیں۔
علاقی ذرائع کے مطابق دونوں نوجوانوں کو پاکستانی فورسز اور ڈیتھ اسکواڈ کے ارکان اغواء کرکے اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔جبری گمشدگی کے شکار دونوں نوجوانوں کی شناخت حمید ولد مُرید اور محمد رحیم ولد قادر بخش کے ناموں سے ہوئی ہے۔اغواکاروں نے دونوں افراد کی تصویر کو سوشل میڈیا پر شائع کر دی ہیں۔دونوں افراد کو اس وقت اغواء کیا گیا جب وہ باغات میں کام کر رہے تھے۔
۔۔۔۔۔بلوچستان کے ضلع کیچ سے پاکستانی فورسز نے ایک یوٹیوبر کو حراست میں لے کر جبی طور پرلاپتہ کیا ہے۔
لاپتہ ہونے والے شخص کو ضلع کیچ کے علاقے مند ہوزی سے حراست میں لیا ہے جسکی شناخت وارث وفا کے نام سے ہوئی ہے۔مذکورہ شخص ایک اداکار ہیں جو یوٹیوب پہ مزاحیہ شارٹ مووی بنایا کرتا ہے۔فورسز نے پنجگور سے بھی ایک فنکار مسرور عمر کو حراست میں لے کر لاپتہ کیا تھا تاہم اس کو بعدازاں چھوڑ دیا گیا جبکہ نوشکی سے گلوکار عاصم کو گذشتہ دنوں لاپتہ کیا گیا۔
۔۔۔۔۔علاقائی ذرائع کے مطابق فورسزنے مواصلاتی نظام کے تمام ذرائع بند کردیئے، جبکہ علاقے لوگ اپنے گھروں میں محصور ہیں اور فورسز کی بڑی تعداد نے مذکورہ علاقے کی داخلی و خارجی راستوں کی ناکہ بندی کی ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ فورسزکے اہلکارگھروں میں گھس کر لوگوں کو ہراساں کرکے تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
۔۔۔مشکے کے مغربی پہاڑی سلسلوں میں فورسز کا آپریشن جاری ہے۔ذرائع بتاتے ہیں کہ فورسز کے ساتھ علاقائی ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے بھی دیکھے گئے ہیں جو ان کے کمک کیلئے ساتھ ہیں۔ علاقائی ذرائع کے مطابق مشکے کے مغربی پہاڑی سلسلے اسپیت، پندر، پوہان اور جانی میں فورسز کئی دنوں سے فوج کشی کر رہاہے۔

22 فروری
۔۔۔۔۔ بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں نامعلوم افراد کی فائر نگ سے ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے مطابق منگل کو کوئٹہ کے علا قے لیاقت بازار بلدیہ پلازہ کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہو گیا۔
۔۔۔۔۔بلوچستان کے علاقے خضدار میں کراچی پولیس کی جانب سے مختلف مقامات پر گھروں میں چھاپے اورخواتین وبچوں پر تشدد کیخلاف خواتین نے احتجاج کیا۔ذرائع کے مطابق بغیر یونیفارم کے کراچی پولیس کے اہلکاروں نے خضدار میں سول کالونی، کھنڈ اور کھٹان میں چادر و چار دیواری کو پامال کرتے ہوئے مختلف گھروں پر چھاپہ مار کر رات تین بجے سے صبح سات بجے تک لوگوں کو محصور کیااورخواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
کراچی پولیس کی غیر قانونی چھاپوں اور مقامی انتظامیہ کے خلاف خواتین نے احتجاج کیا۔خواتین کے مطابق وہ ڈپٹی کمشنر آفس گئے لیکن اس سارے معاملے سے ڈی سی مکمل طور پر لاعلم نکلے۔
۔۔۔۔۔بلوچستان کے ضلع خضدار سے فورسز نے ایک شخص کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ جبری طور پرکردیا ہے۔لاپتہ ہونے والے شخص کو 20 فروری میں فورسز نے تحصیل نال بازار سے حراست میں لیا گیا جسکی شناخت علی حیدر ولد ساجو سکنہ کوچہ گریشہ کے نام سے ہوئی ہے۔

23 فروری
۔۔۔۔۔گذشتہ شب بلوچستان کے علاقے ژوب کلی شہاب زئی میں حاجی لالو نامی شخص کے گھر پر پاکستانی سیکورٹی فورسز نے چھاپہ مارا ہے
چھاپے کے دوران مکینوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان تلخ کلامی کے بعد سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے چار افراد جاں بحق اور چار افراد زخمی ہوگئے ہیں –زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کرکے طبی امداد دی جارہی ہے ہے جبکہ جانبحق اور زخمیوں کے لواحقین نے لاشیں کوئٹہ روڈ ڑوب پر رکھ احتجاج شروع کیا ہے۔ احتجاج کے باعث ٹریفک کی روانی معطل ہے۔
۔۔۔۔۔بلوچستان کے ضلع کیچ کے پہاڑی علاقے میں آج زمینی و فضائی آپریشن جاری رہا۔ ضلع کیچ کے علاقے ہوشاپ اور تجابان کے پہاڑی علاقے میں آج علی الصبح پاکستانی فورسز کی جانب سے فضائی و زمینی آپریشن کا آغاز کیا گیا ہے۔شاہدین کے مطابق علاقے میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کی پروازیں دیکھنے میں آئی اور کئی مقامات پر گن شپ ہیلی کاپٹروں نے شیلنگ کی۔

24 فروری
۔۔۔۔۔ضلع آواران کی تحصیل جھاؤ میں پاکستانی سیکورٹی فورسز،کی جارحیت سے عوام انتہائی پریشانی کا شکار ہیں، روزانہ نے حربوں کے ساتھ پاکستانی فورسز لوگوں کو بلاوجہ تنگ کررہی ہے،۔گزشتہ روز تحصیل کورک کے مختلف علاقوں سے سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں کو فورسز نے آرمی کیمپ کوہڑو بلایا ایک جرگے کے زریعے علاقائی لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کے علاوہ جان سے بھی مارنے کی دھمکی دیا گئی۔لوگوں کا کہناہے ہم روزانہ آرمی کیمپ میں بلاوجہ پیشی دینے سے بیزار ہیں،ہمیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ ہم اپنی جدی پشتی زمینوں کو چھوڑ دیں،مگر ہمارے پاس جانے کے لیے نہ وسائل ہیں اور نہ کوئی جگہ ہے۔لوگوں کا کہنا ہے ہمارے ذریعہ معاش زمینداری اور گلہ بانی پر منحصر ہیں لیکن فوجی جارحیت سے ہماری تیار فصلیں بھی تباہ ھورہے ہیں،روزانہ قریبی پہاڑی سلسلوں میں سرچ آپریشن کے بہانے سے ہمیں بھی جبری طور پر فوجی گاڑیوں میں ڈال کر لے جاتے ہیں اور رات واپس گھروں میں بھیجتے ہیں، اور پھر صبح آرمی کیمپ میں حاضری کے لیے پیش ہونے کو کہتے ہیں۔
۔۔۔۔۔پاکستانی فوج نے کوئٹہ اور بارکھان سے 2افراد کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔جن کی شناخت محمد اکرم مری اورڈاکٹر جمیل کھیتران کے ناموں سے ہوئی ہے۔لواحقین کا کہنا ہے کہ محمد اکرم مری ولد سیف اللہ کو رواں سال 21 فروری کے رات 11 بجے گوہر آباد کوئٹہ میں گھر سے گرفتاری کے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔اسی طرح بارکھان سے نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) کے مرکزی رہنما ڈاکٹر محمد جمیل ولد جمعہ خان جلیانی کھیتران کو جبری طور پر لاپتہ کردیئے گئے۔

25 فروری
۔۔۔۔۔ بلوچستان میں کوہلو اور ڈیرہ بگٹی کے درمیان واقع علاقہ کوہ بمبور میں پاکستانی فوج کی جارحیت آبادیوں پرفورسزکی فضائی بمباری سے قرآن مجید جل کر خاکستر جبکہ متعدد مال مویشیاں ہلاک ہوگئیں۔
بمبور میں فوجی جارحیت سے سینکڑوں مال مویشی سمیت کہیں گھرانے نذر آتش کئے گئے۔ جبکہ دوران جارحیت خودکو اسلامی فوج کہنے والی پاکستان آرمی نے مسلمانوں کی مقدس آسمانی کتاب قرآن مجید کو بھی نہیں بخشا اور انہیں نذرآتش کردیا۔ کوہلو اور ڈیرہ بگٹی کے درمیان واقع کوہ بمبور میں فوجی جارحیت گزشتہ کہیں روز سے جاری ہے۔جہاں زمینی اور فضائی فوجی جارحیت سے سینکڑوں کے تعداد میں مال مویشیوں کوہلاک کرنے اورکئی گھر وں کو نذرآتش کرنے سمیت قرآن مجید کوجلانے کی مصدقہ اطلاع تصویروں کی صورت میں سامنے آئی ہے۔علاقائی ذرائع بتاتے ہیں کہ فضائی بمبار منٹ سے کہیں گھرانے تباہ ہوگئے۔
۔۔۔۔۔ہوشاپ میں ڈرون حملے سے تنظیم کے 2آپریشنل کیمپ کمانڈر سمیت 10ساتھی شہید ہوگئے،بی این اے
بلوچ نیشنلسٹ آرمی کے ترجمان مرید بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ 23 فروری کو کیچ ہوشاپ کے پہاڑی سلسلے ساتک کور میں تنظیم کے گوریلا کیمپ پر قابض پاکستانی ڈرون نے تین میزائل فائر کیے جو کیمیکل مواد سے لوڈ تھے جنہوں نے ایک بڑے رقبے پر تباہی مچائی دی، مذکورہ جگہ پر کھجور کے باغات اور دیگر پودے مکمل جلس گئے تھے۔
شہید ہونے والے بلوچ فرزند کمانڈر ماسٹر آصف عرف مکیش جان ولد محمد رضا سکنہ شاپک ہوشاپ، سراج ظہیر عرف ظہیر صاحب ولد رشید بلوچ سکنہ شاپک ڈانڈل، جنگی خان بلوچ عرف عیسیٰ ولد ماسٹر حصا سکنہ شاپک، کماش ملنگ عرف ماما ولد یعقوب سکنہ شاپک، کمال جان عرف گُلاب ولد محمد سعید سکنہ اومری کہن شاپک، دِل جان عرف نزیر ولد میران سکنہ سنگ آباد تجابان، عارف جان عرف میرخان ولد فقیر سکنہ تربت آپسر، مُنیر جان عرف جمعہ خان ولد در محم سکنہ ھوشاب دمب،ب عرف سراج ولد عید محمد، دولت عرف چراگ ولد یوسف سکنہ ھوشاب دمب۔

26 فروری
۔۔۔۔۔ بلوچستان کے علاقے بارکھان سے پاکستانی فورسزنے 2 سماجی کارکنان کو رات گئے اٹھا کرجبری طور پر لاپتہ کردیا ہے جن میں مقامی سماجی تنظیم کا سربراہ شامل بھی ہے۔تفصیلات کے مطابق بارکھان نوجوان اتحاد کے سربراہ شاہ زین بلوچ اور ایک ساتھی نسیم بلوچ کو بارکھان سے لاپتہ کردیا گیاہے۔ ذرائع کے مطابق بارکھان کے نان لوکل کے مسئلے پر شاہ زین نے بارکھان کو یکجا کرکے ان کو قومی مسائل پر اتحاد کی طرف راغب کیا۔ حال ہی میں شاہ زین بارکھان نوجوان اتحاد کے پلیٹ فورم سے بلوچ ثقافتی دن منانے کے مصروفیات میں مشغول تھا۔

27 فروری
۔۔۔۔۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے مقامی اور بلوچستان حق دو تحریک کے صف اول کے رہنماحسین واڈیلہ کے بیٹے حمل حسین واڈیلہ کی گمشدگی کی اطلاعات ہیں۔علاقائی ذرائع کے مطابق وہ آج بروزہفتہ اسکول سے چھٹی کے بعد گھر واپس آیا تھا گھر میں اس کی آمد کے وقت خاندان کے دیگر افراد موجود نہیں تھے، اس کے بعد ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔ تربت ٹو کوئٹہ بلوچستان کا دوسرا بڑا ننگے پاؤں لانگ مارچ شروع تربت سول سوسائٹی کے کنوینر کامریڈ گلزار دوست نے اور نوجوان زبیر بلوچ نے تربت سے کوئٹہ تک بلوچستان کی تاریخ کا دوسرا بڑا لانگ مارچ شروع کیا ہے۔تربت شہید فدا چوک سے درجنون افراد نے اتوار کی صبح سی پیک شاہراہ تک انہیں رخصت کیا۔ تربت سول سوسائٹی کے کنوینر کامریڈ گلزار دوست نے لاپتہ افراد کی بازیابی، بلوچوں کی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی، بلوچستان میں منشیات کے پھیلاؤ اور لینڈ ریکوزیشن ایکٹ کے تحت بلوچستان کی زمینوں پر وفاقی اداروں کی جبری قبضہ گیری کے خلاف تربت سے کوئٹہ تک ننگے پاؤں پیدل لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا جس پر اتوار 27 فروری کو عمل کرتے ہوئے وہ کوئٹہ کے لیے روانہ ہوگئے۔
۔۔۔۔۔بلوچستان کے علاقے سبی کے بختیار آباد ڈومکی میں مسلح افراد نے گھر میں گھس کر 3 بچیوں کو اسلحہ کے زور پر اغواء کر لیاہے۔
جن کی عمریں پندرہ، تیرہ اور دس بتائی جارہی ہیں۔ ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے گھر میں گھس کر انکو اغوا کیا۔
۔۔۔۔۔ہفتہ اور اتوار کے درمیانی شب تقریبا سات بجے نور احمد اور بشیر احمد اپنے آٹھارہ مسلح ساتھیوں کے ہمراہ جو اسلحہ،ڈنڈوں سے لیس تھے ہمارے گھر پر حملہ کیا اور ہمیں تشدد کا نشانہ بنایا ہے اور میرے تین بھانجیو ں صنم گل عمرپندرہ سال،حنا گل عمر تیرہ سال اور نایاب گل عمر دس سال کو زبردستی اغواء کرکے اپنے ہمراہ لے گئے۔
۔۔۔۔۔اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپورکا طالب علم بواٹہ رکھنی سے لاپتہ،اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں زیر تعلیم اسٹوڈنٹ دلیب بلوچ کو بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ جاتے ہوئے بواٹہ رکھنی کے مقام پر جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔ دلیب بلوچ جامعہ اسلامیہ بہاولپور میں ایم اے کے انرولڈ طالب علم ہیں۔

٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here