جمعرات کو بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر میں حق دو تحریک بلوچستان کے زیر اہتمام اورماڑہ میں ہونے والے دھرنے میں بلوچستان حکومت کے وزیر برائے ماہی گیری اکبر آسکانی کے لیے چندہ اکٹھا کیا گیا۔
حق دو تحریک کے رہنماؤں نے محکمہ ماہی گیری کے وزیر اور اہلکاروں پر بعض سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر وزیر برائے ماہی گیری کو پیسوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے تو ماہی گیر ان کے لیے اس طرح چندہ اکٹھا کر کے بھیجا کریں گے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بلوچستان کے محکمہ ماہی گیری کے وزیر اکبر آسکانی نے حق دو تحریک کے رہنماؤں کی جانب سے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اپنے خلاف لگنے والے تمام الزامات کو مسترد کیا۔
دھرنے میں یہ چندہ کسی عام ڈبے یا چادر میں اکٹھا نہیں کیا گیا بلکہ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں جس ڈبے میں چندہ اکٹھا کیا گیا اس پر بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیر ماہیگیری وزیر اکبر آسکانی کا نام بھی تحریر تھا۔
دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حق دو تحریک بلوچستان کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ بلوچستان کے ماہی گیر ٹرالروں کے ذریعے غیر قانونی ماہی گیری کے باعث نانِ شبینہ کے محتاج ہو گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی سمندری حدود میں ٹرالروں کے ذریعے غیر قانونی ماہی گیری ختم نہ ہونے کی بڑی وجہ ان ٹرالروں سے مبینہ طور پر بھتہ خوری ہے۔
اُنھوں نے بھتہ خوری کا الزام محکمہ ماہی گیری کے وزیر اور محکمے کے اہلکاروں پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ بھتے لینے کے وجہ سے سندھ سے ٹرالر بلوچستان کی سمندری حدود میں آ کر یہاں کے مقامی ماہی گیروں کے روزگار اور معاش کو تباہ کر رہے ہیں۔
مولانا ہدایت الرحمان نے محکمے کے وزیر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’اگر ان کو پیسوں کی بہت ضرورت ہے تو وہ ٹرالروں سے بھتہ نہیں لیں بلکہ ماہی گیر ان کے لیے چندہ جمع کر کے اُن کی ضروریات کو پورا کریں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ماہی گیر جو چندہ جمع کریں گے وہ صوبائی وزیر کے گھر بھیجیں گے اور یہ ماہی گیروں کے حق حلال کی کمائی سے ہوں گے۔‘
مولانا ہدایت الرحمان اور سٹیج کے منتظمین نے جب وزیر برائے ماہی گیری کے لیے چندہ دینے کی درخواست کی تو وائرل ہونے والی ویڈیو میں بڑی تعداد میں لوگ ڈبے میں پیسے ڈالتے ہوئے دکھائی دیے۔
بلوچستان میں کسی بھی عوامی اجتماع میں کسی صوبائی وزیر کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کا اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ تھا۔