ہمارا معاشره | قاضی عبدالله بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

یہ تو اقـرار خـدا هے کہ شـرابی ،، بنده
تجهـکو زُم زُم سے نهائیں تو گناه بولے گی

نہایت آداب کے ساتهـ سلام

حال کی کہانی کا مصنّف اگر تیری اپنی آب بیتی کو فلم بنا کر سینما میں نمائش کے لیے پیش کرے تو آپ کے ساتهـ ساتھ سبهی فنکاروں کو لوگ پہلے سے جانتے ہوں گے، لیکن مجهکو آپ جیسے هیرو کا ایکشن بہت تڑپاتا ہے کہ قاتل ہو کر جسٹس جیسے فیصلے سُنانا اور مظلوم کی حالت زار پر افسوس کرنے کو اپنی ذہانت سمجهنا اور لوگ بیوقوب هو کر آپ کو عدل کا بانی کہیں گے یا آپ کے سیاه کرتوت آپکو بیوقوف بنا چکے ہیں، کیونکہ ایک ماں باپ کی اولاد ہو کے پانچ بهائیوں میں سے چار چهوٹے بهائی اپنے موقّف کی وجہ سے کسی کے دوست اور کسی دوسرے کو دشمن جیسا نظر آتے ہیں ، جبکہ سب سے بڑا اگر معزّزین شہر میں شمار کیا جائے اور وه اپنے کردار اور گُفتار کو ایک حکم الہی کے تحت یکساں ظاهر کرے تو سوچنا پڑے گا کہ اگر معاشرے میں ایک ایسا کردار رواج پائے تو پانچوں بهائیوں میں سے بڑا مُتّقی کو باطِل اور دیگر چهوٹوں کو عہد کا سچ اور حقّ کا علمبردار قرار دیا جائیگا۔

مُجهـ جیسے لوگ حقّ و باطل کے راستے کا تعیّن نہیں کر سکتے مگر صورتحال کی سنگینی کا جائزہ ضرور لے سکتے ہیں۔

قید میں ہوں تو ہم ہر آنے والے سورج کے طلوع ہونے کو ایمان بنا لیں، سُلطان تیمور اور چیونٹی کی کہانی کو پڑهکر اسے حقیقت تسلیم کر لیں تو یقینا ماضی کی طرح باطِل کا نام مِٹ جائے اور حق کا طوطا بولے گا، لیکن ازحد ضروری ہے کہ بقول اقبال ایسا نہ هو کہ ،
.گُفتار کا غازی بن تو سکا، کردار کے غازی بن نہ سکے

مگر اپنے حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے والوں سے الله پاک نے وعده کیا ہے کہ آخری فتح حقّ کی ہی ہوگی۔ تو ہم معاشرے میں ذاتی تعلقات اور رنجشوں کو بالائے طاق کر گہرائی سے موازنہ کریں تو مقصد کے حصول میں مشکالات کا خاتمہ ممکن ہوگا۔

اسی طرح یہ سوچ وقت کے ساتھ ساتھ پروان چڑهتا جائے گا تو معاشره خود بخود آپ کے لیے راہ ہموار کرتی جائے گی اور جس سے فیصلے حقائق کے دائرے میں ہوتے رہیں گے یوں ایسے معاشرے میں حق کی گود میں پلنے والا کبهی بهی باطل کو اپنا سرپرست نہیں مانتا اور اگر حقیقتا ہم ایسے معاشرے کی تشکیل میں شانہ بشانہ رہیں سب سے پہلے مقصد کا بول بالا ہوگا۔

اس حوالے سے مذہب اور انسانیت ہمیں یہ درس دیتی ہیں کہ حق کی خاطر ہر مشکل کا مقابلہ تو کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔ لہذا حق اور حقوق کی راہ سے اس قدر منکر نہ ہونا کہ پھر کفارہ بھی ادا کرنا نا ممکن ہو۔

٭٭٭

Share This Article
Leave a Comment