شام: کردوں کے زیر کنٹرول جیل پرداعش کا حملہ و جھڑپ میں ہلاکتوں کی تعداد 330 ہوگئی

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

شمال مشرقی شام میں داعش کے شدت پسندوں کے جیل پر حملے کے بعد شدید لڑائی میں 330 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تاہم مقامی کرد فورسز نے جیل کا کنٹرول دوبارہ سنبھال لیا ہے۔

داعش کے شدت پسندوں نے 20 جنوری کو کردوں کے زیر کنٹرول شہر ہساکے میں واقع غویران جیل پر برسوں بعد اپنا سب سے بڑا حملہ کیا جہاں اس حملے کا مقصد ساتھیوں کو رہا کرانا تھا اور اس مقصد کے تحت اتوار کو بھی درجنوں عسکریت پسند اندر چھپے رہے۔

شام میں انسانی حقوق کی نگراں تنظیم نے کہا کہ اس کے بعد سے شدید جھڑپوں میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 332 ہو گئی کیونکہ امریکی حمایت یافتہ شامی ڈیموکریٹک فورسز کو جیل کی عمارتوں اور قریبی علاقوں سے راتوں رات مزید 50 لاشیں ملیں۔

شام میں اندرونی ذرائع پر انحصار کرنے والے برطانوی گروپ نے کہا کہ اب تک داعش کے حملے اور لڑائیوں میں 246 شدت پسند، 79 کرد جنگجو اور سات شہری مارے جا چکے ہیں۔

آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن نے اے ایف پی کو بتایا کہ نئی لاشیں جیل کے اندر اور باہر دونوں سے ملیں۔

انہوں نے کہا کہ مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافے کا امکان ہے کیونکہ درجنوں افراد زخمی ہیں جبکہ بڑی تعداد میں افراد لاپتا بھی ہیں۔

ادھر شام کی ڈیموکریٹک فورس نے اعلان کیا کہ انہوں نے بدھ کو جیل پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا لیکن جیل کے قریب کرد جنگجوؤں اور شدت پسندوں کے درمیان ہفتہ تک وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری رہیں۔

ہفتے کے روز اے ایف پی کے ایک نمائندے نے ایک ٹرک کو جیل کے قریب لاشوں کے ڈھیروں کو لے جاتے ہوئے دیکھا جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ داعش کے شدت پسندوں کی تھیں، ایک بلڈوزر نے مزید لاشیں ٹرک پر ڈال دیں جو پھر نامعلوم مقام کی طرف چلی گئیں۔

شام کے ڈیموکریٹک آفس کے میڈیا آفس کے سربراہ فرہاد شامی نے اے ایف پی کو بتایا کہ لاشوں کو دور دراز وقف شدہ علاقوں میں دفن کیا جائے گا۔

ایس ڈی ایف کے مطابق، جیل پر دوبارہ قبضے کے لیے آپریشن شروع ہونے کے بعد سے تقریباً ساڑھے تین ہزار قیدیوں اور داعش کے حملہ آوروں نے فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

اتوار کو شام کی ڈیموکریٹک فورسز نے آپریشن کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 10 دن کے طویل آپریشن کے بعد جیل کے اندر موجود داعش کے تمام شدت پسندوں کو شکست دے دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جیل میں داعش کے آخری ٹھکانے کو بھی ختم کردیا گیا ہے جس کے ساتھ ہی یہ آپریشن مکمل ہو گیا ہے۔

داعش کیشدت پسندوں نے 20 جنوری کو جیل پر دھاوا بولا تھا اور اب 10 دن بعد مقامی فورسز نے جیل کا کنٹرول دوبارہ سنبھال لیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment