بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی میں بلوچستان حق دو تحریک کا دھرنا تیسرے روزسے جاری ہے۔ دھرنا کے شرکاء سے قائد حق دو تحریک مولانا ہدایت الرحمٰن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے ہر جائز حقوق کے لیئے میدان میں عملی جدو جہد کریں، اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے کیخلاف احتجاج کریں، دھرنا دیں اور ریلی نکالیں جس کی اجازت ہمیں آئین پاکستان بھی دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 1973 کی آئین کے مطابق آئینی طور پر اپنے حقوق کی خاطر احتجاج کرنا ہمارا حق ہے، آئین پاکستان کے تحت حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے عوام کو انکی انسانی ذرائع کے حقوق انکی دہلیز تک پہچا کر اپنی اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس دھرنے میں ہمارا اہم مطالبہ یہ ہے کہ بلوچستان کے سمندر کو غیر قانونی ٹرالر سے طور پر صفایا کریں، اور ہم اس دھرنے حکومت بلوچستان کو واضع کرنا چاہتے ہیں کہ اگر ماہیگیروں کے استحصال کے کرنا بند کریں، بلوچستان کے سمندر میں اگر ایک بھی ٹرالر دیکھا گیا تو ہمارا احتجاج و دھرنے جاری رہینگے۔
انہوں بے کہا کہ ہمارا دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ پسنی میں مقامی بیوپاری جو کمیشن و غیر مقامی ماہیگیروں کو ان پر مسلط کرکے ماہیگیروں کا استحصال کررہے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ مقامی ماہیگیروں کے بنائے گئے ضابطہ کے مطابق یہاں ماہیگیری کریں اور مقامی ماہیگیر محنت کرکے سمندر کے لہروں کا سینہ چیر کر جو مچلیاں مقامی منڈی تک پہنچاتے ہیں تو ان کا جائز ریٹ بھی مقامی بیوپاری اور سیٹھ نہیں بلکہ مقامی ماہیگیر ہی طے کریبنگے. انہوں نے کہا کہ ماہیگیروں پر کمیشن کے نام سے انکی معاشی استحصال کی جارہی ہے، مقامی ماہیگیر ماہیگیر سمندر میں محنت کرکے زلیل و خوار ہے جسکا حصہ دو ہزار ہے اور دوسری جانب وہ کمیشن خور اپنے گھر میں سکون سے سوکر بغیر محنت کے کمیشن کے نام سے یہ پیسہ اپنے جیب میں رکھتا ہے جو سراسر ظلم کے مترادف ہے. انہوں نے کہا کہ مقامی ماہیگیر اپنے جائز مطالبات کے لیئے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں اور دوسری جانب نقامی بیوپاری جان بوجھ کر غیر مقامی ماہیگیروں کو سمندر بھیج رہے ہیں، اگر ہمارے۔طالبات تسلیم نہ کیئے گئے تو سمندر کی مین انٹری پوائنٹ پر دھرنے کا وسعت بڑھائینگے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا مطالبہ ہیکہ پسنی کی جیٹی کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔
ایک ارب چودہ لاکھ کی رقم جو پسنی جیٹی کی بحالی کے لیئے مختص ہے بلوچستان حکومت ماہیگیروں کی مشکلات آسان کرنے کے بجائے ماہیگیروں کی مشکلات میں آسانی لاکر جیٹی کو بحال کرے انہوں نے اسی رقم کو ڈیپازٹ فکس رکھ میں رکھ کر اس پر اضافی سود کھارہے ہیں مگر جیٹی کی بحالی میں کسی بھی قسم کی خاطر خواہ اقدام نہیں کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہیکہ پسنی میں اس وقت جتنے بھی ڈاکٹر تعینات ہیں جو پسنی ہسپتال میں تعیناتی کے تنخواہ اْٹھارہے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنے تعیناتی جگہ ڈیوٹی دیکر لوگوں کو علاج و معالجے کے حوالے فوری خدمات سر انجام دیں، انہوں نے کہا کہ اس وقت پسنی کی اتنی بڑی آبادی کے لیئے صر دو ڈاکٹر اپنے خدمات چوبیس گھنٹے سرانجام دے رہے ہیں جو کہ اس وقت پسنی میں اس سے زائد ڈاکٹروں کی ضرورت ہے، فوری طور پر آٹھ کے قریب ڈاکٹروں کی تعیناتی کو پسنی شہر میں یقینی بنایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ بتایا جاتا ہیکہ پسنی آر ایچ سی اسپتال میں صرف ایک تھرمامیٹر رکھا گیا ہے جسے ایک ڈاکٹر فارغ کرکے دوسرے ڈاکٹر تک منتقل کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی ہمارا مطالبہ ہیکہ پسنی میں کہیں آبادیاں ہیں جہاں لوگ اپنے گھروں میں سالوں سے رہائش پزیر ییں باوجودکہ انہیں سرکاری قرار دینا یہاں کے مقامی لوگوں پر ظلم کے مترادف ہے، انہوں نے کہا کہ فوری طور پر ان کے اراضیات انہی کے نام منتقل کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر دو سے تین دن کے اندر ہمارے مطالبات پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو اپنے احتجاجی دھرنے کو ایک بار پھر غیر مبیعنہ مدت کے لیئے پسنی زیرو پوائنٹ منتقل کرینگے، حکومت کے لیئے دوسرا کوئی آپشن نہیں ما سوائے یہ کہ ہمارے مطالبات فوری کرکے ان پر عملدرآمد کریں۔ انہوں نے مزید اپنے مطالبات میں کہا کہ اورماڑہ اور پسنی کو ملا کر ضلع کا درجہ دیا جائے، زرین ہاؤسنگ اسکیم میں پسنی کے عوام دے لاکھوں روپے بٹورے گئے مگر اب تک انہیں زمین الاٹ نہیں کیا ہے،، زرین ہاؤسنگ اسکیم کے الاٹیز کو ان پلاٹ الاٹ کریں یا بصورت دیگر ان کے معاوضات ادا کریں۔انہوں انجمن تاجران سے اپیل کی کہ ماہیگیروں کے مطالبات کی حق میں کل پسنی میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کااعلان کریں۔
دریں اثنا اسسٹنٹ کمشنر پسنی محمد جان بلوچ نے کہا کہ پسنی دھرنا میں مولانا ہدایت الرحمان نے چھ ڈیمانڈ پیش کیے ہیں جس پر انتظامیہ کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا ہماری کوشش ہے کہ تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل ہوں اور کسی بھی طرح کا ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔
انہوں نے کہا کہ مقامی ماہی گیروں کا ڈیمانڈ ہے کہ لانچوں کے ناخدا سو فیصد مقامی ہوں انہوں نے کہا کہ ماہی گیروں کا ڈیمانڈ یہ بھی ہے کہ مقامی کمپنیوں میں مقامی لوگوں کو اکثریتی بنیاد پر روزگار دیا جائے اور فشرمین ویلفئیرسوسائٹی کے صدر کو تبدیل کیا جائے جن پر کام ہورہا ہے۔
دریں اثناء حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ انتظامیہ کے ساتھ تین دن سے بات چیت جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماہی گیروں کے مطالبات آئینی اور قانونی ہیں جبکہ مقامی بیوپاری اْن کی بات ماننے کو تیار نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ غیرمقامی مزدوروں پر کوئی پابندی نہیں ہے مقامی ماہی گیروں کا مطالبہ یہ ہے کہ لانچوں کے ناخدا مقامی ہوں اور سمندر میں شکار کے وقت کا تعین بھی مقامی ماہی گیر کرینگے انہوں نے کہا کہ کمیشن مافیا مقامی گیروں کے ساتھ زیادتی کررہے ہیں اور مچھلی کے بیوپاری مقامی ماہی گیروں کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں اس کا نقصان خود انہی سیٹھ لوگوں کو ہوگا۔