سروں کی ملکہ معروف بھارتی گلوکارہ لتا منگیشکر مختصر علالت کے بعد92 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔
بھارتی نشریاتی ادارے انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق لتا منگیشکر گزشتہ چند ہفتوں سے انتہائی نگہداشت یونٹ میں زیر علاج تھیں، جہاں کچھ بہتری کے آثار ظاہر ہونے کے بعد دوبارہ ان کی صحت بگڑ گئی تھی۔
لتا منگیشکر گزشتہ ماہ 8 جنوری کو کورونا کا شکار ہوئی تھیں اور انہیں ’نمونیا‘ بخار بھی تھا اور وہ تب سے اب تک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
تقریبا 20 دن تک انہیں انتہائی تشویش ناک حالت میں انتائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) میں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا مگر گزشتہ ہفتے ان کی صحت میں بہتری کے بعد انہیں وینٹی لیٹر سے ہٹاکر آکسیجن پر رکھا گیا تھا۔
ایک روز قبل ان کی صحت بگڑنے پر انہیں وینٹیلیٹر پر منتقل کردیا گیا تھا۔
سال 2019 میں بھی لتا منگیشکر ایک ماہ تک سانس میں تکلیف کے باعث ہسپتال میں زیر علاج رہی تھیں، ابھی بھی ڈاکٹرز نے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ ضعیف العمری کی وجہ سے انہیں کئی دن تک ہسپتال میں رکھا جا سکتا ہے۔
لتا منگیشکر کو بھارت کی ہر دور کی مقبول گلوکارہ مانا جاتا ہے، وہ پاکستان کے علاوہ دیگر جنوبی ایشیائی ممالک میں بھی یکساں مقبول رہیں۔
ریاست مدھیا پردیش کے شہر اندور میں 28 ستمبر 1929 کو پیدا ہونے والی لتا منگیشکر اپنے 5 بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں۔
انہوں نے سنہ 1942 میں اپنے والد کی وفت کے بعد 13 برس کی عمر میں گائیکی کا آغاز کیا اور بھارت میں بولی جانے والی متعدد زبانوں میں تقریباً 30 ہزار گانے گائے۔
انہوں نے کبھی شادی نہیں کی اور ان کی چھوٹی بہن آشا بھوسلے بھی ایک مشہور گلوکارہ ہیں۔
لتا منگیشکر کو بھارت کے سب سے بڑے سول ایوارڈز بھارت رتنا، پدما ویبھوشن اور پدما بھوش کے علاوہ دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا جاچکا ہے۔
ان کی موت پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ ان کے جانے سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پُر نہیں ہوسکتا۔