یوکرین پر روسی حملے کے بعد مارشل لا نافذ، شہریوں کا انخلا شروع

ایڈمن
ایڈمن
8 Min Read

یوکرین پر روسی حملے کے بعدیوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے یوکرین میں مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے یہ بات ٹیلی گرام پر ایک ویڈیو خطاب میں کہی۔

انھوں نے کہا کہ ’روس نے ہماری سرحدی چوکیوں اور فوجی تنصیبات پر حملے شروع کر دیے ہیں جبکہ یوکرین کے متعدد شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

’ہم یوکرین میں مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کر رہے ہیں، اب سے کچھ دیر قبل میری صدر بائیڈن سے بھی بات ہوئی ہے۔ امریکہ نے بین الاقوامی حمایت مجتمع کرنا شروع کر دی ہے۔‘

ولادیمیر پوتن کی جانب سے یوکرین میں فوجی آپریشن کا اعلان کیا گیا تو اس سے کچھ ہی لمحوں بعد اطلاعات کے مطابق یوکرین پر میزائل حملے اور شیلنگ شروع کر دی گئی۔

یوکرین کے دارالحکومت کیؤ میں ہنگامی صورتحال کی نشاندہی کرتے سائرن سنائی دینے لگے اور اس دوران ایسی تصاویر بھی سامنے آ رہی ہیں جس میں ایکسپریس وے پر گاڑیوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور لوگ شہر چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے پوسٹس سے بڑھتے خوف و ہراس کا پتا چلتا ہے۔ کچھ افراد یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ انھیں محفوظ پناہ گاہوں اور تہہ خانوں میں لے جایا جا رہا ہے۔

ٹیلی ویژن فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ سڑکوں پر دعائیں مانگ رہے ہیں اور گروہوں کی شکل میں اکھٹے ہیں۔

اخبار گارڈیئن کے صحافی لیوک ہارڈنگ جو اس وقت کیؤ میں موجود ہیں نے ٹویٹ کیا کہ سڑکوں پر کم کم لوگ موجود ہیں لیکن اے ٹی ایمز پر خاصا رش دیکھنے میں آ رہا ہے۔

یوکرین کے وزیرِخارجہ دیمترو کلیبا نے روسی حملے کے جواب میں عالمی برادری سے چند فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یورپ اور دنیا کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔‘

کلیبا نے مالیاتی لین دین کے نظام سمیت روس پر فوری اور سنگین پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دنیا کو چاہیے کہ روس کو مکمل طور پر تنہا کر دیں اور یوکرین کو ہتھیاروں سمیت مالی اور انسانی امداد فراہم کریں۔

متعدد خبر رساں ایجنسیاں یوکرینی حکام کے حوالے سے یہ لکھ رہی ہیں کہ بیلاروس کی فوجیں بھی روسی حملے میں ان کا ساتھ دے رہی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ یوکرین کے شمالی علاقوں پر بھی حملہ کیا جا رہا ہے۔

بیلاروس یوکرین کی شمالی سرحد پر واقع ہے اور ایک طویل عرصے سے روس کا اتحادی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ چھوٹا سا ملک دراصل روس کی ’کلائینٹ سٹیٹ‘ ہے۔

روس کی جانب سے یوکرین کے مشرقی علاقوں پر حملے پہلے ہی جاری ہیں اور شمال سے ہونے والے حملے کارروائی کی شدت میں اضافہ کر رہے ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے انھوں نے اپنے یوکرینی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی سے بات کی ہے اور انھیں بین الاقوامی برادری کی جانب سے روس کی مذمت اور آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔

ایک بیان میں بائیڈن کا کہنا ہے کہ وہ روس کے ’بلا اشتعال اور بلا جواز‘ حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔

بائیڈن کا مزید کہنا ہے کہ ’زیلینسکی نے مجھ سے دنیا کے رہنماؤں سے روسی جارحیت کی کھل کر مذمت کرنے اور یوکرین کے عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے کہا ہے۔‘

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ وہ جمعرات کو جی سیون ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے اور ’امریکہ اور اتحادی ممالک روس پر سخت پابندیاں عائد کریں گے۔‘

بائیڈن کا مزید کہنا ہے کہ ہم یوکرین اور ان کے لوگوں کی حمایت اور مدد جاری رکھیں گے۔

یوکرین کی ایئر ٹریفک ایجنسی کی جانب سے مسافر پروازوں کے لیے پوکرین کی فضائی حدود کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایجنسی کی جانب سے اپنی ویب سائٹ پر کہا گیا ہے کہ ’یوکرین کی فضائی حدود استعمال کرنے والوں کے لیے یہ سروسز معطل کی جا رہی ہیں۔‘

خیال رہے کہ یوکرین میں متعدد شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں اور یوکرینی صدر نے روس کی جانب سے میزائل حملوں کی تصدیق کی ہے۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق یوکرین کے صدر زیلینسکی نے ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ روس کی جانب سے یوکرین پر میزائل حملے کیے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’روس نے یوکرینی تنصیبات اور سرحدی محافظوں پر میزائل حملے کیے ہیں۔

یوکرین کے وزیرِ داخلہ کے مشیر اینٹون ہیراشینکو نے اس سے قبل کئیو، خارکیو اور ڈنیپرو میں فوجی ہیڈکوارٹرز اور ایئرفیلڈز پر میزائل حملوں کی تصدیق کی تھی۔

انھوں نے فیس بک پر کی گئی ایک پوسٹ میں کہا کہ متعدد سرحدی پوسٹس پر شیلنگ اور حملے کیے گئے ہیں۔ حملے کا آغاز ہو چکا ہے۔ فوجی کمانڈ مراکز، ایئرفیلڈز اور فوجی گوداموں پر میزائل حملے کیے گئے ہیں۔‘

تاہم دوسری طرف روس کی وزارت دفاع نے یوکرین کے شہروں پر حملے کی تردید کی ہے۔

روس کی سرکاری ایجنسی آر آئی اے نے وزراتِ دفاع کے حوالے سے کہا ہے کہ روس یوکرین کی فوجی تنصیبات اور فضائیہ (ائیر ڈیفنس اور ائیر فورسز) کو جنگی ہتھیاروں سے نشانہ بنا رہا ہے۔

یوکرین میں ’فوجی آپریشن‘ کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔ قیمتوں میں اتنا اضافہ سات برس میں پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملا ہے۔

اس خبر سے ایشیا میں سٹاک مارکیٹوں میں دو سے تین فیصد مندی دیکھنے میں آئی ہے۔ مارکیٹوں میں یہ مندی گذشتہ کئی روز سے دیکھنے میں آ رہی ہے۔

کچھ روز قبل تیل کی فی بیرل قیمت 98 ڈالر تک پہنچ گئی تھی، جب صدر پوتن نے امن معاہدے کا خاتمہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور روسی نواز باغیوں کے زیرِ کنٹرول مشرقی یوکرین کے خطوں میں اپنی فوجیں داخل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اندازوں کے مطابق یوکرین کی سرحد کے نزدیک موجود روسی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ سے ایک لاکھ 90 ہزار کے درمیان ہے۔

اطلاعات کے مطابق یوکرین کی سرحد کے قریب موجود افواج کو ایسی تمام سہولیات مہیا کر دی گئی ہیں جو حملے کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ ان سہولیات میں فیلڈ ہسپتال، مرمتی ورکشاپس، اور کیچٹر ہٹانے والا ساز و سامان پہنچا دیا گیا ہے۔

روس کے مختلف حصوں سے آنے والے 35 ہزار فوجیوں کو مستقل طور پر یوکرین کی سرحد کے قریب تعینات کر دیا گیا ہے۔ ان میں کچھ فوجی یونٹ چھ ہزار کلومیٹر دور مشرقی روس سے یہاں پہنچے ہیں۔

بھاری جنگی ساز و سامان کو ریل کے ذریعے یہاں پہنچایا گیا ہے۔ کچھ گاڑیاں کراشیف اور بارنسک علاقوں سے ہوتے ہوئے یوکرین کی سرحد کے قریب پہنچی ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment