یہی فطرت ہے کہ انسانی سماج میں ظلم و بربریت میں جس قدر تیزلائی جاتی ہے، اس کے ردِ عمل میں انقلاب کے لیے راہ اتنی تیزی سے ہموار ہوجاتی ہے۔اس امر پہ جو سب سے اہم نقطہ ہے،وہ یہ کہ اس راہ کا راہی بننے والوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ انقلابی سوچ و نظریہ کی پختگی پہ توجہ دیں اگر اس ضمن میں انہیں کامیابی مل جاتی ہے تو پھر ان کی تحریک کو کامیابی سے ہمکنار ہوتے دیر نہیں لگتی اور بلوچ تحریک کو دیکھ ایسا لگتا ہے کہ وہ اب مکمل انقلابی سانچے میں ڈھل چکا ہے۔
جب کوئی سماج ظالمانہ نظام کی چکی میں کئی دہائیوں سے پس کر زندگی کی تمنا چھوڑ دے اور ہار مانے کو ذلت آمیز سمجھ لے وہ انقلاب کی راہ میں امر ہونے کو ترجیج دے گا۔ایسے افراد خوشحال قومی مستقبل کیلئے اپنے سروں کا نذرانہ دیکر اپنے آنی والی نسلوں کیلئے راستہ بنا لیتے ہیں۔ آج بلوچستان کے باشعور عوام اپنی تاریخ کو زندہ رکھ کر انقلابی جدوجہد کے عملی میدان میں جس ثابت قدمی سے آگے بڑھ رہے ہیں وہ بے نظیر ہے۔تحریک آج اس نہج پہ پہنچ چکی ہے کہ کوئی بھی فرد اسے آء جیک کرہی نہیں سکتا یہ جو کچھ بھی ہورہا اس کے لیے بلوچ ہی متحرک ہیں وہ بلوچ جن کا گزشتہ چوہتر سالوں سے استحصال ہورہا ہے جس میں معاشی و علمی استحصال سے لیکر جانوں کی قربانی بھی شامل ہے۔ لہذا ایک ارتقائی عمل سے گزر کر آج تحریک انتہائی پختہ ہوچکا ہے۔جس میں کوئی بھی جادوگر اس تحریک کو اپنے مفادات میں استعمال کرنے کی سوچ میں قوم پرستی اور وطن دوستی کے لبادے میں سرگرداں بھی ہو مگر جادوگر دیوتا اور اْن کے پجاریوں کی اِن چالبازیوں کو نا کام بنانے میں نظریاتی سوچ، اور فکر جو بلوچوں کے پاس ہے وہ کاؤنٹر کرے گی۔
بلوچ قوم کو قدرت نے یہ شرف بخشا ہے کہ ظلم کے اِن سیاہ ابواب کو ختم کرنے کے لیے بلوچ قوم نے اپنی قوتِ بازو کے استعمال سے کبھی دریغ نہیں کیا انہوں نے مقابلہ کرنے کو قومی فرض سمجھ کر قومی وقار اور گلزمین کا دفاع کیا ہے۔بلوچ انقلابی سوچ کو پہلے بھی کئی مداریوں نے ہائی جیک کرنے کی کوششیں کی ہیں، بسا اوقات وہ وقتی طور پر قوم پرستی اور وطن دوستی کے نام پر ہیرو بننے میں کامیاب ضرور ہوئے مگر انقلابی نظریہ اور فکر نے انہیں سماج میں بونا بنایااور انقلابی کارواں اپنی منزل پہ پہنچنے کے لیے آج بھی اسی طرح رواں دواں ہے۔ جو آج کل بھی بہت سارے سیاسی مداری متحرک ہیں کہ کسی نہ کسی طرح بلوچ نیشنلزم کے جذبے کو کسی اور جانب موڑیں لیکن بلوچ میں جذبہ قوم پرستی اس قدر سرایت کرچکا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اسے ختم نہیں کرسکتی۔اْسی نظریہ و شعور، فکر اور سوچ کی بدولت ہی تحریکِ آزادی آج توانا آواز بن چکی ہے۔یہی نظریہ و فکر ہی جس کی بدولت تحریک سے وابستہ کارکنان آنے والی نسلوں کی بقا کے لیے جان دینے سے دریغ نہیں کرتے۔ شہیدوں کی قربانی اور جہد آزادی کے کارکنان کی بدولت یہ بات دنیا پہ ثابت ہوچکی ہے کہ دشمن کی پْرتشدد کاروائیاں اور ایٹمی قوت کا غرور ہمیں خاموش نہیں کرسکتی بلکہ ظلم جتنی شدت سے ہوگی تحریک اسی کے مقابلے میں اسی طاقت سے ابھرے گی۔ آج بلوچوں کی تحریک تمام زوراکیوں کے باوجود جس تسلسل کے ساتھ جاری ہے اس سے دنیا واقف ہے۔
گزشتہ چوہتر سالوں سے بلوچوں کے ساتھ جو ہوا اور جو ہورہا ہے وہ سب کے سامنے عیاں ہے لیکن اس کے باجود بھی بلوچ ثابت قدمی سے منزل کی جانب رواں ہیں۔ قبضہ گیر کی وحشیانہ انسانیت سوز پالیسیاں بلوچ قومی تحریک کو روکنے اور کمزور کرنے کے لیے جس طرح کمزبستہ ہے اس میں اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ کیوں کہ جس انداز سے تحریک آگے بڑھ رہی ہے اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب یہ تحریک اپنی بلوغت کو پہنچ چکی ہے لہذایہ نظریاتی پختگی صبح نو کی نوید ہوگی۔
یہ غیر فطری ریاست بلوچ انقلابی تحریک آزادی کے مد مقابل کئی مداریوں کو ہمیشہ میدان میں لاکر سازشوں میں مصروف عمل ہوتا رہاہے جو ہنوز جاری ہے لیکن تحریک جس نہج پہ پہنچ چکی ہے اس میں یہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔
حالیہ بلوچ کی نئی جنگی حکمت عملی نے دشمن ریاست کو بوکھلاہٹ کا شکار بناکر سوچنے پر مجبور کر دیا کہ بلوچ قوم پر جتنا ظلم و جبر کیا جائے بلوچ زیادہ منظم اور مستحکم طریقے سے اپنی جنگ آزادی کو منزل کی جانب پہنچانے میں کامیاب ہوں گے۔نوشکی اور پنجگور واقعات دشمن ریاست کے چند دلدادوں ( ایجنٹوں) کیلئے ایک سبق سے کہ چند بلوچ فدائیں نے ایک ایٹمی قوت پر چار دنوں تک کاری ضرب لگاتے رہیں بلوچوں کی یہ کاروائی انہیں سوچنے پرمجبور کردیا ہوگاکہ بلوچ سے جنگ اس بزدل ایٹمی قوت کی بس کی بات نہیں آج نہیں تو کل دشمن کو ضرور شکست ہوگی۔ان کامیاب حملوں کے بعد دشمن نے اپنا غصہ عام بلوچوں پہ نکالا جو اس کا وطیرہ رہا ہے اور یوں نوشکی اور پنجگور حملوں کے بعد درجنوں بلوچوں کو چند دنوں کے اندر جبری طور پر لاپتہ کیا گیا اور سلسلہ ہنوز جاری ہے جہاں آئے روز کوئی نہ کوئی بلوچ فرزند اس جبر کانشانہ بنتا ہے۔دشمن چاہے جتنا زور لگائے لیکن بلوچ کو ان کی منزل تک پہنچنے سے روک نہیں سکتا۔ کیونکہ آج کی جدوجہد سیاسی مداریوں کے ہاتھوں سے نکل کر باشعور تعلیم یافتہ نوجوان اور نظریاتی اور انقلابی ورکروں اور لیڈروں کی رہنمائی میں انقلابی سوچ لیکر میدان عمل میں جاری و ساری ہے یہ جدوجہد اپنی منزل (آزادی) حاصل کئے بغیر ختم نہیں ہوگی۔.
تم نے ہم پہ جبری قبضہ کرکے ظلم کیا اور یہ اسی ظلم کا نتیجہ ہے کہ آج ہم ایک انقلابی معاشرے میں رہ رہے ہیں جو تمہارے زوال تک جاری رہے گا۔
٭٭٭