پسنی دھرنا جاری: ایرانی گیس کو سستا نہیں کیا گیا توترسیل روک دیاجائیگا، ہدایت الرحمان

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے ساحلی شہرپسنی میں جاری دھرنے سے حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بارڈر کھلنے سے عام آدمی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے۔

انہوں نے کہا ایرانی بارڈر سے ہرقسم کی اشیاء آرہا ہے لیکن اس کے باوجود عام لوگوں کو فائدہ نہیں پہنچ رہاہے۔

انہوں نے کہا ایرانی بارڈر سے وابستہ بیوپاریوں نے لوگوں کو ریلیف نہیں دیا تو حق دو تحریک ضلعی انتظامیہ سے کہے گی کہ وہ بیرون صوبہ صرف 10کاٹن ایرانی روغن لے جانے کی اجازت دے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اتنی بڑی جدوجہد کر رہے ہیں لیکن ایرانی روغن گوادر سے زیادہ کراچی میں سستا ہے عوام کو کوئی بھی ریلیف نہیں مل رہا اُس تحریک کے چلانے کا کیا فائدہ جس میں کارکن قربانی دیں اور عوام کو کوئی فائدہ نہ ہو۔

مولانا ہدایت الرحمان نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ پرائس کنٹرول کا میٹنگ بلا کر ایرانی اشیاء خوردنوش کے مناسب نرخ مقرر کرے تاکہ یہ تمام اشیاء لوگوں کو سستا مل سکیں۔

انہوں نے کہا ایرانی بارڈر ہم سے نزدیک ہے اور یہ ضلع گوادر کے عوام کا حق ہے کہ اُنھیں ایرانی اشیاء سستا ملے۔

انہوں نے کہا 250 بارڈر سے سینکڑوں ٹرک گیس سے لوڈ ہوکر بین الصوبہ منتقل ہورہے ہیں مگر گوادر کے عوام کو اسی گیس کی قیمتوں میں ریلیف نہیں مل رہی،یہ ہر گز مناسب نہیں کہ بارڈر سے گیس 13 روپے خرید کر گوادر کے عوام کو 230 روپے میں فروخت کریں۔

مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ جیونی سے لیکر اورماڑہ تک ماہی گیر اپنے لائسنس فیس تب تک جمع نہ کریں جب تک لائسنس فیسوں میں کمی کے حوالے نیا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ضلع گوادر کے بارڈر 250 پر کافی تعداد میں گیس ودیگر خورد و نوش کے سامان کا کاروبار ہو رہا ہے مگر اس کے باوجود ضلع گوادر کے عوام کو ان سے کوئی فائدہ نہیں مل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بارڈر پر 13 روپے میں فروخت ہونے والا گیس گوادر کے عوام کو 230 روپے میں بیچا جارہا ہے جو گوادر کے عوام کے ساتھ سراسر ظلم اور نا انصافی کے مترادف ہے۔ ضلعی انتظامیہ فوری طور پر گوادر کے عوام کے لیئے گیس کی قیمتوں میں مناسب ریٹ مختص کرے ورنہ ہم ایرانی گیس کو بین الصوبہ منتقل ہونے نہیں دینگے۔

انہوں نے کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں ایرانی بارڈر سے گیس کے ٹینکر بین الصوبہ منتقل ہورہے ہیں مگر گوادر سے متصل بارڈر کے عوام کو کسی بھی قسم کی ریلیف نہیں دی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پسنی میں ہر ایک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ یہاں روزگار کرے مگر ایک ضابطہ کے مطابق روزگار کرے،یہاں ضابطہ وہ ہونی چاہیے جو مقامی ماہیگیر طے کرینگے۔

انہوں نے کہا کہ پسنی جیٹی پر جاری دھرنے کو اسسٹنٹ کمشنر پسنی کے آفس کے سامنے لگا رہے ہیں کارکنان تیاری کرلیں بدھ کے روز سے دھرنا اسسٹنٹ کمشنر پسنی کے آفس کے سامنے لگایا جائے گا۔ اگر پھر بھی ماہی گیروں کے جائز مطالبات کو نہیں مانا گیا تو اس دھرنا کو دوبارہ مکران کوسٹل ہائی وے تک لے جائینگے۔

Share This Article
Leave a Comment