کوہلو , کاہان میں پاکستانی فوج گزینی بجارانی کا اپنا پرانا ڈرامہ دوبارہ شروع کرنے کے درپے ہے،نواب مہران مری

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

لند ن سے اپنے جاری کردہ بیان میں نواب مہران مری نے کہا ہے کہ بین الاقوامی حالات اور بلوچ قوم کی جہد مسلسل اور قربانیوں کی بدولت پاکستان بلوچستان میں سی پیک جیسے بلوچ کش منصوبوں اور بلوچ وسائل کے لوٹ مار کے اپنے مزموم عزائم میں بڑی حد تک ناکام ہوا۔ اب انہیں. پنجاب کے کروڑوں بھوکوں کا پیٹ بھرنے، فوجی جرنیلوں اور اشرافیہ کے شاہانہ زندگی کو برقرار رکھنے کا فکر لاحق ہورہا ہے. ان کی نظریں اب بلوچ وسائل پر ٹکی ہوئی ہیں اس تناظر میں حالیہ دنوں میں فوج نے مری علاقوں میں اپنی سرگرمیوں میں تیزی لائی ہے ۔
کوہلو اور کاہان میں اپنے آزمائے ہوئے پتلوں کو ایک بار بھر میدان اتار دیا تاکہ وہ گزینی بجارانی کا اپنا پرانا ڈرامہ دوبارہ شروع کرسکیں

ان تمام حربوں کے پیچھے ایک ہی مقصد کارفرما ہے کہ مری علاقوں میں فوج کی موجودگی کو زیادہ کی جائے جس طرح سوئی سے گیس نکال کر پنجاب کے چولہے جلائے جارہے ہیں اسی طرز پر کوہستان مری میں تیل و گیس اور دوسرے معدنی وسائل کی لوٹ مار شروع کی جائے۔

نواب مہران مری نے کہا کہ بلوچ قوم اب اتنا باشعور ہوچکے ہیں کہ وہ قبیلوں، علاقائی اور گروہی تفریق سے بالاتر ہوکر جدوجہد کررہے ہیں. فوج کو یہ زہن نشین کرلینا چاہئے کہ وہ اپنے چلے ہوئے اور ناکارہ کارتوسوں کی مدد سے لوٹ مار کے اپنے مزموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہونگے۔ عوام کے مسترد کردہ ان کٹھ پتلیوں کی بیتابی اور دوبارہ میدان میں اتارے جانے کے جنون کا یہ عالم ہے کہ اپنے آبائی علاقہ کاہان میں کھڑے ہوکر پنجاب کے کسی دیہات سے آئے ہوئے آئی جی ایف سی کا شکریہ ادا کررہے ہیں کہ انہیں یہ موقع دیا گیا۔

مہران مری نے کہا کہ دنیا پاکستان کی اصلیت سے واقف ہوچکی ہے کہ یہ ایک قوم نہیں ان کی کوئی تاریخ نہیں بلکہ ٹھگوں اور مافیا کا ایک ٹولہ ہے جنہوں نے وردیاں پہنی ہوئی ہیں جو صرف امداد اور قرضوں کے عوض کسی کی بھی خدمت گزاری سے دریغ نہیں کرتے، اپنے نئے آقا چین کی دم پر پرانے آقاوں کو آنکھیں دکھا نا شروع کیا تو ان کا امداد اور قرضے بند کردئے گئے اور نئے آقا چین میں اتنی دم نہیں کہ کروڑوں بھوکوں کا پیٹ پال سکے ان کے اپنے بھوکے تعداد میں ان سے کہیں زیادہ ہیں لہذا اب ان کی نظریں اور آخری امید یں صرف بلوچ اور دوسرے محکوم اقوام کے وسائل پر ہیں اور ہمیں معلوم کہ اس کو حاصل کرنے کے لئے وہ کسی بھی حد تک جانے سے دریغ نہیں کریں گے کیونکہ ان کے ہاں اخلاقیات اور مہذب ہونا بے معنی ہیں اور ان کے لئے کچھ بھی برا نہیں

Share This Article
Leave a Comment