نور مقدم قتل کیس میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو سزائے موت سنادی گئی

ایڈمن
ایڈمن
11 Min Read

اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے نور مقدم کے قتل کے مقدمے میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو سزائے موت جبکہ ان کے دو ملازمین جان محمد اور افتخار کو دس، دس سال قید کی سزا سُنائی ہے۔

ظاہر جعفر کے والدین ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی سمیت مقدمے میں نامزد دیگر ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد 22 فروری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جو جمعرات کی دوپہر سُنایا گیا ہے۔

فیصلہ سننے کے لیے تمام ملزمان کے علاوہ مقتولہ کے والد اور مدعی مقدمہ شوکت مقدم بھی عدالت میں موجود تھے۔

شوکت مقدم کا کہنا تھا کہ وہ ظاہر جعفر کے والدین کی بریت کے معاملے پر اپنے وکلا سے مشاورت کے بعد مستقبل کا لائحہ عمل طے کریں گے۔

اس مقدمہ قتل میں مجموعی طور پر 12 ملزمان شامل تفتیش رہے جن میں سے چار ملزمان یعنی مرکزی ملزم ظاہر جعفر، اُن کے والد ذاکر جعفر، سکیورٹی گارڈ افتخار اور مالی جان محمد زیرِ حراست رہے۔

دیگر آٹھ ملزمان کو دورانِ سماعت ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔ رہائی پانے والوں میں سے چھ ملزمان تھیراپی ورکس کے ملازمین تھے جبکہ دیگر دو میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی والدہ اور اُن کا باورچی جمیل شامل تھے۔

ملزمان پر 14 اکتوبر 2021 کو فرد جرم عائد کی گئی تھی اور مقدمے کا فیصلہ فرد جرم عائد ہونے کے لگ بھگ 17 ہفتے بعد ہوا ہے۔

عمومی طور پر پاکستانی عدالتوں میں قتل کے مقدمات کا فیصلہ اتنی جلدی نہیں ہوتا تاہم اس مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو دو ماہ میں اس مقدمے کا فیصلہ سُنانے کا حکم دیا تھا۔

مقررہ مدت تک مقدمے کا فیصلہ نہ ہونے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے پہلے مقررہ مدت میں چھ ہفتے کی توسیع کی اور جب اس دوران بھی فیصلہ نہ ہو سکا تو پھر ٹرائل کورٹ کے جج کی درخواست پر اس میں مزید چار ہفتوں کی توسیع کر دی گئی تھی۔

سنہ 2021 میں عید الاضحیٰ سے ایک روز قبل جب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں تہوار کی تیاریاں عروج پر تھیں تو اچانک ٹی وی چینلز پر شہر کے بیچوں بیچ ایک لڑکی کے قتل کی خبر نشر ہوا شروع ہوئی۔

وقت کے ساتھ اس قتل کی افسوسناک تفصیلات سامنے آنے لگیں اور دیکھتے ہی دیکھتے اس خبر نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

منگل، 20 جولائی کی شب اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کو موصول ہونے والی ایک فون کال سے لے کر سات ماہ تک جاری رہنے والی عدالتی کارروائی تک 27 سالہ نور مقدم کا قتل ملک میں خواتین کے خلاف جرائم، ان کے عدم تحفظ اور اس سے منسلک بحث کا مرکز بن گیا۔

جب پولیس اس شب ایف سیون میں موجود مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے گھر پہنچی تو ملزم موقع پر موجود تھا جبکہ نور مقدم کی موت واقع ہو چکی تھی۔

نور مقدم کے والد سابق سفارت کار شوکت مقدم کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق ‘گھر کے اندر جا کر دیکھا تو میری بیٹی کو بے دردی سے تیز دھار آلے سے قتل کر کے اس کا سر جسم سے کاٹ کر الگ کر دیا گیا تھا۔’

سر تن سے جدا کر کے قتل کرنے کی مخصوص تفصیل دل دہلا دینے والی تھی لیکن جوں جوں کیس کی تحقیقات آگے بڑھتی گئیں، نور مقدم کی موت کے حوالے سے مزید کربناک تفصیلات سامنے آتی رہیں۔

جہاں نور مقدم کے قتل کی مذمت کی جا رہی تھیں وہیں اس مقدمے کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی ایک تصویر بھی شیئر کی جا رہی تھی جس میں وہ زمین پر منھ کے بل لیٹے ہوئے تھے، ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور ان کے کپڑوں پر خون کے نشانات واضح تھے۔

اس وحشیانہ قتل کی تفصیلات وقتاً فوقتاً پولیس کی ابتدائی تفتیش کے ذریعے سامنے آنا شروع ہوئیں تو اکثر افراد کے سنگین خدشات سچ ثابت ہونے لگے۔

مقدمے کے آغاز ہی سے ایک بات تو واضح تھی اور وہ یہ کہ یہ مقدمہ جتنا عدالت میں لڑا جانا تھا، اتنی ہی بحث اس پر سوشل میڈیا پر کی جانی تھی۔

اس دوران سوشل میڈیا پر ‘جسٹس فار نور’ کا ٹرینڈ بھی چلنے لگا تھا جس میں ملک بھر سے صارفین انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن دوسری جانب مقتولہ کی کردار کشی اور انھی پر الزام تراشی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

پاکستان کے وفاقی وزرا سے لے کر وزیرِاعظم پاکستان تک ہر کسی نے نور کے قتل کی مذمت کی اور انصاف کی پاسداری کی یقین دہانی کروائی۔

عمران خان کی جانب سے اس قتل کا نوٹس بھی لیا گیا اور پولیس کو سائنسی بنیادوں پر تفتیش کرنے کا کہا گیا۔ اسلام آباد پولیس کے آئی جی کی جانب سے ایک تفتیشی ٹیم قائم کی گئی جس کا سربراہ ایس ایس پی انویسٹیگیشن عطا الرحمان کو مقرر کیا گیا۔

اس کے بعد سے اس مقدمے میں 12 ملزمان کو وقت کے ساتھ گرفتار کیا گیا جن میں ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر اور والدہ عصمت آدم جی کو نور قتل کے چند روز بعد گرفتار کیا گیا۔

اس کے علاوہ گھر پر موجود تین نوکروں کو بھی گرفتار کیا گیا۔ ان کے علاوہ تھیراپی ورکس نامی کمپنی کے مالک اور اس کمپنی سے منسلک ایک پانچ رکنی ٹیم کو گرفتار کیا گیا۔ یوں مقدمے کی متعدد گتھیاں وقت کے ساتھ سلجھتی گئیں۔

نور مقدم کیس میں ملزمان کے جسمانی ریمانڈ اور پولیس کی تحقیقات کے دوران مقدمے کے حوالے سے آئے روز نئے انکشافات سامنے آتے رہے۔

ان میں سے بلاشبہ سب سے بڑا انکشاف فرانزک لیب کی ڈی این اے رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں اس بات کی تصدیق ہوئی کے قتل سے قبل مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے مقتولہ کا ریپ کیا تھا۔

پولیس کے مطابق جب نور مقدم نے ملزم ظاہر جعفر سے شادی سے انکار کیا تو ملزم نے انھیں زبردستی کمرے میں بند کر دیا اور اپنے چوکیدار سے کہا کہ وہ کسی کو بھی گھر کے اندر نہ آنے دیں۔

اس کے بعد ملزم نے نور پر تشدد بھی کیا اور انھیں قتل کر کے اُن کا سر دھڑ سے الگ کر دیا۔

پولیس نے حادثے سے جو چاقو برآمد کیا اس پر نور مقدم کے خون کے نشان موجود تھے۔ اس کے علاوہ مقتولہ کے ناخنوں سے ظاہر جعفر کی کھال کے نمونے بھی ملے۔

پولیس کو تفتیش کے دوران جائے حادثہ سے وہ آہنی مکا بھی ملا جس پر نور مقدم کے خون کے نشانات موجود تھے۔

نور مقدم کے خون کے نمونے ظاہر جعفر کی شرٹ پر بھی پائے گئے جس کی تصدیق فرانزک رپورٹ سے ہوئی۔

پولیس چالان میں درج شواہد میں فرانزک لیب کی رپورٹس بھی شامل تھیں جبکہ 18 سے 20 جولائی کے دوران ہونے والے واقعات کے بارے میں گھر میں موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد بھی حاصل کی گئی تھی۔

ان تفصیلات سے یہ تکلیف دہ معلومات بھی سامنے آئیں کہ نور نے 19 اور 20 جولائی کو ظاہر جعفر کے گھر سے بچ نکلنے کی متعدد کوششیں کیں، تاہم وہ کامیاب نہ ہو سکیں۔

سی سی ٹی وی کی پولیس ٹرانسکرپٹ کے مطابق اٹھارہ جولائی کی رات نور مقدم ظاہر جعفر ہاؤس ایف سیون پہنچیں۔

گھر میں داخلے کے تقریباً ساڑھے چار گھنٹے کے بعد رات دو بج کر 39 منٹ پر ظاہر جعفر اور نور مقدم کو بڑے بیگ لے کر گھر کے مین گیٹ سے باہر نکلتے دیکھا گیا لیکن دو بج کر 40 منٹ پر گھر کے مین گیٹ کے باہر کھڑی ٹیکسی میں سامان رکھ کر دونوں واپس گھر میں داخل ہوتے نظر آئے۔

اس کے تھوڑی ہی دیر بعد نور مقدم بظاہر انتہائی گھبراہٹ اور خوف کی حالت میں ننگے پا?ں باہر نکلیں اور گھر کے گیٹ کی طرف بھاگیں جہاں موجود چوکیدار افتخار نے مرکزی گیٹ بند کر دیا۔

اسی دوران مرکزی ملزم ظاہر جعفر گھر سے جلدی میں گیٹ پر آیا اور نور مقدم کو دبوچ لیا۔ نور مقدم ہاتھ جوڑ کر ملزم سے منت سماجت کرتی نظر آئیں لیکن ظاہر جعفر انھیں زبردستی کھینچ کر گھر کے اندر لے گیا۔

اگلے روز، یعنی 20 جولائی کو شام سات بج کر 12 منٹ پر نور مقدم کو گھر کے پہلے فلور سے چھلانگ لگا کر گرا?نڈ فلور کی گیلری کے ساتھ لگے جنگلے پر گرتے دیکھا گیا۔

اس وقت نور مقدم کے ہاتھ میں موبائل فون موجود تھا اور وہ لڑکھڑاتی ہوئی مین گیٹ پر آئیں۔ تاہم نور مقدم گھر سے باہر جانا چاہتی ہیں لیکن گیٹ پر موجود چوکیدار افتخار اور ایک شخص جسے گھر کا مالی بیان کیا گیا ہے گیٹ بند کرتے نظر آئے۔

اسی اثنا میں ظاہر جعفر نے پہلے فلور کے ٹیرس سے چھلانگ لگائی اور دوڑ کر گیٹ سے نور مقدم کو پکڑا اور نزدیکی کیبن میں بند کر دیا۔ اس کے بعد ظاہر جعفر کو کیبن کا دروازہ کھول کر پہلے موبائل فون چھینتے ہوئے اور پھر نور مقدم کو زبردستی کیبن سے نکال کر گھر کے اندر گھسیٹتے ہوئے دیکھا گیا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment