اروندھتی رائے کا احتجاجاً برلن فلم فیسٹیول میں شرکت سے انکار

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بھارت کی معروف ادیب اور بُکر پرائز یافتہ مصنفہ اور ناول نگار اروندھتی رائے نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ وہ برلن فلم فیسٹیول سے دستبردار ہو رہی ہیں۔

انہوں نے فیسٹیول کی جیوری کے سربراہ اور معروف جرمن فلم ساز وِم وینڈرز کے اس بیان کے بعد کہ ”فلم سازوں کو سیاسی فلموں سے اجتناب برتنا چاہیے‘‘، یہ اعلان کیا۔

اروندھتی رائے نے، جنہیں 1997 میں اپنی شہرۂ آفاق ناول ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگز‘‘ پر بکر پرائز ملا تھا، ایک بیان میں کہا کہ وہ امسالہ ’’حیران اور ناراض‘‘ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فن کو سیاست سے الگ رکھنے کی بات تخلیقی آزادی کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔

اروندھتی رائے نے جیوری چیئرمین جرمن ہدایت کار وم وینڈرز (Wim Wenders) کے غزہ سے متعلق بیان کی مذمت کی اور کہا کہ ایسے بیانات انسانیت کے خلاف جرم پر گفتگو کو روکنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آنکھوں کے سامنے ہونے والے جرائم کو روکنے کے لیے فنکاروں، ادیبوں اور فلم سازوں کو پوری کوشش کرنی چاہیے، اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کا ذمےدار ہے، امریکا، جرمنی اور دیگر ممالک کی حمایت انہیں جنگ میں شریک بناتی ہے۔

واضح رہے وم وینڈرز نےاسرائیل کے لیے جرمن حمایت کے سوال پرکہا تھا کہ فلم سازوں کو سیاست سے دور رہنا چاہیے، اگر وہ سیاسی فلمیں بنائیں گے تو سیاست کے میدان میں داخل ہو جائیں گے۔

Share This Article