بلوچستان حق دو تحریک کی جانب سے جمعہ کے روزضلع گوادر کے ساحلی شہر پسنی میں ماہی گیروں نے ایک جرگہ کا انعقاد کیا جس میں ماہی گیروں کی ایک بڑی تعداد شریک رہی ہے۔
جرگہ سے ماہی گیروں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اب وہ کسی بھی صورت پسنی کے سمندر میں گٹ(سرکل) کے زریعے مچھلی کا شکار نہیں کرینگے اور نہ ہی کسی دوسرے ماہی گیر کو سرکل کے زریعے مچھلی شکار کرنے کی اجازت دینگے۔
اس موقع پر بزرگ سیاسی رہنما حسین واڈیلہ نے ماہی گیروں کے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حق دو تحریک کی وجہ سے بلوچستان کے پسے ہوئے طبقے کی زبان پر پہلے جو تالا بندی تھی اب اُس میں آواز پیدا ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیک پوسٹ اور ٹرالر مافیا کے خلاف حق دو تحریک شروع دن سے جدوجہد کررہی ہے اور اس جدوجہد کی بدولت آج بلوچ عوام اپنے دوست دشمن کی پہچان کرچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب ماہی گیروں کا استحصال کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے۔
انہوں نے کہا گوادر سے ایک ٹرالر فرار ہوگیا حق دو تحریک نے جب آواز اُٹھائی پریس کانفرنس کی تو سب ادارے حرکت میں آگئے اور بلآخر مفرور ٹرالر کو دھر لیا گیا لیکن کچھ نام نہاد تنظیم اِس کو بھی اپنی کارکردگی قرار دے رہے ہیں۔
جرگہ سے حق دو تحریک بلوچستان کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکلنگ (گٹ) کے شکار پر پابندی حکومت بلوچستان نے عائد کردی ہے اور ہم اس فیصلے کی بھر پور حمایت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کچھ مقامی بیوپاری کہہ رہے ہیں کہ اگر سرکل کے زریعے مچھلی کی شکار پر پابندی عائد کردی گئی تو وہ احتجاج کرینگے،مچھلی کی خرید بند کردینگے اگر مقامی بیوپاریوں نے احتجاجاً ماہیگیروں کی مچھلیوں کو لینے سے انکار کر دیا تو حق دو تحریک ماہی گیروں کے مچھلیوں کو بین الصوبائی منڈی کراچی تک پہنچانے کا انتظام خود کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم لسانی تعصب اور غیر مقامی ماہی گیروں کو نکالنا نہیں چاہتے اور نہ ہی مقامی ماہی گیروں نے کھبی کہا کہ سندھی ماہی گیر پسنی چھوڑ کر چلے جائیں پسنی کے ماہی گیروں کا بس ایک ہی مطالبہ ہے کہ مقامی سیٹھ اپنی کشتیوں کے ناخدا صرف مقامی افراد کو رکھیں۔
انہوں نے کہا شکار کے لئے قانون سازی اب مقامی ماہیگیر کریں گے جبکہ کشتیوں کے ناخدا لوکل ماہیگیر ہی ہوں گے اور وہ اپنے ساتھ چار غیر مقامی خلاصی شکار کے لئے لے جا سکتے ہیں۔
مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کہا کہ سرکلنگ (گٹ) شکار جو فشریز آرڈیننس میں غیر قانونی ہے اگر اس پر پابندی عائد ہوگی تو سمندر آباد ہو جائے گا اس سلسلے پورے ساحل بلوچستان کے ماہی گیروں کو جمع کرکے قانون سازی کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر گٹ پر پابندی عائد کرنے پر لیت و لعل سے کام لیا گیا تو انتظامیہ کے دفاتر کا گھیراؤ کرینگے اور انکی مشینری کو جام کریں گے انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اور محکمہ فشریز گٹ کے شکار پر پابندی کے قانون پر عمل درآمد کریں اور اس متعلق ایکشن نہیں لیا گیا تو تمام تر ذمہ داری محکمہ فشریز اور انتظامیہ پر ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے سمندر میں ایک غیر قانونی ٹرالر کی موجودگی تک احتجاج جاری رہے گی اور ماہیگیروں کو صبر و تحمل سے کام لینا ہوگا۔
انہوں نے کہا بیوپاریوں کے سرمایہ دارانہ نظام نے ماہی گیروں کو پشت در پشت مقروض بنا دیا ہے ہماری کوشش ہے کہ قانون سازی کرکے ماہی گیروں کو اِن قرضوں سے آزاد کرائیں تاکہ مظلوم ماہیگیر سرمایہ داروں کے قرضوں سے چھٹکارا حاصل کرلیں۔
انہوں نے کہا سمندر ہمارا مستقبل ہے بلوچ کے سمندر کی حفاظت کرنا ہم سب پر فرض ہے اور ہم اس سمندر کی ہر حال میں حفاظت کرینگے۔
انہوں نے کہا سمندر آباد ہوگا تو ہماری پوری نسل آباد ہوگی بلوچستان کے ماہی گیر اٹھارہ سالوں سے جدوجہد کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا گٹ (سرکل) بند ہوجانے سے وقتی طور پر پریشانی ضرور ہوگی لیکن اس کے فائدے ہمارے بچوں کو ضرور ملینگے ہمارے بچے خوشحال۔ہونگے۔
انہوں نے کہا کہ حق دو تحریک بلوچستان بہت جلد ڈام سے لیکر جیونی تک ماہی گیروں کا جرگہ بھلارہی ہے اور اس جرگے میں ماہی گیر اپنے بچوں کے مسقبل کا فیصلہ کرینگے۔
انہوں نے کہا پسنی کے ماہی گیروں نے گٹ سرکل کو بند کردیا ہے لیکن کچھ بیوپاری کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق سرکلنگ کے زریعے مچھلی کا شکار کرینگے لیکن ہم انتظامیہ کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ اگر ان لوگوں نے مقامی ماہی گیروں کے فیصلے پر عمل نہیں کیا تو اور اپنی طاقت کے بل بوتے پر سرکل کے زریعے شکار کی اگر ان لوگوں نے ایسا کیا تو حق دو تحریک مقامی ماہی گیروں کے ساتھ مل کر محکمہ فشریز اور ضلعی انتظامیہ اور مقامی انتظامیہ کے آفس کا گھیراؤ کریگی۔
انہوں نے کہا کہ تحصیل پسنی کے دیہی علاقوِں میں منشیات سر عام فروخت ہو رہی ہے اس سلسلے ہم پولیس کو متنبہ کرتے ہیں کہ تدارک کے لیے اقدامات کرے وگرنہ ہمارا اگلا دھرنا پولیس اسٹیشن کے سامنے ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ معدنی دولت سے مالامال صوبہ میں جو سونے کے ذخائر موجود ہیں حکمران انھیں بیچ رہے ہیں جنکی سودا بازی کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
جرگہ میں ماہی گیروں نے حق دو تحریک بلوچستان کا ساتھ دینے کا عہد بھی کیا جبکہ اس موقع پر نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے نعرے بھی لگائے گئے۔